وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے حلف اٹھا لیا

تقریب میں اعلیٰ حکومتی و عسکری قیادت شریک ہوئی

اسلام آباد میں پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک اہم باب اس وقت رقم ہوا جب قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جسٹس امین الدین خان نے ملک کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ یہ تاریخی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی، جہاں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس امین الدین خان سے حلف لیا اور اس نئے عدالتی ادارے کا باضابطہ آغاز ہوا۔

تقریب میں اعلیٰ حکومتی و عسکری قیادت شریک ہوئی، جن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ساحر شمشاد، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نمایاں تھے۔ یہ تقریب نہ صرف ایک آئینی تقاضے کی تکمیل تھی بلکہ پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں ایک نئے باب کی شروعات بھی تصور کی جارہی ہے۔

دلچسپ امر یہ رہا کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی، صدر، وزیراعظم اور وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ ایک ساتھ ہال میں داخل ہوئے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس الگ وفد کی صورت میں پہنچے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سمیت اہم قانونی شخصیات بھی موجود تھیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے بھی تقریب میں شرکت کرکے اپنی موجودگی سے اس موقع کی اہمیت میں اضافہ کیا۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان بطور سربراہ وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد ہائیکورٹ کے روم نمبر ایک میں بیٹھیں گے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کو کورٹ روم نمبر دو میں منتقل کیا جائے گا۔ یہ تبدیلی آئینی عدالت کے باقاعدہ فعال ہونے کا عملی آغاز بھی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز بھی اپنے عہدوں پر فائز

پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کے تین نامزد ججز نے بھی حلف اٹھا کر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بلڈنگ میں منعقدہ اس تقریب میں چیف جسٹس امین الدین خان نے جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی سے حلف لیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر بھی اس موقع پر اسٹیج پر موجود تھے۔

تقریب میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے متعدد ججزincluding جسٹس ارباب طاہر، جسٹس خادم سومرو، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس—نے بھی شرکت کی۔
اس کے علاوہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز، متعدد لا افسران، اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور سیکرٹری منظور ججہ بھی مدعو تھے۔

البتہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چند ججز، جن میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس اعجاز اسحاق خان، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں، تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔

پاکستان کے عدالتی نظام میں وفاقی آئینی عدالت کا قیام ایک بڑے ڈھانچہ جاتی اصلاحی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس عدالت کا مقصد آئینی نوعیت کے مقدمات کو تیز تر اور خصوصی توجہ کے ساتھ نمٹانا ہوگا، جس سے سپریم کورٹ پر موجود دباؤ بھی کم ہوسکتا ہے۔
جسٹس امین الدین خان کا بطور سربراہ کردار انتہائی اہم ہوگا، کیونکہ یہ عدالت ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کی فعالیت، اختیار اور طریقہ کار کا تصور اسی قیادت کے تحت واضح ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت اور ریاستی اداروں کی اس سطح پر شرکت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ملکی سطح پر عدالتی اصلاحات کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے کی خواہش موجود ہے۔ البتہ مستقبل میں اس عدالت کے فیصلے ہی اس کے اثرات کا حقیقی تعین کریں گے۔

عوامی رائے (Public Opinion)

عوامی حلقوں میں اس پیش رفت کے حوالے سے ملی جلی رائے پائی جا رہی ہے۔ کچھ افراد اسے عدالتی نظام میں بہتری کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ نئے عدالتی فورم کے قیام کو اختیارات کی تقسیم کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس عدالت کے قیام سے مقدمات کے فیصلوں میں تیزی آتی ہے اور آئینی معاملات زیادہ شفاف انداز میں نمٹتے ہیں تو یہ فیصلہ ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
جبکہ ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آیا نئی عدالت کے قیام سے عدالتی نظام میں پیچیدگیاں تو نہیں بڑھ جائیں گی۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور ججز کی حلف برداری کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین