امریکا نے 200 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کردیا، انمول بشنوئی سمیت متعدد مجرم شامل

انمول نے اپریل 2022 میں جعلی پاسپورٹ کے ذریعے بھارت سے فرار حاصل کیا

امریکا کی جانب سے غیرقانونی طور پر مقیم اور جرائم میں ملوث بھارتی شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں 200 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
ڈی پورٹ کیے گئے افراد میں بھارت کے بدنامِ زمانہ گینگسٹر انمول بشنوئی بھی شامل ہے، جس کی واپسی نے بھارتی خفیہ اداروں اور پنجاب پولیس میں کھلبلی مچادی ہے۔

بین الاقوامی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا نے ان افراد کو غیرقانونی رہائش، جعلی دستاویزات کے استعمال اور بین الاقوامی جرائم میں ملوث ہونے کے باعث ملک سے نکالا۔
ڈی پورٹ کیے گئے افراد میں 197 غیرقانونی تارکین وطن، پنجاب میں مطلوب دو فرار ملزمان اور انتہائی خطرناک گینگسٹر انمول بشنوئی شامل ہیں۔

انمول بشنوئی، بھارت کے berated گینگ لیڈر لارنس بشنوئی کا چھوٹا بھائی ہے۔وہی لارنس بشنوئی جس کے ساتھ کئی دہائیوں سے پنجاب اور دیگر ریاستوں کی گینگ وارز جوڑی جاتی رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق انمول پر سابق بھارتی وزیر بابا صدیق کے قتل کے منصوبے اور اداکار سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کے مقدمات سمیت کئی سنگین الزامات عائد ہیں۔

خفیہ اداروں کے مطابق انمول نے اپریل 2022 میں جعلی پاسپورٹ کے ذریعے بھارت سے فرار حاصل کیا، جب کہ صرف چند ہفتے بعد گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کی واردات پیش آئی، جس کے پیچھے بیرون ملک سے چلنے والے گینگ نیٹ ورک کا ملوث ہونا بتایا جاتا ہے۔
تفتیش میں انکشاف ہوا کہ انمول جعلی روسی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے امریکا اور کینیڈا کے درمیان بار بار منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ امریکی حکام نے اسے ٹریک کرکے حراست میں لے لیا۔

بھارتی خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک موجود ہونے کے باوجود انمول بشنوئی اینکرپٹڈ کمیونیکیشن ایپس کے ذریعے اپنے گینگ کو ہدایات دیتا رہا، جس کی بناء پر بھارت میں جرائم کی کئی وارداتیں بیرون ملک سے کنٹرول ہوتی رہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے ڈی پورٹ کیے گئے مجموعی 200 افراد میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو غیرقانونی طور پر امریکا میں مقیم تھے یا سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے۔
یہ اقدام امریکا میں امیگریشن قوانین کی سختی اور ٹرانس نیشنل کرائم نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن کی پالیسی کا حصہ ہے۔

انمول بشنوئی کی امریکا سے ملک بدری بھارت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی شکل میں سامنے آئی ہے۔
ایک طرف یہ واقعہ بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اہم کامیابی ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ برسوں سے مطلوب گینگسٹر کو بھارت واپس لانا مشکل تھا۔ دوسری جانب اس کی بھارت آمد پنجاب اور ہریانہ میں ایک بار پھر گینگ وار میں شدت پیدا کر سکتی ہے۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ انمول نے جعلی دستاویزات کے ذریعے متعدد ممالک کا سفر کیسے کیا؟ اور وہ اتنے عرصے تک عالمی سطح پر نگرانی سے کیسے بچا رہا؟
یہ معاملہ بین الاقوامی امیگریشن سسٹم اور سرحدی سیکیورٹی کے لیے بھی بڑے سوالات کھڑا کرتا ہے۔

امریکا کی جانب سے 200 بھارتی شہریوں کی ملک بدری یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا غیرقانونی تارکین اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت مؤقف اپنا چکا ہے۔
تاہم بھارت کے لیے اصل چیلنج ان افراد سے نمٹنا ہوگا، خصوصاً وہ لوگ جو سنگین جرائم میں ملوث تھے اور اب براہ راست ملک کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

عوامی رائے (Public Reaction)

سوشل میڈیا اور بھارتی عوام کی آراء میں شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے:

حمایتی رائے:
• بہت سے بھارتی صارفین نے امریکا کے فیصلے کو ’’بہت اچھا اقدام‘‘ قرار دیا۔
• کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ انمول جیسے مجرم کا بھارت واپس آنا انصاف کے لیے اہم قدم ہے۔
• کئی افراد نے امریکی حکام کی کارروائی کو مؤثر اور سخت قرار دیا۔

تنقیدی رائے:
• کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ بھارتی ایجنسیاں اتنے عرصے تک انمول کو ٹریس کیوں نہ کر سکیں۔
• کچھ لوگوں نے خوف کا اظہار کیا کہ اس کی واپسی سے پنجاب میں گینگ وار دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
• چند افراد نے امریکا کے فیصلے کو ’’سیاسی دباؤ‘‘ کا نتیجہ بھی کہا۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا انمول بشنوئی جیسے مجرموں کی ملک بدری بھارت کے لیے فائدہ مند ہے؟
یا وطن واپسی کے بعد اس کے گینگ نیٹ ورک مزید سرگرم ہو سکتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین