واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بڑے معاشی اعلان میں کہا ہے کہ امریکا کو تجارتی محصولات (ٹیرف) سے حاصل ہونے والی کھربوں ڈالر کی آمدنی کا ایک حصہ براہِ راست امریکی عوام میں ڈیویڈنڈ کی صورت میں تقسیم کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، ہر امریکی شہری کو کم از کم 2 ہزار ڈالر دیے جائیں گے، البتہ زیادہ آمدن والے افراد اس سکیم سے مستفید نہیں ہوں گے۔
یہ اعلان امریکی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے قبل کسی بھی امریکی صدر نے تجارتی محصولات سے حاصل آمدن کو براہِ راست عوام میں تقسیم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔
“ہم کھربوں کما رہے ہیں، اب عوام کو بھی حصہ ملے گا”
ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا“ہم ٹیرف سے کھربوں ڈالر حاصل کر رہے ہیں اور بہت جلد 37 کھرب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی بھی شروع کریں گے۔ ہر امریکی شہری کو (زیادہ آمدنی والوں کے علاوہ) کم از کم 2 ہزار ڈالر ادا کیے جائیں گے۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام امریکی عوام کے اعتماد کو بحال کرنے، معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کو واپس عوام تک پہنچانے کے لیے ایک “انقلابی قدم” ہے۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی عندیہ دیا کہ مستقبل میں ٹیرف آمدن کے ذریعے مزید سماجی و معاشی پالیسیوں کو بھی عوام کے مفاد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ میں ٹیرف پالیسی پر قانونی چیلنج
دوسری جانب، امریکی میڈیا کے مطابق، امریکی سپریم کورٹ اس وقت ٹرمپ کی جانب سے نافذ کردہ تجارتی ٹیرف پالیسی کے قانونی جواز کا جائزہ لے رہی ہے۔
یہ پالیسی چین سمیت کئی ممالک سے درآمدات پر بلند شرحِ محصولات نافذ کرنے سے متعلق ہے، جسے ٹرمپ انتظامیہ نے “امریکی معیشت کو خودمختار بنانے کا ہتھیار” قرار دیا تھا۔
تاہم، متعدد ماتحت عدالتیں ماضی میں اس پالیسی کے کچھ حصوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں، یہ مؤقف اپناتے ہوئے کہ صدر کے پاس “تجارتی اختیارات کی ایسی وسیع تفویض” آئینی طور پر درست نہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق، اگر سپریم کورٹ نے بھی اس پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا تو ٹرمپ حکومت کو ٹیرف آمدن کی تقسیم میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
ٹرمپ کا سابقہ اعلان اور اقتصادی منصوبہ
یاد رہے کہ اکتوبر میں ایک انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ امریکی عوام کو 1 سے 2 ہزار ڈالر دیے جائیں تاکہ ٹیرف سے حاصل آمدن براہِ راست لوگوں تک پہنچے۔
اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ان کی ٹیرف پالیسی کے نتیجے میں امریکا کو سالانہ ایک کھرب ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہو سکتی ہے، جو قومی بجٹ اور قرضوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ٹرمپ کا یہ موقف رہا ہے کہ امریکا کے سابقہ تجارتی معاہدے “غیر منصفانہ” تھے جن سے امریکی عوام اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ “ہم نے دوسروں کو اپنی معیشت لوٹنے دیا، مگر اب ہم اپنا پیسہ واپس لائیں گے اور اسے اپنے عوام میں تقسیم کریں گے۔”
ماہرین کا ردِعمل
اقتصادی ماہرین نے ٹرمپ کے اس اقدام کو غیر روایتی مگر عوام دوست فیصلہ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹیرف سے حاصل آمدن واقعی عوام میں تقسیم کی جاتی ہے تو یہ امریکی معیشت میں خریداری کی قوت بڑھانے اور مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، ناقدین کے مطابق، ٹیرف پالیسی سے درآمدی مصنوعات کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر ہی پڑتا ہے۔
کچھ ماہرین نے اسے ایک سیاسی حربہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد عوامی حمایت حاصل کرنا اور آئندہ انتخابات سے قبل ٹرمپ کے بیانیے کو مضبوط کرنا ہے۔
عوامی رائے
امریکی عوام میں اس فیصلے پر ملے جلے ردِعمل دیکھنے میں آئے ہیں۔
کئی شہریوں نے ٹرمپ کے اعلان کو سراہتے ہوئے کہا کہ “یہ پہلا موقع ہے جب کسی صدر نے تجارتی آمدن براہِ راست عوام کو دینے کا فیصلہ کیا ہے، یہ عوام کے لیے خوش آئند ہے۔”
جبکہ کچھ افراد کا کہنا تھا کہ “یہ محض انتخابی نعرہ ہے، 2 ہزار ڈالر کی تقسیم کا وعدہ حقیقت سے زیادہ سیاسی بیان لگتا ہے۔”
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا،“اگر واقعی کھربوں ڈالر جمع ہو چکے ہیں، تو قرض اتارنے کے بعد عوام کا حصہ کب ملے گا؟”
ٹرمپ کا اعلان بظاہر سیاسی اسمارٹ موو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجارتی محصولات کو عوام میں تقسیم کرنے کا فیصلہ امریکی معیشت کے لیے نیا تجربہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے قانونی اور معاشی اثرات ابھی غیر واضح ہیں۔
اگر سپریم کورٹ ٹیرف پالیسی کو قانونی جواز دے دیتی ہے تو ٹرمپ اس اعلان کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی نعرہ بنا سکتے ہیں، جو عام ووٹرز میں خاصا اثر ڈال سکتا ہے۔
دوسری طرف، اگر عدالت نے پالیسی کے خلاف فیصلہ دیا تو یہ اعلان صرف ایک سیاسی دعویٰ بن کر رہ جائے گا۔
تاہم ایک بات طے ہے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکی سیاست کا رخ بدلنے والا بیان دے کر سب کو حیران کر دیا ہے۔





















