اسلام آباد:نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء نے جی ایچ کیو کا خصوصی دورہ کیا، جہاں انہیں علاقائی اور داخلی سیکیورٹی صورتحال، سرحدی چیلنجز اور قومی سلامتی کے مختلف پہلوؤں پر جامع بریفنگ دی گئی۔ ورکشاپ کے دوران شرکاء کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ تفصیلی انٹرایکٹو سیشن بھی ہوا، جس میں انہوں نے ملکی سلامتی کے موجودہ تقاضوں، خطے کے بدلتے ماحول اور پاکستان کے مستقبل کے لائحۂ عمل پر تفصیل سے گفتگو کی۔
فیلڈ مارشل نے خطاب میں کہا کہ علاقائی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، دنیا بھر میں جیو پولیٹیکل مقابلہ آرائی بڑھ رہی ہے جبکہ ہائبرڈ وار، معلوماتی محاذ اور بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی پاکستان کے لیے نئے چیلنجوں کی شکل میں سامنے آرہے ہیں۔ ان کے مطابق دشمن ملک کو اندر سے غیر مستحکم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں، مگر پاکستان کے ادارے پوری ہمت، عزم اور پروفیشنل ازم کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج، حساس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے تمام محکمے قومی سلامتی کے ہر محاذ پر مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں، اور حالیہ کامیابیاں پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ساکھ کا ثبوت ہیں۔ فیلڈ مارشل نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست ہے، جسے دنیا میں اپنی حقیقی جگہ ضرور ملے گی۔
اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل نے زور دیتے ہوئے کہا
"قومی اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، اور دشمن کے تمام عزائم ناکام ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر شہری کی حفاظت اور سرحدوں کا دفاع پاکستان کی پہلی ترجیح ہے اور ملکی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
مزید برآں انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور تعاون کو پائیدار امن اور طویل المدتی استحکام کا بنیادی ستون قرار دیا۔ ان کے مطابق قومی، ادارہ جاتی اور انتظامی سطح پر یکجہتی ہی ترقی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ورکشاپ کے شرکاء کو اسمگلنگ، منشیات، منظم جرائم کے خلاف جاری قومی اقدام، بارڈر مینجمنٹ، غیر قانونی افراد کی وطن واپسی اور سیکیورٹی آپریشنز سے متعلق بھی تفصیلی آگاہی دی گئی۔
فیلڈ مارشل کے اس بیان نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست کا فوکس نہ صرف روایتی سکیورٹی پر ہے بلکہ ہائبرڈ جنگ، معلوماتی حملوں اور اقتصادی استحکام کو بھی قومی سلامتی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے خطاب میں یہ پیغام بھی نمایاں ہے کہ دشمن کے منصوبوں کا توڑ صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ بھرپور قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے ممکن ہے۔
ان کے الفاظ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان اپنے دفاعی اور اسٹریٹجک معاملات میں نہ صرف خودکفیل ہو رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک منظم، مضبوط اور ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا مقام مستحکم کر رہا ہے۔
عوامی رائے
عام شہریوں کی بڑی تعداد فیلڈ مارشل کے اس مؤقف سے اتفاق کرتی نظر آئی کہ قومی اتحاد ہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ سیاسی تقسیم، معاشی بحران اور بیرونی دباؤ کے اس دور میں کوششیں یکجا کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ شہریوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ اداروں، حکومت اور عوام کے درمیان تعاون بڑھے گا تو ملک میں امن، استحکام اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔





















