اسلام آباد :وفاقی دارالحکومت کے حساس ترین علاقے جی الیون میں قائم اسلام آباد کچہری کے باہر اچانک ہونے والے خوفناک دھماکے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ خودکش دھماکا تھا جس میں اب تک 12 افراد شہید جبکہ 21 زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اطراف کی عمارتوں کے شیشے چکناچور ہوگئے، گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور فضا میں چیخ و پکار گونج اٹھی۔
ذرائع کے مطابق یہ دھماکا بھارتی حمایت یافتہ اور افغان طالبان کی پراکسی تنظیم "فتنۃ الخوارج” کی کارروائی تھی، جس نے کچہری کے باہر خودکش حملہ کرکے ایک بار پھر ملک کے امن کو چیلنج کر دیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ کچہری کے مرکزی دروازے پر اچانک ایک شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے کے فوراً بعد ہر طرف دھواں پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے در و دیوار سے ٹکرا رہے تھے۔ جائے وقوعہ پر موجود افراد کے مطابق مبینہ خودکش بمبار کا سر سڑک پر پڑا ہوا ملا جسے پولیس نے قبضے میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کا ہدف کچہری کے اندر داخل ہو کر زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا، تاہم داخلی ناکے پر روکنے جانے پر اس نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ حملے کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔
دھماکے کے بعد ریسکیو 1122، ایدھی اور دیگر امدادی اداروں کی درجنوں ایمبولینسز موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی اور تمام ڈاکٹروں و نرسنگ اسٹاف کو طلب کر لیا۔ پولیس کے مطابق نو لاشیں پمز اسپتال منتقل کی جا چکی ہیں جبکہ چار زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری اور فورنزک ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد کچھ دیر کے لیے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فوری طور پر اسلام آباد کچہری پہنچے اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ “یہ ایک بزدلانہ حملہ ہے، ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔”
پمز اسپتال کے باہر شہداء کے لواحقین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ کئی لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر روتے دکھائی دیے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد دی جا سکے۔
دھماکے کے مقام پر پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور حساس ادارے موجود ہیں، جبکہ پورے شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں دھماکے میں اعلیٰ دھماکاخیز مواد کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں یہ خودکش دھماکا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اب بھی پاکستان کے امن و استحکام کو کمزور کرنے کی کوشش میں ہیں۔ “فتنۃ الخوارج” جیسی پراکسی تنظیموں کا نیٹ ورک اس خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ بھارتی حمایت اور افغان سرزمین سے سرگرم ان گروہوں کی موجودگی علاقائی امن کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
یہ واقعہ سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ کس طرح دارالحکومت جیسے محفوظ ترین علاقے میں دہشت گرد خودکش جیکٹ کے ساتھ پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ داخلی انٹیلی جنس نظام میں خامیاں اب بھی موجود ہیں جنہیں فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔
عوامی رائے
واقعے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ کچھ شہریوں نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ اگر دارالحکومت محفوظ نہیں تو ملک کے دیگر شہروں کی کیا حالت ہوگی؟ لوگ چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے اور ان کے سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جائے۔





















