مردہ ماں کا بہروپ بدل کر برسوں تک پنشن حاصل کرنے والا شخص بے نقاب

ملزم نے ماں کی لاش کو ایک شیٹ میں لپیٹا، سلیپنگ بیگ میں رکھا اور گھر کے لانڈری روم میں چھپا دیا

اٹلی میں ایک ایسا چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف انتظامیہ کو لرزا کر رکھ دیا بلکہ یورپ بھر میں بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک 56 سالہ بےروزگار شخص نے اپنی انتقال کر جانے والی ماں کا بہروپ اختیار کر کے برسوں تک سرکاری پنشن وصول کی اور ہزاروں یورو بٹور لیے۔ اس نے نہ صرف ماں کی لاش گھر میں چھپا رکھی بلکہ خاتون جیسا روپ دھار کر حکومتی دفاتر میں شناختی دستاویزات بھی تجدید کراتا رہا۔

اٹلی کے شہر Mantua سے تعلق رکھنے والی Dall’Oglio نامی خاتون 2022 میں 82 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ مگر ان کے بیٹے نے اپنی ماں کی موت کو راز بنا کر رکھا اور نہ ہی کسی رشتے دار یا ادارے کو اطلاع دی۔ رپورٹ کے مطابق ملزم نے ماں کی لاش کو ایک شیٹ میں لپیٹا، سلیپنگ بیگ میں رکھا اور گھر کے لانڈری روم میں چھپا دیا جہاں وقت گزرنے کے ساتھ لاش حنوط کی شکل اختیار کر گئی۔

اطالوی میڈیا کے مطابق بیروزگار شخص نے ماں جیسے کپڑے پہننا شروع کیے، میک اپ، زیورات اور وِگ کا استعمال کیا اور بال تک ویسے ہی کٹوائے تاکہ وہ بالکل اپنی والدہ جیسا نظر آئے۔ اس بھیس میں وہ حکومتی دفتروں کا دورہ کرتا رہا اور شناختی کارڈ سمیت دیگر سرکاری کاغذات کی تجدید کراتا رہا۔

نومبر کے آغاز میں وہ ایک حکومتی دفتر گیا جو Mantua کے مضافات میں واقع ہے۔ وہاں اس نے خود کو Dall’Oglio کے نام سے پیش کیا، مگر دفتر کے ایک ملازم نے اس ’خاتون‘ میں کچھ غیر معمولی بات محسوس کی۔ اس کی بھاری آواز، بدن کا انداز اور حرکات مشکوک لگیں۔ ملازم نے فوراً مقامی میئر اور پولیس کو اطلاع دی۔

تحقیقاتی افسران نے حکومتی ریکارڈ سے Dall’Oglio کی اصل تصاویر نکال کر موازنہ کیا تو ماں اور بیٹے کی حرکات و سکنات میں واضح فرق نظر آیا۔ مزید تحقیقات پر اس شخص کی شناخت ہو گئی اور اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس جب گھر پہنچی تو لانڈری روم سے خاتون کی حنوط شدہ لاش برآمد ہوئی، جس نے کیس کی سنگینی مزید بڑھا دی۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ ملزم نے تین برسوں میں اپنی ماں کی پنشن، تین جائیدادوں کی آمدنی اور دیگر فوائد کی بدولت سالانہ 53 ہزار یورو سے زائد رقم وصول کی۔

واقعہ نہ صرف مالی دھوکا دہی کا بدترین نمونہ ہے بلکہ اخلاقی زوال کی ایسی مثال بھی ہے جس نے پولیس اور شہریوں کو حیران کر رکھا ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشی دباؤ، ذہنی مسائل یا اخلاقی پستی کس حد تک انسان کو غیر معمولی جرم پر آمادہ کر سکتی ہے۔ ایک شخص کا اپنی ماں کی لاش چھپا کر رکھنا اور خاتون بن کر دفتروں میں گھومنا نہ صرف سماجی اقدار کی پامالی ہے بلکہ یہ نظام میں موجود کمزوریوں کی طرف بھی واضح اشارہ کرتا ہے۔

پنشن سسٹم سے مسلسل رقم نکلتی رہی، مگر کسی ادارے نے برسوں تک شناخت، صحت یا موجودگی کی تصدیق نہیں کی۔ یہ یورپی فلاحی نظام کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے کہ اس قدر بڑے فراڈ کو رکنے میں اتنا وقت کیوں لگا؟ اس واقعے نے معاشرتی رویوں، ذہنی صحت کی اہمیت اور حکومتی نگرانی کے انتظامات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا اور مقامی فورمز پر لوگ اس واقعے پر حیرت، غصے اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں:
کئی صارفین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک فلمی کہانی جیسا لگتا ہے جو حقیقت بن گئی۔
بعض نے کہا کہ مجرم کی ذہنی کیفیت کی بھی جانچ ہونی چاہیے، کیونکہ ایسا عمل عام ذہن کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔
کچھ افراد نے پنشن سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شناختی عمل سخت نہ ہونے سے یہ فراڈ ممکن ہوا۔
کئی نے اسے ’’مغربی معاشرے کی تنہائی‘‘ اور ’’فیملی سسٹم کے زوال‘‘ کی علامت قرار دیا۔

عوامی ردعمل مجموعی طور پر صدمہ، حیرت اور تشویش کا ملتبس مجموعہ ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

اس حیران کن اور افسوس ناک واقعے کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین