ڈرونز کے استعمال سے حج کے دوران 3گھنٹے کا کام اب صرف 5منٹ میں ہوگا

یہ جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر ہنگامی طبی حالات میں کارآمد ثابت ہوگی اور عازمین کی زندگیوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرے گی

سعودی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ حج سیزن میں ادویات اور خون کے نمونوں کی منتقلی کے لیے جدید ڈرون سسٹمز استعمال کیے جائیں گے تاکہ طبی خدمات کو زیادہ تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔ وزارت کے مطابق، اس اقدام کا مقصد نہ صرف طبی عملے کی کارکردگی کو بڑھانا ہے بلکہ عازمینِ حج کی صحت کے تحفظ اور متعدی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام بھی ہے۔

وزیرِ صحت فہد الجلاجل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں میڈیکل سیمپلز یا دوائیں روایتی گاڑیوں کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے میں ڈیڑھ سے تین گھنٹے لگتے تھے، تاہم ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے یہ وقت صرف پانچ سے دس منٹ رہ جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر ہنگامی طبی حالات میں کارآمد ثابت ہوگی اور عازمین کی زندگیوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وزیرِ صحت نے عازمینِ حج کے لیے حفاظتی اقدامات پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، تمام حج کرنے والوں کے لیے گردن توڑ بخار (میننجائٹس) کی ویکسین لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ویکسین لگوانا ہر حاجی کے لیے ضروری ہے تاکہ متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ علاوہ ازیں، بعض ممالک کے عازمین کے لیے دیگر مخصوص ویکسینز بھی لازمی قرار دی گئی ہیں، لیکن ہر حاجی کے لیے میننجائٹس ویکسین لازمی ہے۔

سعودی وزارتِ صحت نے عازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ حج سے قبل اپنی ویکسینیشن کی تصدیق کریں اور تمام حفاظتی اقدامات پر عمل کریں۔ وزارت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے طبی خدمات میں تاخیر ختم ہوگی اور عازمین کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق، ڈرون سسٹمز کے استعمال سے نہ صرف میڈیکل سیمپلز کی فوری ترسیل ممکن ہوگی بلکہ ہنگامی طبی حالات میں زندگی بچانے والے اقدامات کی رفتار بھی بڑھ جائے گی۔ اس سے حج کے دوران ممکنہ وبائی خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور عازمین کا سفر محفوظ اور صحت مند ہو گا۔

یہ پیشرفت سعودی عرب کی صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک نمایاں مثال ہے اور دنیا بھر کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک رہنمائی ثابت ہو سکتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر صحت کی خدمات میں کس طرح انقلاب لایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، سعودی وزارتِ صحت کا یہ اقدام تین اہم پہلوؤں میں اہمیت رکھتا ہے:

وقت کی بچت اور ہنگامی رسپانس:
روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں ڈرون صرف چند منٹ میں میڈیکل سیمپلز پہنچا سکتے ہیں، جس سے ہنگامی طبی خدمات میں تاخیر ختم ہو جائے گی۔

متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا کنٹرول:
گردن توڑ بخار اور دیگر بیماریوں کے خلاف ویکسین کی لازمی شرط اور فوری میڈیکل نمونوں کی ترسیل وبائی خطرات کو کم کرے گی۔

صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال:
یہ اقدام سعودی عرب میں صحت کی خدمات کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز، محفوظ اور مؤثر بنانے کی واضح مثال ہے، جسے دنیا کے دیگر ممالک بھی اپنا سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے:

ڈاکٹر فہد بن عبد اللہ (صحت کے شعبے کے ماہر):
ڈاکٹر فہد کے مطابق، ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال حج کے دوران طبی خدمات کو تیز اور مؤثر بنانے میں انقلاب ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی طبی حالات میں وقت کی بچت عازمین کی جان بچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہر وبائی امراض ڈاکٹر عائشہ الغامدی:
ڈاکٹر عائشہ کا کہنا ہے کہ گردن توڑ بخار (میننجائٹس) جیسی متعدی بیماریوں کے خلاف ویکسین لازمی کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ یہ ویکسین نہ صرف فرد کو بلکہ پوری اجتماعی صحت کو محفوظ رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید ڈرون سسٹمز کے ذریعے ویکسین یا خون کے نمونے فوری پہنچانے سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہوگا۔

ٹیکنالوجی ماہر انجینئر ناصر الشمسی:
ناصر الشمسی کے مطابق، ڈرون کی مدد سے میڈیکل سیمپلز کی ترسیل میں پانچ سے دس منٹ کا وقت بہت اہم ہے، خاص طور پر ہنگامی حالات میں۔ یہ ٹیکنالوجی صحت کے شعبے میں جدت اور تیزرفتاری کا بہترین مظہر ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین