نیو دہلی:پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش نے بھارتی حکومت کے بلند دعوؤں، اس کے دفاعی بیانیے اور ایوی ایشن سیکٹر کی کمزوریاں بری طرح سامنے لا دی ہیں۔ آپریشن "سندور” کی ناکامی کے بعد بھارتی قیادت پہلے ہی تنقید کی زد میں تھی، اب ایئر انڈیا کو ہونے والے 4 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے نقصان نے صورتِ حال کو مزید
سنگین بنا دیا ہے۔
بھارتی میڈیا، خصوصاً ریپبلک نیوز نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود نہ کھلنے سے ایئر انڈیا شدید بحران کا شکار ہے، اور
روٹس طویل ہونے کی وجہ سے خسارہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ایئر انڈیا نے بھارتی حکومت سے معاوضے کے مطالبے کے ساتھ اپنی مالی مشکلات سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔
ایئر انڈیا کا بحران
انڈین میڈیا کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد ایئر انڈیا کو امریکا، کینیڈا اور یورپ جانے کے لیے چین کی فضائی حدود استعمال کرنے کی منظوری لینا پڑ رہی ہے، جسے سفارتی نوعیت کا پیچیدہ مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم اضافی اجازتوں اور لمبے راستوں کے باعث پروازوں کی لاگت کئی گنا بڑھ گئی ہے، جبکہ شیڈول بھی بُری طرح متاثر ہوا ہے۔
ایندھن کی لاگت میں 29 فیصد اضافہ
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان کی پابندیوں کے سبب:
ایئر انڈیا کے ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
سالانہ خسارہ 45 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا
کئی پروازوں کے دورانیے میں دو سے تین گھنٹے تک کا اضافہ ہوا
اضافی اسٹاف، سروس اور تکنیکی اخراجات نے بوجھ مزید بڑھا دیا
ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی فضائی کمپنی کے لیے روٹس کا محدود ہونا ’’بجٹ کا قاتل‘‘ ثابت ہوتا ہے، اور اس وقت ایئر انڈیا اسی صورت حال سے گزر رہی ہے۔
بھارت کی بے بسی
نقصانات کم کرنے کے لیے ایئر انڈیا نے چین سے سنکیانگ کی فضائی حدود کھولنے کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔
اس مقصد کے لیے بھارتی حکام نے بین الاقوامی سطح پر لابنگ بھی شروع کی ہے، تاہم چینی دفترِ خارجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں ’’ایسی کسی باضابطہ درخواست کا علم نہیں‘‘۔
یہ بیان خود بھارتی میڈیا کے لیے حیران کن ثابت ہوا ہے، اور اسے بھارت کی ’’سفارتی کمزوری‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
سیاسی و عسکری قیادت پر نئی تنقید
بھارتی سوشل میڈیا صارفین اور دفاعی تجزیہ کاروں نے اس صورتحال کو حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق:
پاکستان کے خلاف جارحانہ بیانیہ صرف ’’سیاسی شعبدہ بازی‘‘ ثابت ہوا
عملی طور پر بھارت پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں ناکام ہے
فضائی حدود کی بندش نے بھارتی فضائی حکمتِ عملی کی کمزوریوں کا پردہ چاک کر دیا ہے
ایئر انڈیا کا مالی بحران مودی انتظامیہ کے لیے نیا چیلنج ہے
بعض تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان مستقبل میں مزید سفارتی دباؤ بڑھاتا ہے تو بھارت کو اپنی فضائی اور تجارتی حکمتِ عملی پر ازسرنو غور کرنا پڑے گا۔
پاکستان کی فضائی حدود کی بندش بظاہر ایک دفاعی قدم تھا، لیکن اس کے اثرات بھارت کے لیے معاشی، سیاسی اور سفارتی تینوں محاذوں پر ظاہر ہوئے ہیں۔ ایئر انڈیا کا خسارہ محض ایک کمپنی کا مسئلہ نہیں—یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن کا اندازہ بیانات سے نہیں بلکہ عملی پالیسیوں سے ہوتا ہے۔
ایئر انڈیا نے کھل کر حکومت سے معاوضہ طلب کیا ہے، جو خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بھارتی وزارتِ ہوا بازی بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔
چین سے فضائی راستے کی ’’درخواست‘‘ بھی بھارت کی عالمی سطح پر محدود سفارتی گنجائش کو ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان نے خاموش رہتے ہوئے ایک ایسا قدم اٹھایا جس کے اثرات بھارت کے اقتصادی نظام تک پہنچ گئے۔
آنے والے دنوں میں اگر یہ فضائی پابندی برقرار رہتی ہے تو بھارتی ایوی ایشن کو مزید بھاری نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، جو مودی حکومت کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔
عوامی رائے (Public Reaction)
بھارتی اور پاکستانی سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا:
بھارتی صارفین کا ردعمل:
’’حکومت کی ناکامی کا نیا ثبوت—اڑانیں طویل اور اخراجات آسمان پر‘‘
’’پاکستان نے چپ چاپ ایسا وار کیا کہ بھارت سنبھل ہی نہ سکا‘‘
’’ایئر انڈیا کا بِل کیوں عوام بھریں؟‘‘
پاکستانی صارفین کا ردعمل:
’’بیانات میں شیر، عملی میدان میں کمزور‘‘
’’پاکستان کی حکمتِ عملی نے بھارت کی جڑ ہلا دی‘‘
’’پاکستان کا بڑا اسٹریٹجک ماسٹر اسٹرروک‘‘
آپ کیا سمجھتے ہیں؟
کیا بھارت اپنی فضائی حکمتِ عملی پر ازسرنو غور کرے گا؟
یا حکومت ایئر انڈیا کے مطالبات کو نظرانداز کر دے گی؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔





















