سردیوں کی نرم دھوپ اور مونگ پھلی کا ساتھ پاکستانی معاشرے کی برسوں پرانی روایت ہے۔ جیسے ہی موسم بدلتا ہے، بازاروں میں مونگ پھلی کی خوشبو پھیل جاتی ہے، لیکن اس لذت کے ساتھ ایک پرانی بحث بھی ہر سال تازہ ہو جاتی ہے۔
کیا مونگ پھلی کھانے کے بعد فوراً پانی پینا گلے کے لیے نقصان دہ ہے؟
گھروں میں بڑوں کو اکثر نوجوانوں کو ٹوکنا پڑتا ہے کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد فوراً پانی نہ پیو، ورنہ گلا بیٹھ جائے گا یا کھانسی شروع ہو جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسی ماہرین نے اب تک اسے کسی حتمی بیماری سے جوڑنے کا فیصلہ نہیں دیا، تاہم روایتی طب اور حکمت اسے محتاط رویے کے طور پر دیکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مونگ پھلی کی ساخت خشک اور اس میں موجود تیل گلے کے اندر چپچپاہٹ پیدا کرتا ہے۔ ایسے میں فوری طور پر ٹھنڈا یا نیم ٹھنڈا پانی پینا بعض افراد میں خراش یا کھانسی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احتیاط کے طور پر پانی چند منٹ رُک کر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ البتہ یہ اثر سب پر یکساں نہیں ہوتا اور کئی لوگ بغیر کسی مسئلے کے پانی پی لیتے ہیں۔
مونگ پھلی
صرف احتیاط ہی نہیں، مونگ پھلی فوائد کے اعتبار سے سردیوں کی ’’طاقتور خوراک‘‘ سمجھی جاتی ہے۔ اس میں موجود غذائیت نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ کئی بیماریوں سے بھی تحفظ دیتی ہے۔
دل کی صحت کے لیے مؤثر
ماہرین کے مطابق مونگ پھلی میں پائے جانے والے مفید اجزاء کولیسٹرول کو متوازن رکھتے ہیں اور دل کی شریانوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مونگ پھلی دل کے مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے—بشرطیکہ اسے مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے۔
وزن میں کمی کا ذریعہ
مونگ پھلی پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتی ہے۔ اس سے فالتو کھانے کی خواہش کم ہوتی ہے اور وزن کم کرنے والوں کے لیے یہ ایک بہترین سستی خوراک ثابت ہوتی ہے۔
پروٹین کا بھرپور ذخیرہ
سو گرام مونگ پھلی میں تقریباً 25 گرام پروٹین موجود ہوتا ہے، جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے جسمانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مونگ پھلی کا مکھن بھی اس لحاظ سے بہترین متبادل سمجھا جاتا ہے۔
بلڈ شوگر کے لیے محفوظ
مونگ پھلی کم گلیسیمک فوڈ ہے جو شوگر کو آہستہ بڑھاتی ہے۔ اسی وجہ سے ذیابیطس کے مریض اسے اپنی غذا میں شامل کرتے ہیں، لیکن ہمیشہ اعتدال کو ملحوظ رکھتے ہیں۔
مختصر یہ کہ مونگ پھلی نہ صرف سردیوں کی محبوب غذا ہے بلکہ صحت کے اعتبار سے بھی بے حد فائدہ مند ہے۔
البتہ اس کے فوراً بعد پانی پینے سے گلے کی جلن یا کھانسی کی شکایت کچھ افراد میں ممکن ہے، اس لیے بہتر ہے چند منٹ انتظار کر لیا جائے۔
یہ طبی ہدایت نہیں بلکہ روایتی تجربے کی بنیاد پر احتیاطی مشورہ ہے۔
یہ بحث واضح کرتی ہے کہ غذاؤں کے حوالے سے ہمارے سماجی تجربات اور گھریلو مشاہدات اب بھی لوگوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگرچہ سائنسی طور پر اس کا کوئی حتمی ثبوت نہیں، لیکن سردیوں میں گلے کے مسائل عام ہوتے ہیں اور مونگ پھلی کی خشک ساخت کئی افراد کو حساس بنا دیتی ہے۔
مونگ پھلی کے فائدے اتنے زیادہ ہیں کہ اسے سردیوں کی کم قیمت مگر مؤثر غذا کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ دور میں جب ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے، مونگ پھلی ایک ایسی قدرتی نعمت ہے جسے تقریباً ہر طبقہ استعمال کر سکتا ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس موضوع پر دلچسپ تقسیم نظر آئی
احتیاط کرنے والے صارفین کہتے ہیں
"واقعی، مونگ پھلی کے بعد پانی پینے سے کھانسی ہو جاتی ہے۔”
دوسرے صارفین کا مؤقف
"میں ہمیشہ پانی پی لیتا ہوں، کبھی مسئلہ نہیں ہوایہ صرف گھریلو بات ہے۔”
غذائیت پسند حلقے کا مؤقف
"فوائد بے شمار ہیں، بس تھوڑی سی احتیاط کافی ہے۔”
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا مونگ پھلی کے بعد پانی پینے سے آپ کو بھی گلے میں خراش محسوس ہوئی ہے؟
یا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ محض ایک گھریلو روایت ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔





















