نیند کے لیے استعمال ہونے والا عام سپلیمنٹ دل کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ

مطالعے میں 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد شامل کیے گئے جنہیں بے خوابی کا سامنا تھا

اسلام آباد :نیند نہ آنے یا بے خوابی سے نجات کے لیے دنیا بھر میں استعمال کیا جانے والا معروف سپلیمنٹ میلاٹونِن (Melatonin) اب ماہرینِ طب کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ طویل عرصے تک میلاٹونن کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر (دل کے ناکارہ ہونے) کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق وہ افراد جو کم از کم ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک میلاٹونِن استعمال کرتے رہے، ان میں یہ دوا نہ لینے والوں کے مقابلے میں دل کی خرابی کے امکانات تقریباً 90 فیصد زیادہ پائے گئے۔

 میلاٹونن کیا ہے اور کیوں استعمال ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق میلاٹونِن ایک قدرتی ہارمون ہے جو انسانی دماغ کے غدود (pineal gland) سے رات کے وقت خارج ہوتا ہے اور جسم کے نیند کے قدرتی نظام (sleep cycle) کو کنٹرول کرتا ہے۔
اس کا مصنوعی ورژن عام طور پر ان افراد کو دیا جاتا ہے جو بے خوابی (insomnia) یا جیٹ لیگ جیسی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

چونکہ یہ دوا اوور دی کاؤنٹر (OTC) دستیاب ہے، یعنی بغیر نسخے کے بھی خریدی جا سکتی ہے، اس لیے دنیا بھر میں لاکھوں افراد روزانہ کی بنیاد پر اس کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ میلاٹونن کے مختلف برانڈز مختلف طاقت (dosage) میں دستیاب ہیں، جس کی وجہ سے اس کے اثرات انسان سے انسان تک مختلف ہو سکتے ہیں — اور یہی فرق بعض اوقات خطرناک نتائج کا باعث بنتا ہے۔

 تحقیق کی تفصیلات

یہ تحقیق ایک معروف طبی جریدے میں شائع ہوئی، جس میں محققین نے پانچ سال کے عرصے پر محیط ایک بڑے ڈیٹا سیٹ کا تجزیہ کیا۔
مطالعے میں 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد شامل کیے گئے جنہیں بے خوابی کا سامنا تھا۔ ان میں سے کچھ افراد نے کم از کم ایک سال تک میلاٹونن استعمال کیا، جب کہ کچھ افراد نے علاج کے دوران اسے استعمال نہیں کیا۔

نتائج سے واضح ہوا کہ جن افراد نے 12 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک میلاٹونن کا استعمال جاری رکھا، ان میں دل کے پٹھوں کی کمزوری، ہارٹ فیلیئر، اور شریانوں کی بندش جیسے امراض کے امکانات دو گنا تک بڑھ گئے۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ میلاٹونن کا استعمال جسم کے اندر دل کے خلیوں میں برقی سگنلز کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کے افعال غیر معمولی ہو جاتے ہیں۔

 ماہرین کی تنبیہ

ماہرینِ امراضِ قلب نے اس تحقیق کے بعد عوام کو خبردار کیا ہے کہ نیند کے مسئلے کے لیے خود علاجی (self-medication) سے گریز کیا جائے۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے:

“اگرچہ میلاٹونن کو ایک محفوظ دوا سمجھا جاتا ہے، مگر اس کے طویل استعمال سے جسم کے اندرونی ہارمونل توازن بگڑ جاتا ہے، جو دل کی صحت پر سنگین اثر ڈال سکتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اس دوا کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جانا چاہیے، خاص طور پر ان افراد میں جنہیں پہلے سے دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر یا ذیابطیس ہے۔

ہارٹ فیلیئر کے خطرات کیسے بڑھتے ہیں؟

تحقیق کے مطابق میلاٹونن کا مسلسل استعمال جسم کے دل کے خلیات میں آکسیجن کی ترسیل کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خون کی روانی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس عمل سے وقت کے ساتھ دل کے پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں، جو بالآخر ہارٹ فیلیئر کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ اثرات خاص طور پر ان افراد میں زیادہ دیکھے گئے جو زیادہ مقدار (High Dose) میں میلاٹونن لے رہے تھے۔

یہ تحقیق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بظاہر معمولی دکھائی دینے والی دوائیں بھی طویل استعمال کے بعد سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔ میلاٹونن کو اکثر “قدرتی اور محفوظ” سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ نیند کے مصنوعی محرکات جسم کے ہارمونل نظام میں خلل ڈال سکتے ہیں۔

دوا ساز کمپنیاں اسے “بے ضرر” قرار دیتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک ہارمونل سپلیمنٹ ہے، جسے طویل عرصے تک استعمال کرنا جسم کے قدرتی توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مطالعہ صحت کے شعبے کے لیے ایک “جاگنے والی کال” (wake-up call) ہے، جو عوامی آگاہی اور میڈیکل ریگولیشن دونوں کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

 عوامی رائے

خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے حیرت اور تشویش کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے لکھا “ہم سمجھتے تھے یہ نیند میں مدد دیتا ہے، لیکن اب تو دل کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔”
ایک خاتون نے تبصرہ کیا: “ڈاکٹر سے پوچھے بغیر دوائیں لینا اب بند کر دوں گی۔”
جبکہ کچھ افراد نے کہا کہ “یہ تحقیق یقینی طور پر مزید تفصیلات کی متقاضی ہے، مگر احتیاط ہر حال میں بہتر ہے۔”

متعلقہ خبریں

مقبول ترین