مصر کے عظیم اہرام کی تاریخ میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ ماہرینِ آثار قدیمہ نے گیزا کے تین مرکزی اہرام میں سب سے چھوٹے مینکور ہرم میں ایک ممکنہ خفیہ راستے کا سراغ لگا لیا ہے، جو اس قدیم ترین تعمیر کے متعلق برسوں سے موجود مفروضوں کو حقیقت کا روپ دے سکتا ہے۔
مینکور ہرم کو تقریباً 4550 برس قبل فرعون مینکور کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، اور مصری تاریخ میں اسے اپنی منفرد ساخت اور چھوٹے سائز کے باوجود اہمیت حاصل ہے۔ طویل عرصے سے ماہرین کا شبہ تھا کہ ہرم میں کسی دوسری سمت سے بھی رسائی کا راستہ موجود ہو سکتا ہے، لیکن اس بارے میں کوئی حتمی ثبوت نہیں مل سکا تھا۔تاہم اب یہ صورتحال بدلتی دکھائی دیتی ہے۔
بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے ہائی ٹیک ریڈار اسکیننگ، الٹرا ساؤنڈ ویوز اور جدید جیو فزیکل آلات کی مدد سے ہرم کی مشرقی جانب حیران کن اشارے دریافت کیے ہیں۔ اسکینز میں واضح ہوا کہ ہرم کی مشرقی دیوار کے نیچے دو خالی جگہیں موجود ہیں، جن کی ساخت غیر معمولی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان خالی جگہوں میں ایسے پالش کیے گئے پتھر نصب ہیں جن کا سائز تقریباً چار میٹر اونچا اور چھ میٹر چوڑا ہے۔ اس طرح کے پتھر ہرم میں عام طور پر صرف مرکزی داخلی راستوں یا خصوصی مقامات پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی نوعیت کے پتھر پہلے صرف ہرم کے شمالی حصے کے مرکزی دروازے پر پائے گئے تھے—جس سے اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ ہرم کی مشرقی سمت میں واقعی ایک نیا، خفیہ داخلی راستہ موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستہ واقعی اپنے اصل مقصد کے ساتھ محفوظ حالت میں موجود ہے تو یہ دریافت نہ صرف مینکور ہرم کے رازوں کو بے نقاب کرے گی بلکہ مصری تہذیب کے تدفینی طریقوں، مذہبی رسومات اور تعمیراتی نظریات پر بھی نئی روشنی ڈالے گی۔
تحقیق کرنے والے مارین کی ٹیم کے مطابق ریڈار ریفلیکشنز اور پتھر کی ساخت کے شواہد اتنے مضبوط ہیں کہ اب اگلے مرحلے میں مزید گہرائی میں کھدائی اور تھری ڈی اسکیننگ کی جائے گی، تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ راستہ کسی اندرونی کمرے، سرنگ یا مخصوص تدفینی گیلری کی طرف جاتا ہے۔
مصری تاریخ میں اہرام کے اندر نئے راستوں کا انکشاف ہمیشہ عالمی دلچسپی کا باعث بنتا رہا ہے، اور مینکور ہرم میں یہ دریافت ممکنہ طور پر آئندہ کئی برسوں کی تحقیق کی بنیاد بن سکتی ہے۔
یہ دریافت مصر کی آثارِ قدیمہ کی دنیا میں نہایت اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اہرام کے ڈیزائن اور فنِ تعمیر پر برسوں سے مختلف نظریات گردش کر رہے ہیں، اور ماہرین اس بات پر مختلف آراء رکھتے ہیں کہ فرعونوں نے ان راستوں اور خفیہ چیمبرز کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
مینکور ہرم نسبتاً چھوٹا ہونے کے باوجود ہمیشہ سے تحقیق کا مرکز رہا ہے، اور اس میں نئے راستے کی موجودگی اس مفروضے کو تقویت دیتی ہے کہ ہر ہرم کے اندر کئی ایسے راز چھپے ہیں جو اب تک سامنے نہیں آسکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف مصری تاریخ کے بارے میں مزید علم حاصل ہوگا بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس راستے کے ذریعے کسی ناقابلِ رسائی قبر، خزانے یا مذہبی مقام کا پتہ چل سکے۔ اگر یہ راستہ مکمل حالت میں نکل آیا تو یہ صدی کی بڑی آثار قدیمہ کی دریافت تصور کی جائے گی۔
عوامی رائے (Public Opinion)
دنیا بھر میں اس خبر نے لوگوں میں تجسس پیدا کر دیا ہے۔
-
سوشل میڈیا پر صارفین اسے ’’اہرام کے راز کھلنے کی شروعات‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
-
کچھ لوگ اس خوف کا اظہار کر رہے ہیں کہ کھدائی سے آثار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
-
کئی افراد کا کہنا ہے کہ مصری حکام کو یہ دریافت عالمی محققین کے ساتھ شیئر کرنی چاہیے تاکہ شفاف تحقیق ممکن ہو سکے۔
-
کچھ صارفین یہ جاننے کے خواہش مند ہیں کہ آیا راستہ فرعون کی اصل قبر تک جاتا ہے یا کسی خفیہ سرنگ کی طرف۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اہرام میں مزید خفیہ راستے بھی دریافت ہو سکتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔





















