انسان اور ہنس کی قدیم ترین نقش گری دریافت، 12 ہزار سال پہلے کی تہذیب کا حیرت انگیز ثبوت

مٹی سے تراشا گیا یہ دو انچ کا چھوٹا مگر بے حد معنی خیز مجسمہ ماہرین کے لیے حیران کن پہلو رکھتا ہے

دنیا کی قدیم ترین انسانی و حیوانی فن کاری کی ایک حیرت انگیز مثال اس وقت منظر عام پر آئی ہے جب ماہرینِ آثار قدیمہ نے تقریباً بارہ ہزار سال پرانا ایک دلکش مجسمہ دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت اس لحاظ سے غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے کہ یہ انسانی اور حیوانی وجود پر مشتمل سب سے قدیم مجسمہ ہے جس میں ایک عورت اپنے پہلو پر ایک زندہ ہنس اٹھائے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ یہ نایاب فن پارہ تاریخ کے اس دور کا ہے جو نطوفین تہذیب سے جڑا ہوا ہے، وہ تہذیب جو کبھی موجودہ فلسطین، شام اور اردن کے علاقے میں آباد تھی اور جسے انسانی ارتقا کے اہم سنگ میلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

مٹی سے تراشا گیا یہ دو انچ کا چھوٹا مگر بے حد معنی خیز مجسمہ ماہرین کے لیے حیران کن پہلو رکھتا ہے۔ عورت کے کندھے پر رکھا ہوا ہنس کسی شکار کا حصہ نہیں بلکہ اسے مکمل طور پر زندہ حالت میں دکھایا گیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ فن پارہ محض روزمرہ زندگی کا عکس نہیں بلکہ کسی روحانی یا ثقافتی نظریے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ نطوفین لوگ پرندوں، خصوصاً ہنس کو نہایت اہمیت دیتے تھے اور اسے خوراک، اوزار اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اسی لیے یہ تصور تقویت پکڑ رہا ہے کہ انسان اور جانور کے روحانی رشتے کو اس مجسمے میں علامتی طور پر پیش کیا گیا ہے۔

نطوفین تہذیب اپنے وقت میں انسانی تاریخ کی ان چند تہذیبوں میں شمار ہوتی تھی جن میں شکار اور خوراک اکٹھی کرنے سے آگے بڑھتے ہوئے مستقل بستیاں قائم ہونے کا آغاز ہوا۔ ایسے دور میں اس نوعیت کا مجسمہ فن اور عقیدے کے ملاپ کی ایک نادر مثال ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس وقت کے لوگ نہ صرف جانوروں پر انحصار کرتے تھے بلکہ انہیں اپنے روحانی نظام اور زندگی کے گہرے تعلق کا حصہ بھی سمجھتے تھے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ہنس اور خاتون کی یہ تصویر محض ایک فن پارہ نہیں بلکہ اس معاشرتی سوچ کی نمائندہ ہے جس میں انسان اور حیوان ایک دوسرے کے وجود سے جڑے ہوئے سمجھے جاتے تھے۔

قدیم آثار کی یہ دریافت اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اس میں پیش کیا گیا منظر جدید محققین کے لیے کئی نئے سوالات اٹھاتا ہے۔ کیا نطوفین لوگ جانوروں کے بارے میں کوئی روحانی نظریہ رکھتے تھے؟ کیا یہ تعلق محض معاشی نوعیت کا تھا یا اس کے پیچھے کوئی فلسفیانہ سوچ بھی موجود تھی؟ ان سوالات کے جوابات کے لیے مزید تحقیق جاری ہے تاہم یہ مجسمہ اس تہذیب کی ذہنی و ثقافتی پختگی کا زندہ ثبوت بن کر سامنے آیا ہے۔

یہ دریافت اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ قدیم انسان صرف شکار اور بقا کی جدوجہد تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے اندر فطرت، جانوروں اور کائنات کے ساتھ ایک گہرا روحانی تعلق پایا جاتا تھا۔ یہ مجسمہ نہ صرف نطوفین تہذیب کی جمالیاتی سوچ کی نشانی ہے بلکہ انسانی ذہنی ارتقا کی ایک اہم کڑی بھی ہے۔ آج کے جدید دور میں بھی انسان اور جانور کے رشتے پر تحقیق کی جاتی ہے، مگر بارہ ہزار سال پہلے بننے والا یہ فن پارہ دکھاتا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد بھی اس تعلق کو نہایت سنجیدگی سے دیکھتے تھے۔

عوامی رائے
اس دریافت کی خبر سامنے آتے ہی دنیا بھر میں تاریخ اور آثار قدیمہ کے شائقین نے اس پر حیرت اور دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ کئی لوگوں نے کہا کہ اس طرح کی دریافتیں انسان کی ابتدائی تہذیبوں کی ذہنی وسعت کی یاد دلاتی ہیں۔ کچھ افراد نے اسے انسانی تاریخ کی قیمتی علمی میراث قرار دیا جبکہ کئی صارفین نے سوشل میڈیا پر یہ رائے دی کہ یہ مجسمہ ثابت کرتا ہے کہ قدیم انسان جدید دور سے کہیں زیادہ فطرت سے قریب تھا۔

آپ اس حیرت انگیز دریافت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین