امریکا میں وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والی فائرنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے فوری اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں غیر معینہ مدت تک معطل کردی ہیں۔ یہ فیصلہ نیشنل گارڈز پر حملے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس نے واشنگٹن سمیت پورے ملک میں سکیورٹی خدشات کو شدید کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق حملے میں ملوث مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے نام سے ہوئی ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے وائٹ ہاؤس کے نزدیک گشت پر مامور نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کی، جن کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ واقعے کے وقت سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا تھا۔
امریکی سیٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس (USCIS) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں کہا ہے کہ افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں کو ’’عارضی طور پر روک دیا گیا ہے‘‘ تاکہ ان کا مکمل اور تفصیلی سکیورٹی جائزہ لیا جا سکے۔ ادارے کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ’’قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا‘‘ ہے، اور جب تک جانچ کے موجودہ نظام کا دوبارہ مکمل جائزہ نہیں لے لیا جاتا، امیگریشن درخواستوں کی بحالی کا کوئی حتمی وقت نہیں دیا جا سکتا۔
فائرنگ کے اس واقعے نے امریکی سکیورٹی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم گزشتہ چند برسوں سے امریکا میں مقیم تھا، جبکہ اس کے ممکنہ محرکات جاننے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ نیشنل گارڈز پر حملہ ریاستی سکیورٹی کے لیے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب وائٹ ہاؤس کے قریب گشت کرنے والے اہلکار نشانہ بنے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ وقتی طور پر امیگریشن عمل کو ’’پوری طرح محفوظ‘‘ بنانے کے لیے ضروری تھا۔ واشنگٹن میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور اہم سرکاری تنصیبات کے اردگرد گشت بڑھا دیا گیا ہے۔
امریکا میں افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کی معطلی نہ صرف سکیورٹی پالیسی کا ایک بڑا فیصلہ ہے بلکہ اس کے سیاسی اور انسانی اثرات بھی گہرے ہوں گے۔ نیشنل گارڈز پر حملہ ایک سنگین واقعہ ہے، تاہم اس کے بعد پوری افغان کمیونٹی کی امیگریشن کا عمل روک دینا ایک سخت قدم سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ہزاروں افغان شہری متاثر ہوں گے جو امریکا میں پناہ، ویزا یا مستقل رہائش کی درخواستیں دے چکے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی سخت امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہی ہے، جبکہ اس نئے اقدام نے بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ سکیورٹی حکام کی جانب سے ’’مکمل جانچ‘‘ کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مزید سخت پالیسیاں نافذ ہو سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد وہ بھی ہے جو گزشتہ برسوں میں طالبان کے کنٹرول کے بعد ملک چھوڑ کر آئے تھے۔ اس فیصلے سے ان کی قانونی حیثیت اور مستقبل مزید غیر یقینی ہو جائے گا۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر کئی امریکی صارفین نے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے ’’قومی سلامتی کے لیے ضروری‘‘ قرار دیا۔
دوسری جانب بڑی تعداد نے اسے ’’اجتماعی سزا‘‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایک شخص کے جرم کی سزا پوری قوم کو نہیں ملنی چاہیے۔
افغان کمیونٹی کے ارکان سخت پریشان نظر آئے، جن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے جو قانونی راستے کے ذریعے امریکا میں مستقل رہائش چاہتے ہیں۔
بعض شہریوں نے یہ بھی کہا کہ فائرنگ کا واقعہ قابلِ مذمت ہے، لیکن امیگریشن کو منجمد کرنے سے امریکا کا انسانی ہمدردی کا عالمی تشخص متاثر ہوگا۔
عوامی ردعمل سے واضح ہے کہ سکیورٹی اور انسانی حقوق کے درمیان توازن قائم رکھنا امریکا کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا ایک شخص کے جرم کے بعد پوری افغان کمیونٹی کی امیگریشن روک دینا درست فیصلہ ہے؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔





















