ریاض:سعودی وزارتِ صحت نے آئندہ حج (1447ھ/2025ء) کی ادائیگی کو مزید محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے کچھ خاص طبی حالتوں کے حامل افراد کے لیے عارضی پابندی کا اعلان کیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد لاکھوں عازمین کی صحت و سلامتی کا تحفظ اور وبائی امراض سے بچاؤ ہے۔
وہ طبی حالتیں جن میں حج کی اجازت نہیں ہوگی:
دائمی امراض جن سے شدید کمزوری لاحق ہو:
گردوں کی ایسی خرابی جس میں باقاعدہ ڈائیلاسس درکار ہو
دل کے وہ امراض جن میں معمولی مشقت بھی برداشت نہ کی جا سکے
دائمی پھیپھڑوں کی بیماریاں جن میں وقفے وقفے سے یا مسلسل آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہو
جگر کی انتہائی خرابی یا ایڈوانسڈ سیروسس
دماغی و اعصابی امراض اور شدید معذوری:
ڈیمنشیا، الزائمر، یادداشت کا مکمل ختم ہونا
شدید جسمانی معذوری یا ہاتھ پاؤں میں غیر قابو والی لرزش (ایسی جو روزمرہ کاموں میں رکاوٹ بنے)
حمل کے آخری مہینوں میں حاملہ خواتین یا وہ جنہیں حمل کی پیچیدگیاں لاحق ہوں
متعدی امراض جو دوسروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں:
کالی کھانسی (پرٹوسس)
اوپن پلمونری تپِ دق (فعال ٹی بی)
وائرل ہیمرجک فیور اور اس جیسی سنگین متعدی بیماریاں
کینسر کے مریض:
آخری مراحل کا کینسر
وہ مریض جو فی الوقت کیموتھراپی، بائیولوجیکل تھراپی یا ریڈی ایشن تھراپی لے رہے ہوں
اہم ہدایات برائے پاکستانی عازمین
پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور نے تمام ڈاکٹروں سے گزارش کی ہے کہ:
طبی سرٹیفکیٹس انتہائی احتیاط اور مکمل معائنے کے بعد ہی جاری کیے جائیں
اگر کوئی عازم اپنی صحت کی درست حالت چھپاتا ہے اور بعد میں پتہ چلتا ہے تو سعودی حکام اسے اپنے خرچ پر واپس بھیج سکتے ہیں، اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے
حج کیمپوں میں موجود میڈیکل ٹیمیں اور سعودی عرب کے داخلی/خارجی مقامات پر تعینات مانیٹرنگ ٹیمیں فٹنس سرٹیفکیٹس کی سختی سے جانچ کریں گی۔ ویکسینیشن کے دوران بھی اگر مذکورہ بالا کوئی بیماری سامنے آئی تو متعلقہ عازم کو سفر سے روک دیا جائے گا۔
ڈاکٹرز کی عمومی مشورہ: سعودی وزارتِ صحت اور عالمی ادارہِ صحت (WHO) سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی دائمی بیماریوں (جیسے گردوں کی خرابی، دل کے امراض، کینسر کے آخری مراحل) اور متعدی وائرسز (مثلاً ٹی بی، کالی کھانسی) سے ہونے والے خطرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، حج جیسے بڑے اجتماعات میں شدید گرمی اور رش کی وجہ سے ہر سال ہزاروں کیسز سامنے آتے ہیں، اور یہ معیار انہیں روک سکتا ہے۔ ماہرین زور دیتے ہیں کہ عازمین کو ویکسینیشن، فٹنس ٹیسٹس اور ذہنی تیاری پر توجہ دینی چاہیے تاکہ حج کی ادائیگی آرام دہ ہو۔
پاکستانی ڈاکٹروں کا نقطہِ نظر: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے ماہرین، جیسے ڈاکٹر احمد ندیم، کا کہنا ہے کہ "یہ پابندی مایوس کن لگ سکتی ہے، لیکن یہ عازمین کی جان بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔ ڈائیلاسس یا آکسیجن پر منحصر مریضوں کے لیے حج کا سفر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔” وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ڈاکٹرز صرف مکمل جانچ کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کریں، ورنہ قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے ترجمان: وزارت کے ترجمان نے بیان دیا کہ "یہ اقدامات حج کو محفوظ بنانے کے لیے ہیں، تاکہ ہر عازم اپنی عبادت پر مرکوز رہے نہ کہ صحت مسائل پر۔” ماہرینِ حج، جیسے سعودی حج کانفرنس کے شرکاء، کا خیال ہے کہ یہ پابندیوں سے بچوں اور بوڑھوں کی حفاظت ہو گی، جو گزشتہ سالوں میں ہلاکتیں کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی۔ ایک کانفرنس میں 80 سے زائد ماہرین نے اسے "حج کی معیار کو بلند کرنے والا” قرار دیا، جہاں AI ٹیکنالوجی اور طبی سہولیات کو بڑھانے پر زور دیا گیا۔





















