ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار کیے جانے والے ایلون مسک نے آنے والے برسوں کے بارے میں ایسے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سعودی سرمایہ کاری فورم کے خصوصی سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگلے بیس برس انسانی تاریخ کو بالکل نئی سمت دے سکتے ہیں، خصوصاً اس دور میں جب مصنوعی ذہانت اور انسان جیسے روبوٹ تیزی سے حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔ اس سیشن میں این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ اور سعودی عرب کے وزیرِ مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئر عبداللہ السواحہ بھی شریک تھے، جس سے بات چیت کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
ایلون مسک نے کہا کہ انسان نما روبوٹ آئندہ برسوں میں دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے اثر انگیز ایجاد ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ روبوٹ جس رفتار سے ترقی کر رہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے دور میں انہیں تقریباً ہر قسم کے کام کی مہارت حاصل ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ٹیکنالوجی لیبر مارکیٹ کی بنیادیں مکمل طور پر بدل دے گی اور ایسے مواقع پیدا کرے گی جن کا تصور آج مشکل ہے۔ مسک کے بقول ان روبوٹس کی صلاحیتیں صنعتی شعبے سے لے کر سروس سیکٹر تک ہر جگہ انقلاب لائیں گی اور ایسے نئے ماڈلز سامنے آئیں گے جو پہلے کبھی ممکن نہیں تھے۔
ایلون مسک نے کہا کہ مستقبل کی معیشت روبوٹک سسٹمز کے ذریعے پروڈکشن میں بے مثال اضافہ دیکھے گی۔ ان کے مطابق پیداوار کے روایتی اصول بدلنے والے ہیں اور اس تبدیلی کا سب سے بڑا فائدہ وہ ممالک اٹھائیں گے جو بروقت یہ ٹیکنالوجی اپنا لیں گے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس نئی ترقی سے عالمی سطح پر غربت کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہوگی کیونکہ پیداواری لاگت کم ہونے سے وسیع پیمانے پر معاشی بہتری پیدا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس کی پیش رفت اتنی تیز ہے کہ آنے والے دو دہائیوں میں انسانوں کے لیے کام محض ایک ذاتی انتخاب رہ جائے گا، ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق جس طرح آج ورزش کرنا یا کوئی شوق پورا کرنا فرد کی پسند پر منحصر ہوتا ہے، اسی طرح اگلے بیس سال میں کام بھی ایک اختیاری سرگرمی کے طور پر دیکھا جائے گا کیونکہ ذہین روبوٹ زیادہ تر ذمہ داریاں بہتر کارکردگی اور کم لاگت میں سنبھال لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روبوٹس کی قابلیت انسانوں کے کام میں کمی نہیں بلکہ دنیا کو ایک نئے طرز زندگی کی طرف منتقل کرے گی۔
ایلون مسک نے زور دیا کہ یہ تبدیلی صرف معاشیات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سماجی ڈھانچے، انسانی مصروفیات اور روزگار کے روایتی تصور کو بھی بدل کر رکھ دے گی۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت دنیا کی طاقت کے توازن میں بھی بڑا کردار ادا کرے گی اور وہ معاشرے جو اس ترقی کو اپنانے میں پیچھے رہ جائیں گے، شدید چیلنجز کا سامنا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک اس سمت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، آئندہ برسوں میں عالمی ترقی کے قائد ہوں گے۔
میرا تجزیہ یہ ہے کہ ایلون مسک کے حالیہ بیانات صرف تکنیکی مستقبل کی پیش گوئی نہیں بلکہ ایک ایسے دور کا اعلان ہیں جہاں انسان اور مشین کی حدود پہلے سے کہیں زیادہ دھندلا جائیں گی۔ مصنوعی ذہانت کی رفتار واقعی خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی۔ اگر یہ ٹیکنالوجی صحیح سمت میں بروئے کار آئی تو دنیا نئی معاشی وسعتوں کا مشاہدہ کرے گی، مگر اگر اسے غیر ذمہ داری سے استعمال کیا گیا تو یہی پیش رفت چیلنجز بھی لا سکتی ہے۔ اس لیے آنے والا دور صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ حکمت اور عالمی تعاون کا امتحان بھی ہوگا۔
عوامی ردعمل میں کئی افراد اس پیش گوئی کو مثبت قرار دے رہے ہیں کہ روبوٹک ٹیکنالوجی محنت طلب کاموں سے انسانوں کا بوجھ کم کرے گی، لیکن کچھ لوگ اس بات پر تشویش بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ روبوٹ انسانی ملازمتوں کا متبادل نہ بن جائیں۔ سوشل میڈیا پر کئی تبصرے اس خدشے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر حکومتیں تیار نہ ہوئیں تو بے روزگاری کا نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ بڑی تعداد اس تبدیلی کو انسانی ترقی کا اگلا قدم قرار دے رہی ہے۔
آپ ایلون مسک کی اس پیش گوئی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔





















