سپریم کورٹ: ہائی کورٹ کا چیمبر فیصلہ کالعدم قرار، کیس دو ماہ میں نمٹانے کی ہدایت

ارے بھائی، ہمارے پاس تو ویسے بھی اب کھونے کو کچھ نہیں بچا۔جسٹس ہاشم کاکڑ

سپریم کورٹ میں ایک اہم فوجداری اپیل کی سماعت کے دوران ایسا دلچسپ مکالمہ ہوا کہ کمرۂ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے دورانِ سماعت ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر ملک جمیل ظفر کی موجودگی پر ہلکے پھلکے انداز میں ایسا جملہ کہا کہ ماحول یکدم سنجیدگی سے خوشگواریت میں بدل گیا۔

سپریم کورٹ میں فیصل آباد کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے ایک پولیس افسر کے خلاف دی گئی آبزرویشنز کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ دو رکنی بینچ جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس کی کارروائی کی نگرانی کی۔

اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر ملک جمیل ظفر عدالت میں موجود تھے، جبکہ ان کی نمائندگی معروف وکیل شاہ خاور کر رہے تھے۔ شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ فیصل آباد کی ایک ٹرائل کورٹ میں فوجداری مقدمہ زیرِ سماعت تھا، جہاں ٹرائل کورٹ نے گواہوں کی عدم پیشی پر پولیس افسر کے خلاف سخت آبزرویشنز دی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے موکل ایس پی کے عہدے پر تھے اور ان کے خلاف یہ Remarks غیر ضروری اور غیر منصفانہ تھے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس میں کہا کہ ’’صرف لوگوں کو جیل میں ڈالنا ہی مقصد نہیں ہوتا، عدالتوں میں گواہ پیش کرنا بھی پولیس کی ذمہ داری ہے۔ ٹرائل کورٹ کے جج خود جا کر تو گواہ نہیں لا سکتے تھے۔‘‘

اسی دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے مسکراتے ہوئے وکیل سے سوال کیا
’’شاہ خاور صاحب! یہ پولیس والا جو آپ کے ساتھ کھڑا ہے، کیا یہی ڈی آئی جی ہیں؟‘‘
شاہ خاور نے جواب دیا: ’’جی می لارڈ یہی ہیں۔‘‘

یہ سنتے ہی جسٹس ہاشم کاکڑ نے ہنستے ہوئے کہا’’یہ دیکھیں! یہ یہاں کھڑا ہمیں ڈرا رہا ہے… ارے بھائی، ہمارے پاس تو ویسے بھی اب کھونے کو کچھ نہیں بچا۔‘‘

عدالتی ہال میں اس جملے پر زبردست قہقہے گونج اٹھے اور ماحول چند لمحوں کے لیے خوشگوار ہوگیا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے معاملے کی قانونی حیثیت پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے پولیس افسر کے خلاف دی گئی آبزرویشنز کو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے چیمبر میں برقرار رکھا تھا، جو طریقہ کار کے مطابق درست نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل کو دوبارہ بحال کردیا اور ہدایت دی کہ لاہور ہائی کورٹ دو ماہ کے اندر کیس کا میرٹ پر فیصلہ کرے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ بغیر سنے فیصلہ دے دیا گیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ فریقین کو مکمل سننا عدالتی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔

سپریم کورٹ کے اس دورانِ سماعت مکالمے نے نہ صرف عدالتی ماحول کی انسانی پہلو کو نمایاں کیا بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ سنجیدہ اور پیچیدہ مقدمات کے دوران بھی جج صاحبان ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کرکے صورت حال کو غیر ضروری کشیدگی سے بچا لیتے ہیں۔

قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عدالتِ عظمیٰ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے واضح کردیا کہ سنگین نوعیت کے مقدمات میں یک طرفہ کارروائی یا بغیر سماعت فیصلے آئین اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔
علاوہ ازیں ٹرائل کورٹ کی آبزرویشنز کے اثرات—خصوصاً پولیس افسران کے کیریئر پر—عدالت نے سنجیدگی سے لیے اور ہدایت دی کہ معاملے کو مکمل شفافیت کے ساتھ دوبارہ سنا جائے۔

یہ فیصلہ نہ صرف پولیس افسر کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل کے مقدمات میں بھی یہ مثال قائم کرے گا کہ عدالتیں Remarks دینے سے پہلے ٹھوس بنیادوں کا جائزہ لیتی ہیں۔

عوامی رائے (Public Opinion)

سوشل میڈیا پر جسٹس ہاشم کاکڑ کے مزاحیہ جملے کو بھرپور پسند کیا گیا اور صارفین نے کہا کہ ’’ججز بھی انسان ہوتے ہیں، اور انہیں اس طرح کا دوستانہ ماحول بناتے دیکھ کر اچھا لگتا ہے‘‘۔
کئی شہریوں نے عدالت کے فیصلے کو انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق قرار دیا، جبکہ کچھ لوگوں نے ٹرائل کورٹ کے سخت رویے پر سوالات اٹھائے۔

کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر گواہ پیش کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، تو ٹرائل کورٹ کا دباؤ جائز تھا‘‘ جبکہ دوسرے طبقے نے قرار دیا کہ ’’پولیس افسران کے خلاف آبزرویشنز بغیر ثبوت کے نہیں دی جانی چاہئیں‘‘۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ٹرائل کورٹ کی آبزرویشنز درست تھیں یا سپریم کورٹ کا فیصلہ زیادہ مناسب ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین