ضمنی انتخابات: پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کیلئے ضابطہ اخلاق جاری

انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں کے بیرونی حصے میں فورسز کی تعیناتی ہوگی

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی سے متعلق جامع ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے۔ یہ ہدایات آئین کے آرٹیکل 220 اور الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 233 کے تحت جاری کی گئی ہیں اور قومی و صوبائی حلقوں میں منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات پر براہ راست لاگو ہوں گی۔ ضابطہ اخلاق میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود تمام اہلکار آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اپنے طے شدہ کردار کے مطابق خدمات انجام دیں گے، جبکہ ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک محفوظ ماحول میں رسائی دینا ان کی بنیادی ذمہ داری ہوگی۔ انتخابی ڈیوٹی کے دوران پولیس کو پہلے رسپانڈر، سول آرمڈ فورسز کو دوسرے رسپانڈر کے طور پر اسٹینڈ بائی، اور پاک فوج کو تیسرے رسپانڈر یعنی کیو آر ایف کی حیثیت حاصل ہوگی۔

ہدایات میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں کے بیرونی حصے میں فورسز کی تعیناتی ہوگی اور بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے مراکز، انتخابی سامان کی نقل و حمل اور پوری انتخابی سرگرمی کے دوران سیکیورٹی کے معاملات آئین کے آرٹیکل 220 اور 245 کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق سرانجام دیے جائیں گے۔ ضمنی انتخابات میں تعینات ہر افسر اور جے سی او ان اختیارات کا استعمال کرے گا جو الیکشن کمیشن نے تفویض کیے ہیں۔ فورسز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ڈی آر او، آر او اور پولنگ اسٹاف کو ان کے فرائض ادا کرنے میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور انتخابی عمل کے دوران غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ طرز عمل کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔

سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ووٹرز اور انتخابی عملے کے ساتھ شائستہ اور قانون کے مطابق رویہ اختیار کریں، مشکوک ووٹرز کی نشاندہی کریں تاکہ پولیس مناسب طریقے سے جانچ پڑتال کر سکے، اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن کے باہر صرف اپنی سیکیورٹی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز رکھیں۔ اگر کسی بے ضابطگی یا خلاف ورزی کا مشاہدہ ہو تو اس کی فوری اطلاع پریزائیڈنگ افسر کو دی جائے، اور اگر پریزائیڈنگ افسر مناسب کارروائی نہ کرے تو معاملہ فوری طور پر متعلقہ آر او تک پہنچایا جائے۔ قانون کی پابندی، نظم و ضبط اور پرامن ماحول کی فراہمی کو انتخابی عمل کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔

ضابطہ اخلاق میں اس بات پر سختی سے زور دیا گیا ہے کہ اہلکار کسی امیدوار، پولنگ ایجنٹ یا میڈیا نمائندے کے ساتھ بحث یا تکرار میں نہ پڑیں، پولنگ اسٹاف کے کام میں کسی قسم کی مداخلت نہ کریں اور پولنگ اسٹیشن کے باہر ہونے والی بے ضابطگی پر خود سے کوئی کارروائی کرنے کے بجائے پہلے رپورٹ کرنے کے اصول پر عمل کریں۔ مزید یہ کہ گنتی کے مرحلے میں مداخلت سے گریز کیا جائے، کسی مستحق ووٹر کو پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے سے روکا نہ جائے، سوائے اس کے کہ اس کے پاس کوئی ہتھیار یا ایسا سامان ہو جو ماحول خراب کرنے کی وجہ بن سکتا ہو۔ اہلکاروں کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولنگ اسٹاف کی ذمہ داریاں کسی صورت اپنے ذمے نہ لیں اور یہ بھی ذہن نشین رکھیں کہ ڈی آر او، آر او اور مبصرین کسی بھی وقت پولنگ اسٹیشن کا دورہ کرسکتے ہیں۔

یہ ضابطہ اخلاق الیکشن کمیشن کی جانب سے اس عزم کا اظہار ہے کہ ضمنی انتخابات کے دوران شفافیت، غیر جانب داری اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تمام فورسز باقاعدہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ انتخابی عمل کے دوران عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا، ووٹرز کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ہر طرح کی بے ضابطگی سے بروقت نمٹنا الیکشن کمیشن کی ترجیحات میں شامل ہے، اور اس مقصد کے لیے فورسز کو واضح اور مفصل ہدایات دے دی گئی ہیں۔

انتخابی معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرز کی واضح ہدایات سے نہ صرف انتخابی ماحول میں نظم و ضبط بہتر ہوتا ہے بلکہ فورسز کے کردار کی شفافیت بھی برقرار رہتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے فورسز کی ذمہ داریاں تفصیل کے ساتھ بیان کرنا انتخابی عمل میں اعتماد اور سلامتی کے پہلو کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ عوامی سطح پر بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ان ہدایات پر مؤثر عمل درآمد سے ووٹرز کو بہتر سہولت ملے گی، ماحول پرسکون رہے گا اور انتخابی نتائج پر اعتماد بڑھے گا۔

عوامی رائے میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ فورسز کو واضح حدود اور قانون کے تحت کردار دینے سے غیر جانب داری میں اضافہ ہوگا اور انتخابی عمل کے دوران غیر ضروری دباؤ یا الجھنوں کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔ کچھ شہریوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہدایات انتخابات کو شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی جبکہ کئی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اصل فرق اس وقت پڑے گا جب ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد ہوگا۔

آپ اس نئے ضابطہ اخلاق کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین