حالیہ سائنسی تحقیق نے یہ بات ایک بار پھر واضح کر دی ہے کہ قدرتی غذائیں انسانی صحت پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں، اور انہی میں شامل پستے اب نئی تحقیق کی روشنی میں ایک انتہائی مؤثر غذائی انتخاب قرار دیے جا رہے ہیں۔ جرنل کرنٹ ڈیویلپمنٹس اِن نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق رات کے وقت پستے کھانا آنتوں کی صحت، جسم میں سوزش کی کمی اور قوتِ مدافعت کی مضبوطی کے لیے خاص طور پر مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق میں امریکا کے 51 بالغ افراد کو شامل کیا گیا تھا، جن میں سے چند افراد پری ڈائیبیٹیز کا شکار تھے، اور یہ مثبت اثرات زیادہ تر انہی میں دیکھے گئے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب رات کے وقت روایتی کاربوہائیڈریٹ جیسے ٹوسٹ یا دیگر نشاستہ دار اسنیکس کے بجائے پستوں کو ترجیح دی جائے تو آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کی تعداد میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پستے آنتوں کے مائیکروبائیوم کو ایسی سمت میں تبدیل کرتے ہیں جس سے مجموعی ہاضمے اور صحت پر فوری اور دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مائیکروبائیوم وہ جرثومے اور بیکٹیریا ہوتے ہیں جو آنتوں کے اندر موجود رہتے ہیں اور جسمانی صحت میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
اس تحقیق کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب 2023 میں جرنل فوڈز میں شائع ہونے والی ایک سابقہ تحقیق کو بھی سامنے رکھا جائے، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ خشک میوہ جات میں پستے وہ غذائی عنصر ہیں جو آنتوں میں فائدہ مند بیکٹیریا کی افزائش میں سب سے زیادہ مؤثر پائے گئے۔ اس تحقیق کے مطابق پستے دیگر خشک میوہ جات جیسے بادام یا اخروٹ کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں اور آنتوں کے اندرونی ماحول کو صحت مند بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
غذائیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پستوں میں پروٹین، فائبر، صحت بخش چکنائی اور اینٹی آکسیڈنٹس کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ رات کے وقت پستے کھانے سے نہ صرف ہاضمہ بہتر ہوتا ہے بلکہ جسم میں موجود سوزش کے عمل میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین رات کے اسنیک کے طور پر پستوں کو بہترین اور مؤثر انتخاب قرار دے رہے ہیں۔
مزید برآں، ماہرین کے مطابق جو افراد پری ڈائیبیٹیز یا میٹابولک مسئلے کا شکار ہیں، ان کے لیے پستے خاص طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ خون میں شکر کی سطح کو بہتر انداز میں مستحکم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف بیماری کی شدت کم ہو سکتی ہے بلکہ ممکنہ طور پر ذیابیطس کے خطرے میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔
پستے صرف ایک پسندیدہ اسنیک نہیں بلکہ ایک مکمل غذائی پیکیج ہیں جن کے فوائد اب سائنسی شواہد سے بھی ثابت ہو رہے ہیں۔ آنتوں کی صحت کو جدید طب میں انسانی جسم کا دوسرا دماغ سمجھا جاتا ہے، اسی لیے وہ غذائیں جو مائیکروبائیوم کو بہتر بنائیں، دراصل پورے جسم کی کارکردگی پر مثبت نتائج چھوڑتی ہیں۔ رات کے وقت پستے کھانا ایک سادہ لیکن فائدہ مند عادت ہے، جسے ہر عمر کا فرد اپنی غذا کا حصہ بنا سکتا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ قدرتی غذائیں مصنوعی سپلیمنٹ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور طویل المدتی فوائد رکھتی ہیں۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس تحقیق کے بعد لوگوں کی جانب سے خاصی دلچسپی دیکھنے میں آرہی ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ رات کے وقت غیر صحت مند اسنیکس کے بجائے پستوں جیسی غذائیں کھانا ایک مثبت تبدیلی ہے جبکہ کئی افراد نے اسے اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ ظاہر کیا ہے۔ کچھ افراد نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تو پستے مزید مہنگے ہو جائیں گے کیونکہ لوگ انہیں ضرورت سے زیادہ خریدنے لگیں گے۔
البتہ ایک بڑی تعداد اس تحقیق کو خوش آئند سمجھتی ہے اور اسے صحت کے لیے ایک آسان حل قرار دے رہی ہے۔
آپ رات کے وقت پستے کھانے کے اس فائدے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔





















