لاہور ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ صرف میو ہسپتال لاہور نے گزشتہ 14 ماہ میں کتے کے کاٹنے سے زخمی ہونے والے 1796 سے زائد مریضوں کو ایمرجنسی میں داخل کیا اور ان کا علاج کیا۔ ان مریضوں میں معصوم بچے بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔ یہ حیران کن اعداد و شمار ہسپتال کے ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں سامنے آئے۔
یہ کیس ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر سلمان کاظمی کی درخواست پر زیرِ سماعت ہے، جنہوں نے آوارہ کتوں کی بے لگام بڑھتی ہوئی تعداد اور پنجاب بھر میں ریبیز ویکسین کی شدید قلت کے خلاف فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔
جسٹس خالد اسحٰق نے سماعت کے دوران گہری تشویش ظاہر کی اور کہا جانوروں کے حقوق تو تسلیم کیے جاتے ہیں، لیکن ہم اپنے بچوں کو سڑکوں پر کتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔
درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ لاہور کے کئی علاقوں میں صورتِ حال اس قدر خوفناک ہو چکی ہے کہ بچے گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ 2021 کی اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی، جس میں آوارہ کتوں کو مارنے پر مکمل پابندی ہے، اب عوامی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے اور اسے فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔
وکیل نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ:تمام سرکاری ہسپتالوں میں ریبیز کا مفت علاج یقینی بنایا جائے ،پنجاب بھر میں کتے کے کاٹنے کے واقعات، ریبیز سے ہونے والی اموات اور ویکسین کے موجودہ ذخائر کی جامع رپورٹ تیار کی جائے
مارچ 2025 میں لاہور ہائی کورٹ کے جاری کردہ اس حکمِ امتناع کو معطل کیا جائے جو کتوں کو مارنے پر پابندی لگاتا ہے
عدالت نے تمام متعلقہ محکموں کو اگلی سماعت پر تفصیلی رپورٹس جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
پاکستان میں ریبیز ایک "غریبوں کی بیماری” کہلاتی ہے، جو سالانہ 5,000 سے زائد اموات کا سبب بنتی ہے، اور پنجاب میں 40,000 سے زائد کتے کے کاٹنے کے کیسز ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (UVAS) لاہور کے پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحمٰن، جو ریبیز کے ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ "حکومت کو کتے کے کاٹنے کی روک تھام پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے، کیونکہ صرف 3 بڑے سینٹرز (لاہور، ملتان، راولپنڈی) دستیاب ہیں، جبکہ ملک بھر میں 2 لاکھ سے زائد کیسز ہوتے ہیں۔” وہ عوامی آگاہی کی کمی کو بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں، جہاں لوگ اکثر جعلی علاج یا حکیموں کے پاس جاتے ہیں، جو اموات کو بڑھاتا ہے۔
ڈاکٹر نسیم صلاح الدین، انڈس ہسپتال کی انفیکشیئس ڈیزیز ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ، پنجاب میں ریبیز ویکسین کی شدید قلت پر تنقید کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، "80 فیصد سے زائد سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں، جو بچوں کی اموات کا سبب بن رہی ہے۔ COVID-19 کی وجہ سے لاک ڈاؤن نے آوارہ کتوں کی نگرانی مزید مشکل بنا دی، اور اب 8 لاکھ ڈوز کی کمی ہے۔” وہ زور دیتی ہیں کہ فوری امداد اور ویکسین کی فراہمی بغیر تاخیر کے یقینی بنائی جائے، ورنہ یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔
ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی، UVAS لاہور کی ڈین اور سوسائٹی فار انسداد بے رحمی حیوانات (SPCA) کی سیکرٹری، آوارہ کتوں کو مارنے کی مہموں کی شدید مخالفت کرتی ہیں۔ "یہ غیر انسانی اور غیر قانونی ہے؛ لاہور ہائی کورٹ نے TNVR (Trap-Neuter-Vaccinate-Release) پالیسی کا حکم دیا ہے، لیکن فنڈز کی کمی کی وجہ سے یہ عمل رک گیا۔ 2022 میں 2.3 لاکھ کتوں کی نس بندی کا منصوبہ تھا، مگر شیلٹر ہوم تک نہ بن سکے۔” ان کا مؤقف ہے کہ کتوں کی نسل کشی ریبیز کو نہیں روکتی، بلکہ آبادی کنٹرول اور ویکسینیشن سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
سارہ گنڈاپور جیسی اینیمل رائٹس ایکٹیوسٹ کا کہنا ہے کہ "جانور بھی درد محسوس کرتے ہیں؛ کتوں کو زہر یا گولی مارنا ظلم ہے۔ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر احتجاج ضروری ہے، اور حکومت کو TNVR پر فوری عمل کرنا چاہیے۔” وہ شہری علاقوں میں بچوں کی حفاظت اور جانوروں کے حقوق کے توازن پر زور دیتی ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور دیگر عالمی اداروں کے مطابق، پاکستان میں 97,000 سے زائد کتے کے کاٹنے کے کیسز ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں، مگر اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ WHO کی رائے ہے کہ "عوام کو ریبیز کے خطرات اور بروقت علاج کی آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے اموات بڑھ رہی ہیں؛ پالتو جانوروں کی ویکسینیشن لازمی بنائی جائے۔”





















