مدینہ منورہ میں بھارتی عمرہ زائرین کی بس آئل ٹینکر سے ٹکراگئی، 42 افراد جاں بحق

بھارتی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر کنٹرول روم قائم کر لیے ہیں اور لاشوں کی واپسی کا بندوبست کر رہی ہے

حیدرآباد/ریاض: سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ کے قریب ایک دل دہلا دینے والے حادثے نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 42 عمرہ زائرین سمیت کم از کم 45 افراد کی ہلاکت کی خبر نے خاندانوں کو سوگ میں ڈبو دیا ہے۔ یہ بس، جو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جارہی تھی، ایک ڈیزل ٹینکر سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دونوں گاڑیوں میں شدید آگ لگ گئی۔ یہ حادثہ پیر کی صبح تقریباً 1:30 بجے (بھارتی وقت) پیش آیا، جب زائرین تھکاوٹ کی وجہ سے سو رہے تھے۔ سعودی حکام امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ بھارتی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر کنٹرول روم قائم کر لیے ہیں اور لاشوں کی واپسی کا بندوبست کر رہی ہے۔

حادثے کی تفصیلات: آگ کا طوفان اور تباہی کی لہر
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ بس حیدرآباد سے 9 نومبر کو روانہ ہونے والے 54 افراد کے گروپ کا حصہ تھی، جو 23 نومبر تک سعودی عرب میں عمرہ ادا کرنے کے لیے آئے تھے۔ بس میں سوار 42 سے 46 زائرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جن میں سے کم از کم 16 کا تعلق حیدرآباد کے بازار گیٹ علاقے سے تھا۔ حادثہ مدینہ سے تقریباً 27 کلومیٹر دور مفرحات (Mufrihat) علاقے میں پیش آیا، جہاں بس اور ٹینکر کی سامنے سے سامنے ٹکراؤ ہوا۔
سعودی جرمن ہسپتال کے مطابق، صرف ایک شخص، 24 سالہ محمد عبدال شوائب، زندہ بچا جو بس کے ڈرائیور کے قریب بیٹھا تھا۔ وہ شدید زخمی حالت میں آئی سی یو میں زیر علاج ہے اور اس نے بتایا کہ "آگ اتنی تیزی سے پھیل گئی کہ سب کچھ چند سیکنڈز میں ختم ہو گیا۔” لاشوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی شناخت جاری ہے۔ سعودی سول ڈیفنس اور ایمبولینس سروسز نے فوری امداد پہنچائی، لیکن آگ کی شدت نے بچاؤ کے کاموں کو مشکل بنا دیا۔

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریوانتھ ریڈی نے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کرنے کا حکم دیا اور وزارت خارجہ سے رابطہ کیا۔ صحت وزیر دامودر راج نرسمہا نے کہا کہ ریاست متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے تیار ہے، بشمول شناخت اور لاشوں کی واپسی۔ حیدرآباد پولیس کمشنر وی سی سججنار نے تصدیق کی کہ 45 ہلاکتیں ہوئیں اور ایک زندہ بچا۔

تجزیہ: سعودی ہائی ویز پر حادثات کی وجوہات اور خدشات
یہ حادثہ سعودی عرب کی سڑکوں پر ہونے والے حادثات کی ایک اور مثال ہے، جو خاص طور پر حج اور عمرہ سیزن میں شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، مکہ-مدینہ ہائی وے دنیا کے سب سے خطرناک راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں 2023 میں اکیلے 7,686 سڑک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں ہزاروں ہلاک ہوئے۔ اس ہائی وے پر زائرین کی بڑھتی تعداد، رات کے وقت ڈرائیونگ، اور ٹریفک کی کثرت وجوہات ہیں۔
سعودی روڈ سیفٹی ایکسپرٹ ڈاکٹر عبداللہ الغامدی، جو کنگ سعود یونیورسٹی میں ٹریفک انجینئرنگ کے پروفیسر ہیں، نے عرب نیوز کو بتایا: "سعودی سڑکیں بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے جدید ہیں، لیکن ڈرائیوروں کی تربیت اور نگرانی کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ عمرہ زائرین کی بسوں کو الگ لینز اور خصوصی نگرانی کی ضرورت ہے، کیونکہ تھکاوٹ اور نیند حادثات کا 40 فیصد سبب بنتی ہے۔” ایک حالیہ مطالعہ کے مطابق، سعودی عرب میں سڑک حادثات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جہاں 25 سالہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 70 فیصد حادثات تیز رفتاری اور لاپرواہی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

بھارتی ماہرِ ٹریفک، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹرانسپورٹیشن اینڈ پلاننگ کے ڈائریکٹر پروفیسر راجیش کمار، نے بتایا: "یہ حادثہ زائرین کی ٹرانسپورٹ کی حفاظت پر سوال اٹھاتا ہے۔ بھارتی ٹور آپریٹرز کو سعودی قوانین کی مکمل تعمیل یقینی بنانی چاہیے، جیسے فائر پروف بسز اور ریسٹ بریکس۔ حکومت کو دو طرفہ معاہدے مضبوط کرنے چاہییں تاکہ ایسے سانحات کی روک تھام ہو۔” مزید برآں، سعودی عرب کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ حادثے کی تحقیقات کرے گی اور زائرین کی بسوں کے لیے نئی حفاظتی ہدایات جاری کرے گی۔

ماہرین کی رائے: حفاظت کے اقدامات اور مستقبل کی تدابیر
سڑک حفاظت کے عالمی ماہر، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مشرق وسطیٰ علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد المنصور نے ایک حالیہ کانفرنس میں کہا: "سعودی عرب کو ‘ڈیکیڈ آف ایکشن فار روڈ سیفٹی’ کے تحت ڈرائیور ٹریننگ، ہائی وے مانیٹرنگ، اور ایمرجنسی رسپانس کو بہتر بنانا ہوگا۔ حج اور عمرہ جیسے مواقع پر حادثات 30 فیصد بڑھ جاتے ہیں، اس لیے سمارٹ ٹریفک سسٹم متعارف کروائے جائیں۔”بھارتی وزارتِ سیاحت کے مشیر، سراج الدین، نے تجویز دی: "عمرہ پیکجز میں حفاظتی انشورنس اور GPS ٹریکنگ لازمی ہو، اور زائرین کو رات کی ڈرائیونگ سے روکا جائے۔ یہ سانحہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ مذہبی سفر بھی حفاظت کے بغیر ادھورا ہے۔”

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین