مائیک ہیسن نے بابراعظم پر اعتماد کا اظہار کردیا، جلد بڑے اسکورز کی پیشگوئی

ان کے کھیلنے کے انداز، گیپ میں شاٹ لگانے اور مثبت بیٹنگ اپروچ سے میں بے حد مطمئن ہوں۔مائیک ہیسن

لاہور:پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے قومی بیٹر بابر اعظم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں “تکنیکی طور پر بے حد مضبوط بیٹر” قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کہا کہ بابر کی فارم عارضی طور پر متاثر ضرور ہوئی ہے مگر ان کے کھیل میں کسی قسم کی کمی نہیں، بلکہ وہ جلد ایک بڑے اسکور کے ساتھ شاندار انداز میں واپسی کریں گے۔

بابر اعظم کی فارم پر کوچ کا اعتماد

جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں بابر اعظم کی کارکردگی اگرچہ توقعات کے مطابق نہیں رہی، تاہم مائیک ہیسن نے ان کے کھیل میں مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “بابر اعظم کے شاٹس، ان کا فوٹ ورک اور گیند کو کھیلنے کا انداز اب بھی اعلیٰ معیار کا ہے۔ وہ گیند کو درست وقت پر اور عمدہ رفتار سے کھیل رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “اگرچہ پچھلی سیریز میں ان کا اسکور کم رہا، مگر جو اعتماد اور نرمی ان کے کھیل میں نظر آئی، وہ ان کی کلاس اور تجربے کی علامت ہے۔”

 مائیک ہیسن

ہیڈ کوچ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بابر جلد اپنی خاموش بیٹ سے ایک بڑا بیان دیں گے۔
انہوں نے کہا،

“بابر ایک بڑے اسکور کے قریب ہیں۔ میں نے ان کے کھیل کا بغور مشاہدہ کیا ہے، ان کی بیٹنگ میں پختگی اور توازن ہے۔ اگرچہ ابھی وہ بڑے رنز نہیں بنا پائے، مگر ان کے کھیلنے کے انداز، گیپ میں شاٹ لگانے اور مثبت بیٹنگ اپروچ سے میں بے حد مطمئن ہوں۔”

مائیک ہیسن نے مزید کہا کہ “بابر نے ٹی ٹوئنٹی میں بھی بہترین کارکردگی دکھائی اور اب ون ڈے میں بھی وہ اچھی شروعات کر رہے ہیں۔ انہوں نے دباؤ کے لمحات میں خود کو سنبھالا اور جب ٹیم نے جلد وکٹیں کھو دیں، تب بھی انہوں نے ذمہ داری سے کھیل پیش کیا۔”

“فکر کی ضرورت نہیں، صرف ریتم پر فوکس کریں”

ہیڈ کوچ کے مطابق، بابر اعظم کو کسی قسم کی مایوسی یا بے چینی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
ان کے الفاظ میں،

“بابر کو اس بات پر زیادہ دھیان نہیں دینا چاہیے کہ وہ ہر اننگ کو بڑے رنز میں بدلیں۔ ان کا فوکس صرف بیٹنگ ریتم اور درست فیصلوں پر ہونا چاہیے۔”

انہوں نے بتایا کہ پہلے میچ میں پچ کی باؤنس کم تھی جس کا نقصان بابر کو اٹھانا پڑا، جبکہ تیسرے میچ میں وہ اچھی بیٹنگ کر رہے تھے لیکن بدقسمتی سے رن آؤٹ ہوگئے۔
ہیسن کا کہنا تھا کہ “بابر کی موجودہ فارم میں کوئی کمی نہیں، بس انہیں ایک بڑی اننگ درکار ہے جو سلسلہ وار بڑے اسکورز کی بنیاد بنائے گی۔”

سیریز کی کارکردگی اور آئندہ چیلنجز

اعداد و شمار کے مطابق، بابر اعظم نے جنوبی افریقہ کے خلاف 3 ون ڈے میچز میں مجموعی طور پر 45 رنز اسکور کیے، ان کی اوسط 15 اور اسٹرائیک ریٹ 78.94 رہا۔
اس کے باوجود پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی بار اپنے ملک میں ون ڈے سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کیا، جو ٹیم کے لیے ایک حوصلہ افزا پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔

اب بابر اعظم اور ٹیم پاکستان کا اگلا امتحان سری لنکا کے خلاف ہے، جس کی تین میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز 11 نومبر سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوگی۔

مائیک ہیسن کا بابر اعظم پر اعتماد ظاہر کرنا نہ صرف کھلاڑی کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ ٹیم کے اندرونی ماحول کے لیے بھی مثبت اشارہ ہے۔
گزشتہ چند ماہ سے بابر اعظم پر دباؤ بڑھا ہوا تھا۔ کبھی قیادت کے مسئلے پر، کبھی فارم کی تنقید پر لیکن ان کے کوچ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ اب بھی انہیں ٹیم کا “مرکزی ستون” سمجھتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بابر اعظم جیسے کلاس بیٹر کی عارضی ناکامی ان کی صلاحیتوں پر سوال نہیں اٹھا سکتی۔ دنیا کے تمام بڑے کھلاڑی وقتاً فوقتاً فارم کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ بابر ابھی بھی درست شاٹس کھیل رہے ہیں، ان کا فوٹ ورک پراعتماد ہے، اور وہ دباؤ کے لمحات میں پرسکون رہتے ہیں۔ جو ایک بڑے کھلاڑی کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

اگر وہ اپنی تکنیک پر یقین برقرار رکھیں تو جلد ہی وہ اس تنقیدی مرحلے سے نکل کر ایک بار پھر بڑے اسکورز کے ذریعے ناقدین کو خاموش کر دیں گے۔

عوامی رائے

کرکٹ مداحوں نے مائیک ہیسن کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔
کچھ شائقین نے کہا، “بابر اعظم اب بھی پاکستان کے سب سے بہترین بلے باز ہیں، انہیں صرف ایک بڑی اننگ کی ضرورت ہے تاکہ اعتماد بحال ہو جائے۔”
جبکہ کچھ نے مشورہ دیا کہ “بابر کو اپنی بیٹنگ میں تھوڑا زیادہ ایگریشن لانا چاہیے تاکہ وہ پاور پلے میں زیادہ رنز حاصل کر سکیں۔”

ایک فین نے لکھا، “جب مائیک ہیسن جیسے تجربہ کار کوچ بابر پر بھروسہ کر رہے ہیں تو ہمیں بھی ان پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے، کیونکہ کلاس کبھی زنگ نہیں کھاتی!”

متعلقہ خبریں

مقبول ترین