بالی ووڈ کے لیجنڈ دھرمیندر 89 برس کی عمر میں چل بسے

فن کی دنیا میں دھرمیندر نے اپنی منفرد پہچان 1960 میں فلم ’’دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘‘ سے قائم کی


بھارتی فلم انڈسٹری کو شدید صدمے سے دوچار کرنے والی افسوس ناک خبر سامنے آئی ہے کہ بالی ووڈ کے مایہ ناز اداکار دھرمیندر طویل علالت کے بعد 89 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وہ 24 نومبر کی صبح ممبئی میں زندگی کی آخری سانسیں لینے کے بعد ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ چند روز قبل انہیں سانس لینے میں دشواری کے باعث بریچ کینڈی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دو ہفتے پہلے بھی بھارتی میڈیا نے دھرمیندر کی موت کی خبریں بے بنیاد انداز میں نشر کی تھیں جنہیں اہل خانہ نے سخت غم و غصے کے ساتھ مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت ان کی طبیعت ناساز ضرور تھی مگر حالت خطرے سے باہر تھی، تاہم آج سامنے آنے والی خبر نے مداحوں کو حقیقتاً سوگوار کر دیا ہے۔

دھرمیندر نے گذشتہ برس اپنی آخری فلم ’’اکیس‘‘ میں کام کیا تھا جو رواں سال 25 دسمبر کو ریلیز ہو رہی ہے۔ یہ فلم ان کے کیریئر کی آخری جھلک ثابت ہوگی جو اب ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک یاد بن کر رہ جائے گی۔

فن کی دنیا میں دھرمیندر نے اپنی منفرد پہچان 1960 میں فلم ’’دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘‘ سے قائم کی۔ اس کے بعد چھ دہائیوں پر محیط سنہری دور میں انہوں نے بھارتی سینما کو درجنوں یادگار فلمیں دیں۔ ’’شعلے‘‘، ’’یادوں کی بارات‘‘، ’’میرا گاؤں میرا دیش‘‘ اور ’’پھول اور پتھر‘‘ جیسی کلاسکس آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں 2012 میں پدم بھوشن سے نوازا جو ان کی فنی عظمت کا اعتراف تھا۔

پنجاب کے شہر لدھیانہ میں کیول کرشن دیول کے نام سے پیدا ہونے والے اس عظیم فنکار نے کم عمری میں ہی عملی زندگی کا آغاز کر دیا تھا۔ ان کی پہلی شادی پرکاش کور سے ہوئی، بعد ازاں ان کی جوڑی مقبول اداکارہ ہیما مالنی کے ساتھ زندگی بھر کے رشتے میں بندھی۔ ان کے گھرانے کا شمار بھارتی فلم انڈسٹری کے مؤثر ترین خاندانوں میں ہوتا ہے۔

عمر بڑھنے کے باوجود دھرمیندر نے خود کو کبھی اس طرح پیچھے نہیں ہٹایا جیسے بہت سے فنکار کرتے ہیں۔ وہ مسلسل سوشل میڈیا پر سرگرم رہتے، لوگوں کو اپنی ویڈیوز کے ذریعے دیہی زندگی، کھیتی باڑی، صحت اور مثبت سوچ کے پیغامات دیتے تھے۔ ان کا انداز سادگی سے بھرپور تھا جو مداحوں کے دلوں میں ان کی محبت مزید بڑھاتا تھا۔

دھرمیندر کی وفات نے بھارتی سینما میں خلا چھوڑ دیا ہے جسے پُر کرنا ممکن نہیں۔ ان کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے نہ صرف کردار نبھائے بلکہ اپنی شخصیت سے کرداروں کو امر کر دیا۔ آج ان کی رحلت نے پرانی نسل کو یادوں میں، اور نئی نسل کو تاریخ کے سب سے روشن باب سے محروم کر دیا ہے۔

میرا تجزیہ یہ ہے کہ دھرمیندر کا جانا صرف ایک اداکار کا نہیں بلکہ ایک عہد کا اختتام ہے۔ وہ فلمی دنیا کے وہ ستون تھے جنہوں نے اپنے زمانے کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے معیار بھی قائم کیا۔ دو ہفتے پہلے والی افواہوں نے میڈیا کی بے احتیاطی کو عیاں کیا تھا، اور آج انہی خبروں کی تصدیق نے دکھ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دھرمیندر نے اپنی زندگی میں فن کے ساتھ ساتھ اخلاق، محبت، شائستگی اور مثبتیت کو بھی زندہ رکھا، یہی ورثہ ان کے بعد بھی ہمیشہ باقی رہے گا۔

عوامی رائے کے مطابق سوشل میڈیا پر آنسوؤں بھری تحریریں اور جذباتی پیغامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دھرمیندر صرف اداکار نہیں، کروڑوں دلوں کی دھڑکن تھے۔ مداحوں نے انہیں ایک کھری، سادہ اور محبت کرنے والی شخصیت کے طور پر یاد کیا ہے۔ کئی افراد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فلموں نے نسلوں کی خوشیاں مکمل کیں، اور آج ان کے جانے سے بچپن، جوانی اور یادوں کا ایک حصہ بھی رخصت ہو گیا ہے۔

آپ دھرمیندر کے انتقال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین