پاکستان آئیڈیل کے چرچے سرحد پار ،بھارتی گلوکار بھی پاکستانی ٹیلنٹ کے دیوانے بن گئے

پاکستان آئیڈل سیزن 2، جس کی واپسی کا شائقین برسوں سے انتظار کر رہے تھے

کراچی —پاکستان میں دس برس بعد واپس آنے والے میوزک رئیلٹی شو پاکستان آئیڈل سیزن 2 نے نہ صرف ملکی سطح پر دھوم مچائی ہے بلکہ سرحد کے اُس پار بھارت میں بھی اس کے چرچے ہونے لگے ہیں۔ پاکستانی ٹیلنٹ کی اس عالمی سطح کی پذیرائی کا تازہ ثبوت اس وقت سامنے آیا جب بھارت کے نامور غزل گائیک اور کلاسیکل گلوکار ہری ہرن نے پاکستان آئیڈل کے جج بلال مقصود کو خصوصی پیغام بھیج کر شو کی تعریف کی۔
یہ پیغام بلال مقصود کی جانب سے شیئر کیے گئے واٹس ایپ اسکرین شاٹ کے ذریعے منظرعام پر آیا، جس نے پاکستان اور بھارت کے میوزک شائقین کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔

ہری ہرن کا خصوصی پیغام

ہری ہرن نے بلال مقصود سے دوستانہ علیک سلیک کے بعد پاکستان آئیڈل کی تعریف کرتے ہوئے لکھا
“تم اس شو میں بہت اچھے لگ رہے ہو۔ اس میں شامل بعض لوگوں کا ٹیلنٹ کمال کا ہے اور میں اسے دیکھ کر محظوظ ہو رہا ہوں۔”
بھارتی گلوکار نے نہ صرف بلال مقصود کی ججنگ اسٹائل اور موجودگی کو سراہا بلکہ مقابلے میں حصہ لینے والے پاکستانی نوجوان گلوکاروں کے لیے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور جلد ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔

بلال مقصود کا ردعمل

بلال مقصود نے پیغام شیئر کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار جذباتی انداز میں کیا۔
انہوں نے لکھا کہ ہری ہرن جیسے لیجنڈ کی جانب سے ایسے پیغام کا ملنا پاکستانی آرٹسٹس کے لیے بڑے اعزاز سے کم نہیں۔
بلال مقصود نے مزید کہا کہ:

’’سرحد کے پار ایک لیجنڈ نہ صرف شو دیکھ رہا ہے بلکہ ٹیلنٹ کو نوٹس کرکے ان کی لگن کو سراہ رہا ہے۔یہ لمحہ ہمارے لیے بے حد خاص ہے۔‘‘

’’یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو نوجوانوں کے اعتماد اور آرٹسٹری کو نکھارتے ہیں۔‘‘

انہوں نے ہری ہرن کا پوری ٹیم، شو کے شرکاء اور پاکستانی موسیقی کے چاہنے والوں کی جانب سے شکریہ بھی ادا کیا۔

پاکستان آئیڈل

پاکستان آئیڈل سیزن 2، جس کی واپسی کا شائقین برسوں سے انتظار کر رہے تھے، اس بار

بہتر پروڈکشن

مضبوط موسیقی

باصلاحیت نوجوانوں

اور بڑے ناموں پر مشتمل ججنگ پینل

کے باعث ایک بار پھر پاکستانی میوزک شوز کو نئی زندگی دے رہا ہے۔
سرحد کے دونوں جانب میوزک کے چاہنے والوں کے مطابق اس شو نے پاکستان کے نوجوان سنگرز کو عالمی معیار کے پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع دیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی اپنی جگہ، لیکن موسیقی ہمیشہ سے ان دونوں ممالک کے درمیان ایک نرم سفارت کاری کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔
ہری ہرن جیسے بڑے فنکار کا پاکستان آئیڈل کی کھل کر تعریف کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔
یہ پیغام خاص طور پر اُن نوجوان پاکستانی گلوکاروں کے لیے اہم ہے جو عالمی سطح پر اپنی آواز سنوانے کے خواہشمند ہیں۔
پاکستان آئیڈل کی بھارت میں مقبولیت اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ پاکستانی میوزک انڈسٹری میں وہ دم ہے جو بین الاقوامی سطح پر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔
اس سے آگے چل کر ممکن ہے کہ نئے کراس بارڈر میوزیکل پروجیکٹس، کولیبریشز اور فیسٹیولز کی راہ بھی ہموار ہو۔
اس واقعے نے واضح کر دیا کہ اگر سیاست دور رکھ دی جائے تو دونوں ملکوں کی موسیقی ایک دوسرے کے لیے محبت، احترام اور فن کا پل بن سکتی ہے۔

عوامی رائے (Public Reaction)

سرحد کے دونوں جانب صارفین کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا:
پاکستانی صارفین:

’’یہ پاکستان آئیڈل کی عالمی کامیابی ہے!‘‘

’’ہری ہرن کا پیغام پورے پاکستان کے لیے اعزاز ہے۔‘‘

’’ہمارے ٹیلنٹ کی دنیا میں قدر ہو رہی ہے، یہ خوشی کی بات ہے۔‘‘

بھارتی صارفین:

’’ٹیلنٹ کو سرحد نہ روکےجو اچھا گائے گا، ہم سنیں گے۔‘‘

’’ہری ہرن جی کی تعریف پاکستانی گلوکاروں کے لیے بڑی بات ہے۔‘‘

’’موسیقی ہمیں جوڑتی ہے، سیاست نہیں۔‘‘

 

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا پاکستان آئیڈل کی یہ بین الاقوامی پذیرائی پاکستانی موسیقی کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے؟
آپ کے خیال میں پاکستان اور بھارت کے گلوکاروں کو دوبارہ مشترکہ پروجیکٹس کرنے چاہئیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین