وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات، احسن اقبال، نے حال ہی میں اعلان کیا کہ پاکستان چین اور امریکا سے مجموعی طور پر 20 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس حاصل کرنے کا خواہاں ہے، تاکہ ملک میں علم اور تحقیق کی بنیاد مضبوط ہو اور انسانی وسائل کو عالمی معیار تک پہنچایا جا سکے۔ ان اسکالرشپس میں دونوں ممالک سے 10، 10 ہزار پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹس کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ حکومت پاکستانی جامعات کی عالمی سطح پر درجہ بندی کے لیے 7 نکاتی جامع فریم ورک تیار کر رہی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ملک کے تعلیمی ادارے معیار اور تحقیق کے لحاظ سے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں اور نوجوان نسل کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، جسے جدید علمی تربیت اور ہنر کی بنیاد پر ترقی دی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبادی کے تیزی سے بڑھنے کو بھی کنٹرول کرنا ضروری ہے، کیونکہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو 2047 تک پاکستان کی آبادی 38 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، جب ملک اپنی سوویں سالگرہ منائے گا۔
احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت نے چین سے درخواست کی ہے کہ وہ اگلے 10 سالوں میں اپنے بہترین تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ اور دیگر ابھرتے ہوئے سائنسی شعبوں میں 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس پاکستان کے طلبہ کے لیے مختص کرے۔ اسی طرح امریکا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں سے بھی 10 ہزار اسکالرشپس حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کے معاشی اشاریے بہتری کی طرف گامزن ہیں، مگر ملک موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا شکار رہا ہے، جیسا کہ 2022 اور 2025 میں ہونے والے تباہ کن سیلابوں سے ظاہر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ سیلاب سے 2022 کے مقابلے میں نقصان کم ہوا، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب پنجاب کو 1988 کے بعد اتنے شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے زور دیا کہ سرکاری اداروں خصوصاً این ڈی ایم اے کی بروقت اور مربوط کوششوں، انخلا کی کارروائیوں اور پیشگی منصوبہ بندی نے نہ صرف لوگوں کے روزگار کو محفوظ بنایا بلکہ معیشت کی بحالی اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان اقدامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے مضبوط عزم اور لچکدار معیشت کے ذریعے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
ماہرین کی رائے
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ انہیں جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر فرحت ناز، جو اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی پالیسیز کی ماہر ہیں، کے مطابق:
"پاکستان کے پاس نوجوانوں کی ایک بڑی طاقت ہے، لیکن اگر انہیں عالمی معیار کی تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو یہ طاقت ضائع ہو سکتی ہے۔ 20 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے قابل بنائیں گی اور ملک میں علم پر مبنی معیشت کو فروغ دیں گی۔”
ماہر اقتصادیات، ڈاکٹر جاوید اختر، نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا:
"تعلیمی سرمایہ کاری صرف مستقبل کے کاروباری یا تکنیکی فوائد کے لیے نہیں بلکہ یہ ملک کی معاشی ترقی اور پائیدار ترقی کی بنیاد بھی ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف انسانی وسائل کو مضبوط کریں گے بلکہ پاکستان کی معیشت میں نئی تخلیقی صلاحیتیں بھی لائیں گے۔”
ماحولیاتی ماہرین نے بھی وزیر کے تبصرے کی حمایت کی، کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باوجود ملک نے سیلاب کے نقصان کو محدود کیا۔ ڈاکٹر سارہ حسین کے مطابق:
"این ڈی ایم اے کی بروقت کارروائیاں اور مربوط منصوبہ بندی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اب قدرتی آفات کے خطرات کے لیے بہتر تیار ہے۔ تعلیم اور تکنیکی مہارتیں بھی اسی طرح قوم کی لچک اور بقاء میں اضافہ کریں گی۔”





















