راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ون ڈے میچ ایک شاندار مقابلے کے بعد پاکستان کے نام رہا، جہاں بابراعظم نے نہ صرف دو سال سے زائد عرصے بعد سنچری بنا کر شاندار کم بیک کیا بلکہ ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کے لیے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بھی برابر کردیا۔
پاکستان نے بابر کی شاندار بلے بازی کی بدولت سری لنکا کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو 289 رنز کا ہدف دیا، جس کے تعاقب میں قومی ٹیم کے اوپنرز فخر زمان اور صائم ایوب نے 77 رنز کی شاندار شراکت کے ساتھ بہترین آغاز فراہم کیا۔ صائم ایوب نے 33 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو مضبوط بنیاد دی۔
صائم کے آؤٹ ہونے کے بعد فخر زمان کے ساتھ بابراعظم نے اننگز کو مزید مضبوط کیا اور دونوں نے مل کر 100 رنز کی اہم پارٹنرشپ قائم کی۔ فخر زمان 78 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، لیکن اس دوران میچ کا توازن واضح طور پر پاکستان کے حق میں جھک چکا تھا۔
بابراعظم نے انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں بیٹنگ جاری رکھی اور محمد رضوان کے ساتھ مل کر ہدف کے تعاقب کو باآسانی آگے بڑھایا۔ رضوان نے بھی نصف سنچری اسکور کی، جبکہ بابر نے اپنی سنچری مکمل کرکے طویل عرصے کی خاموشی توڑ دی۔
یہ بابر کی وہ بڑی اننگز تھی جو انہوں نے 30 اگست 2023 کو نیپال کے خلاف 151 رنز بنانے کے بعد پہلی بار کھیلی۔ گزشتہ دو سال میں وہ کئی نصف سنچریاں ضرور بنا چکے تھے مگر سنچری بنانے میں ناکام رہے تھے۔
بابر اعظم نے سری لنکا کے خلاف 119 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 102 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ون ڈے کیریئر کی 20 ویں سنچری مکمل کی، جس کے ساتھ انہوں نے پاکستان کی جانب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا سعید انور کا ریکارڈ برابر کردیا۔
بابر نے محض 139 میچوں کی 136 اننگز میں یہ سنگِ میل عبور کیا ہے۔ ان کے کیریئر میں اب تک 37 نصف سنچریاں اور کل 6467 رنز شامل ہیں، جو وہ 53.89 کی اوسط سے بنا چکے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ون ڈے میں سب سے زیادہ سنچریوں کا مشترکہ ریکارڈ اب بابر اعظم اور سعید انور کے پاس ہے۔
مزید اعداد و شمار کے مطابق:
-
محمد یوسف 15 سنچریوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر
-
فخر زمان اور محمد حفیظ 11 سنچریاں لے کر تیسرے نمبر پر
-
اعجاز احمد اور انضمام الحق 10 سنچریوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔
اگر مجموعی رنز کی بات کی جائے تو پاکستان کے لیے ون ڈے میں سب سے زیادہ رنز انضمام الحق نے بنائے ہیں، محمد یوسف دوسرے، سعید انور تیسرے، شاہد آفریدی چوتھے اور شعیب ملک پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔
سیریز کے سلسلے میں پاکستان نے پہلے ون ڈے میں سری لنکا کو 6 رنز سے شکست دی تھی، جبکہ دوسرے میچ میں 8 وکٹوں کی بڑی فتح کے ساتھ تین میچوں کی سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
بابر اعظم کی یہ سنچری نہ صرف ان کی فارم کی بحالی کا اعلان ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ اب بھی پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کے سب سے مضبوط ستون ہیں۔ دو سال تک سنچری نہ کرنے کے بعد اس انداز میں کم بیک کرنا نہ صرف ان کی ذہنی مضبوطی کا ثبوت ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بڑے مقابلوں میں بہترین کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بابر اعظم کی اننگز نے واضح کردیا کہ اگر اعتماد بحال ہو تو وہ اب بھی دنیا کے بہترین ون ڈے بلے بازوں میں شامل ہیں۔ سیریز میں پاکستان کی مسلسل دو فتوحات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیم کا کمبی نیشن بہتر ہو رہا ہے اور نوجوان بیٹسمین بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔
عوامی رائے (Public Opinion)
شائقینِ کرکٹ نے بابر اعظم کی سنچری کو ’’کلاس کی واپسی‘‘ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اُن کی بھرپور تعریف کی۔
کئی مداحوں نے کہا کہ بابر اعظم پر کی گئی تنقید کا بہترین جواب انہوں نے میدان میں اپنی کارکردگی سے دیا۔
بعض شہریوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا بابر اعظم کو دوبارہ کپتانی کی ذمہ داری دی جانی چاہیے، کیونکہ ان کا ریکارڈ بطور بلے باز اور بطور لیڈر دونوں میں متاثر کن رہا ہے۔
دوسری جانب کچھ کرکٹ فینز نے فخر زمان اور محمد رضوان کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان کی ٹاپ آرڈر ایک بار پھر مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بابر اعظم اپنی سنچریوں کے نئے ریکارڈ بھی توڑ سکتے ہیں؟
نیچے کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔





















