بھارت کی سیاسی فضا اس وقت ایک بار پھر این ڈی اے کے نام سے گونج رہی ہے، کیونکہ بہار اسمبلی انتخابات کے غیر حتمی نتائج نے پورے ملک میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ 243 نشستوں پر مشتمل اسمبلی میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے جس واضح برتری کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے نہ صرف مخالفین کو حیران کیا بلکہ آئندہ ملکی سیاست کی سمت کا بھی اشارہ دے دیا ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق این ڈی اے 199 نشستوں پر مضبوط لیڈ کے ساتھ آگے ہے، حالانکہ حکومت بنانے کے لیے محض 122 نشستیں کافی ہوتی ہیں۔ یہ برتری نہ صرف واضح ہے بلکہ بی جے پی قیادت کا بڑھتا ہوا اعتماد بھی ظاہر کرتی ہے۔
بی جے پی 84 نشستوں پر آگے ہے اور اپنی پوزیشن کو پہلے سے زیادہ مستحکم دکھا رہی ہے۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جماعت جنتا دل (یونائیٹڈ) 78 نشستوں پر برتری کے ساتھ اپنی سیاسی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب نظر آرہی ہے۔ اس کے علاوہ چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی بھی 22 نشستوں پر میدان میں آگے ہے، جو مستقبل کی سیاسی صف بندی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن اتحاد مہاگٹھ بندھن صرف 50 نشستوں پر سبقت رکھے ہوئے ہے، جبکہ کانگریس جیسے بڑی پارٹی کے لیے یہ انتخابات خاصے مایوس کن ثابت ہوئے، کیونکہ وہ اب تک صرف 7 نشستیں حاصل کرسکی ہے۔ یہ نتائج اپوزیشن کی حکمتِ عملی پر کئی سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
اس سے پہلے وزیر داخلہ امیت شاہ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ این ڈی اے 160 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت سے حکومت قائم کرے گا، مگر ابتدائی نتائج اس پیش گوئی سے بھی کہیں آگے نکلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یونین منسٹر گری راج سنگھ کا کہنا ہے کہ بہار میں کامیابی کے بعد اب بی جے پی کا اگلا بڑا ہدف مغربی بنگال ہوگا، جو اس اتحاد کی آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کا واضح اشارہ ہے۔
ان نتائج کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آیا نتیش کمار مسلسل پانچویں مرتبہ وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر برقرار رہ سکیں گے یا اتحاد میں کوئی نئی سیاسی حکمتِ عملی سامنے آئے گی۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے فیصلہ کن پیش رفت متوقع ہے۔
انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے بہار کے بڑے چیلنجزبے روزگاری اور غربت—کو مرکزِ توجہ بنایا۔ بہار، اگرچہ 13 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ بھارت کی غریب ترین ریاست سمجھی جاتی ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے ستمبر میں یہاں 8 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرکے ووٹرز کو اپنی جانب مائل کیا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر این ڈی اے یہاں کامیابی سمیٹ لیتا ہے تو اس کا اثر مستقبل کی دیگر ریاستی سیاست پر بھی ضرور پڑے گا، خصوصاً ان ریاستوں میں جہاں بی جے پی اپنے قدم مزید مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
بہار کے اس انتخابی معرکے نے واضح کردیا ہے کہ مرکزی حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں اور بی جے پی کی جارحانہ مہم نے عوام پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ این ڈی اے کی زبردست برتری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہار کے ووٹرز نے معاشی مشکلات کے حل کے لیے دوبارہ مرکز نواز قیادت پر اعتماد کیا ہے۔
اپوزیشن، خصوصاً مہاگٹھ بندھن، اعلیٰ سطح کی مہم کے باوجود عوام کے بنیادی مسائل کا مؤثر حل پیش کرنے میں ناکام نظر آیا، جس کا خمیازہ اسے بھاری نقصان کی صورت میں اٹھانا پڑ رہا ہے۔
عوامی رائے (Public Opinion)
عام ووٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں روزگار، بنیادی سہولتوں اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے حقیقی بہتری کی امید ہے۔ کچھ شہریوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل برقرار ہیں، لیکن بی جے پی کا ترقی کا بیانیہ ان کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد محسوس ہوا۔
دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نتیش کمار کی کارکردگی ملا جلا تاثر رکھتی ہے، مگر بی جے پی کے ساتھ مل کر وہ بہار کے لیے بہتر ثابت ہوسکتے ہیں۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
اس انتخابی منظرنامے پر آپ کیا سوچتے ہیں؟ نیچے کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔





















