بیجنگ:چین کے پہاڑی خطے تبت میں صدیوں پرانی ایک انگور کی بیل نے دنیا کی قدیم ترین بیل ہونے کا منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ گینیز ورلڈ ریکارڈز نے یہ اعلان باضابطہ طور پر کرتے ہوئے بتایا کہ اس نایاب بیل کی عمر 416 برس ہے، جس کے ساتھ اسے دنیا کی سب سے پرانی انگور کی بیل کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
یہ تاریخی بیل صوبہ سیچوان کے زوگینگ کاؤنٹی میں اس وقت دریافت ہوئی جب چینگڈو سٹی کے قدیم اور نایاب درختوں کا سروے جاری تھا۔ ماہرین کو ایک قدآور اور انتہائی مضبوط بیل نے اپنی جانب متوجہ کیا، جس کے بعد اس کا سائنسی معائنہ کرنے کے لیے اسے چین کی ساؤتھ ویسٹ فارسٹری یونیورسٹی کی ووڈ سائنس ریسرچ لیبارٹری بھیجا گیا۔
تحقیقی ماہرین نے بیل کی عمر معلوم کرنے کے لیے رِنگ انالسز اور مختلف طبعی تکنیکی پیمائشوں کا سہارا لیا۔ ان سائنسی مراحل سے گزرنے کے بعد ثابت ہوا کہ یہ انگور کی بیل مجموعی طور پر چار صدیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔
گینیز ورلڈ ریکارڈز نے ستمبر میں اس کے درست طور پر 416 سال پرانے ہونے کی تصدیق کی، اور یوں یہ بیل سرکاری سطح پر دنیا کی قدیم ترین انگور کی بیل کے طور پر درج ہو گئی۔
بیل کی ایک اور خصوصیت اس کا محلِ وقوع بھی ہے، جو سطحِ سمندر سے تقریباً 2400 میٹر بلند و بالا پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔ قدرتی ماحول نے اسے نہ صرف متاثر کن طور پر محفوظ رکھا بلکہ اس کی نمو کو بھی خاص انداز میں برقرار رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بیل تقریباً 26 فٹ بلند ہے جبکہ اس کی چوڑائی دو فٹ سے بھی زیادہ ہے، جو اس کی حیرت انگیز عمر اور مضبوط ساخت کا ثبوت ہے۔
416 سال پرانی بیل کا وجود اس بات کی واضح مثال ہے کہ قدرتی ماحول، مناسب درجہ حرارت، اوسط نمی اور انسانی مداخلت سے دور رہنے والی فطری نشوونما کس طرح ایک پودے کو صدیوں تک زندہ رکھ سکتی ہے۔ یہ دریافت نباتاتی دنیا کے لیے ایک قیمتی معلوماتی ذخیرہ فراہم کرتی ہے کیونکہ اتنی پرانی بیلیں عام طور پر تاریخ کے صفحات میں دکھائی دیتی ہیں، حقیقی زندگی میں نہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بیل نہ صرف نباتاتی تحقیق کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پودوں کی طویل العمری کے پیچھے کون سے فطری عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اس طرح کی دریافتیں ماحولیاتی تحفظ، زمین کی دیکھ بھال اور جنگلاتی بقا کے متعلق نئے سوالات اور نئی بحثوں کو بھی جنم دیتی ہیں۔
عوامی ردِعمل
اس تاریخی بیل کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین میں حیرت اور دلچسپی کی لہر دوڑ گئی۔ کچھ لوگ اسے فطرت کا "زندہ عجوبہ” قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے چین کے پہاڑی ماحول کی خوبصورتی اور قدرتی تحفظ کی بہترین مثال سمجھتے ہیں۔ بہت سے افراد نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس مقام کو محفوظ قرار دے کر ایک عالمی سیاحتی ورثہ بنایا جائے۔





















