شاہزیب خانزادہ کے ساتھ پیش آئے ہراسگی کے واقعے پر شوبز شخصیات کا شدید ردعمل

شاہزیب خانزادہ نے تمام تر اشتعال انگیزی اور بدتمیزی کے باوجود خاموش رہنا بہتر سمجھا

کراچی میں پاکستانی شوبز اور سماجی حلقوں کی جانب سے معروف صحافی اور اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کے ساتھ لندن میں پیش آنے والے ہراسانی کے واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد متعدد فنکاروں اور شہری حلقوں نے اس عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے ’’خطرناک رجحان‘‘ اور ’’عدم برداشت کا افسوسناک مظاہرہ‘‘ قرار دیا ہے۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہزیب خانزادہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک شاپنگ مال میں موجود تھے، جب ایک نامعلوم شخص نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے انہیں سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف ’’پروپیگنڈا‘‘ کرنے کا الزام لگا کر ہراساں کرنا شروع کر دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شخص نے نہ اپنے الزامات کے شواہد پیش کیے اور نہ کوئی وضاحت دی، بلکہ بار بار الزام تراشی کرتے ہوئے دونوں پر جملے کسنے کی کوشش کرتا رہا۔

شاہزیب خانزادہ نے تمام تر اشتعال انگیزی اور بدتمیزی کے باوجود خاموش رہنا بہتر سمجھا اور بغیر ردعمل دیے وہاں سے اپنی اہلیہ کے ساتھ ہٹ گئے۔
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق اینکر کی سنجیدگی اور ضبط نے معاملہ بگڑنے سے بچا لیا۔

بعدازاں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے ایک پرانی ویڈیو شیئر کی جس میں شاہزیب اپنے پروگرام میں ’’عدت کیس‘‘ پر گفتگو کر رہے تھے—یہ وہی مقدمہ تھا جس میں بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عمران خان سے شادی کے وقت عدت پوری نہ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ شہباز گل نے شاہزیب کی اُس ویڈیو کو ’’گندگی‘‘ قرار دے کر واقعے کو بالواسطہ طور پر ’’جائز‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کی، جس پر مزید تنقید شروع ہو گئی۔

یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو فروری 2024 میں اسی کیس میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم جولائی میں عدالت نے دونوں کو بری کر دیا تھا۔ بعدازاں انہیں سرکاری تحائف کی فروخت کے مقدمات میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

شوبز دنیا کی شدید مذمت

واقعے کے بعد پاکستانی شوبز انڈسٹری کی کئی نامور شخصیات شاہزیب خانزادہ کے حمایت میں سامنے آئیں۔

اداکار منیب بٹ نے اس واقعے کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیا اور کہا
“کسی شخص کو اس کی فیملی کے ساتھ عوامی مقام پر ہراساں کرنا اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے۔ شاہزیب ملک کے ذہین اور باصلاحیت صحافیوں میں سے ایک ہیں، اس عمل کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔”

معروف گلوکار جواد احمد نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس شخص کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
ان کے مطابق:
“سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ہراسانی کسی صورت برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔ ایسے لوگوں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی دوسرے کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا سوچے بھی نہیں۔”

سوشل میڈیا پر عوامی غصہ

سوشل میڈیا صارفین نے بھی واقعے پر شدید افسوس اور غصے کا اظہار کیا۔
بہت سے لوگوں نے اسے یعنی ہجوم کے ذہنی رویےکا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جنون اب ذاتی زندگیاں غیر محفوظ بنانے لگا ہے۔

  • کچھ صارفین نے کہا کہ "سیاسی اختلاف کی آڑ میں ذاتی حملے خطرناک رجحان ہیں”۔

  • کئی لوگوں نے شاہزیب کے تحمل کی تعریف کی اور کہا کہ ان کا ردعمل متاثرکن تھا۔

  • کچھ صارفین نے اسے ایسے گروہوں کی ’’انتہائی تربیت یافتہ ٹرولنگ مہم‘‘ بھی قرار دیا۔

  • کئی افراد نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’’اگر صحافی لندن میں محفوظ نہیں تو پاکستان میں عام شہری خود کو کہاں محفوظ سمجھیں؟‘‘

یہ واقعہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی سیاسی عدم برداشت اور معاشرتی تقسیم کی ایک اور تشویشناک مثال ہے۔
سیاسی اختلافات کے نام پر صحافیوں، فنکاروں یا عام شہریوں کو ہدف بنانا ایک ایسا رویہ بنتا جا رہا ہے جو جمہوری معاشروں میں نہ صرف ناقابلِ قبول بلکہ خطرناک بھی ہے۔

شاہزیب خانزادہ جیسے صحافی، جو سخت تنقیدی پروگرام اور سیاسی بیانیوں کو چیلنج کرنے کے لیے مشہور ہیں، پہلے بھی آن لائن ٹرولنگ کا شکار رہتے ہیں، مگر اس بار معاملہ ذاتی زندگی میں مداخلت اور عوامی مقام پر ہراسانی تک پہنچ گیا۔جو ایک نئی اور سنگین سطح ہے۔

یہ واقعہ حکومت، اداروں اور معاشرتی تنظیموں کے لیے ایک وارننگ ہے کہ
اگر سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی میں بدل گیا، تو معاشرہ تشدد، نفرت اور عدم برداشت کے دلدل میں پھنس سکتا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جذبات کے نام پر عوامی مقامات پر اس طرح ہراسانی قابلِ برداشت ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین