ٹرمپ کا سخت فیصلہ:تمام ترقی پذیر ممالک کی امیگریشن مستقل طور پر معطل، 19 ملکوں کے گرین کارڈ خطرے میں

گرین کارڈ ہولڈرز کا سخت ترین سیکیورٹی آڈٹ ہوگا۔

واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے اہلکار پر فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن کے حوالے سے تاریخ کا سخت ترین اقدام اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام ’’تھرڈ ورلڈ‘‘ ممالک سے امیگریشن کو مستقل طور پر روک رہے ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کی فوری سیکیورٹی جانچ کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس نے لاکھوں تارکین وطن کے مستقبل کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب 29 سالہ افغان نژاد رحمان اللہ لاکنوال پر الزام لگا کہ اس نے وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 20 سالہ اہلکار سارہ بیکسٹروم ہلاک ہوگئیں، جبکہ دوسرا اہلکار اینڈریو وولف تاحال نازک حالت میں ہے۔

ٹرمپ نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر امریکا میں نئے امیگریشن قوانین کا اعلان کیا اور کہا کہ ’’جو ممالک امریکا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، ان سے ہجرت مکمل طور پر معطل کر دی جائے گی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ 19 ممالک جن میں افغانستان، برما، چاڈ، کانگو، ایران، لیبیا، صومالیہ، یمن، سوڈان، وینزویلا سمیت متعدد افریقی اور ایشیائی ممالک شامل ہیں ۔کے گرین کارڈ ہولڈرز کا سخت ترین سیکیورٹی آڈٹ ہوگا۔

پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نہایت جارحانہ موڈ میں دکھائی دیے۔ جب ایک صحافی نے انہیں یاد دلایا کہ رحمان اللہ کو ویزہ ٹرمپ دور میں ملا تھا، تو صدر نے صحافی کو ’’احمق‘‘ کہہ کر سوال ہی مسترد کر دیا۔ اس رویے سے کانفرنس میں موجود صحافی بھی حیران رہ گئے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایسے تمام غیر امریکی شہریوں کے وفاقی فوائد ختم کریں گے، ’’جو امریکا کے لیے کسی بھی سطح پر خطرہ سمجھے جائیں۔‘‘ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ ان تارکین وطن کی شہریت منسوخ کر دیں گے جو ’’مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتے۔

امریکی حکام کے مطابق 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کا سیکیورٹی آڈٹ ایک ’’جامع اور سخت‘‘ عمل ہوگا، جس سے ہزاروں خاندان کئی ماہ تک غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے۔
اس اعلان کے بعد امریکا میں سیکیورٹی، امیگریشن اور انسانی حقوق کے حوالے سے گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔

ٹرمپ کے تازہ ترین بیان نے امریکا کی امیگریشن پالیسی کو ایک بار پھر عالمی سطح پر متنازع بنا دیا ہے۔ ’’مستقل معطلی‘‘ جیسے الفاظ نہ صرف غیر معمولی ہیں بلکہ اس سے دنیا بھر کے ترقی پزیر ممالک کے لاکھوں افراد براہ راست متاثر ہوں گے۔
رحمان اللہ کے فائرنگ واقعے کے بعد اس قسم کا فیصلہ جذباتی ردعمل بھی محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ حملہ آور کو ویزہ ٹرمپ کے ہی دور میں ملا تھا۔

سیکیورٹی کے نام پر اجتماعی سزا دینا انسانی حقوق کے عالمی معیار سے متصادم سمجھا جا رہا ہے۔ اگر یہ پالیسی مکمل طور پر نافذ ہوتی ہے تو یہ امریکا کی امیگریشن تاریخ کے سب سے سخت اقدامات میں شمار ہوگی۔
اس فیصلے سے سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوگا جو سالوں سے قانونی طور پر گرین کارڈ کے لیے انتظار کر رہے تھے یا امریکا میں نئی زندگی شروع کرنے کی امید رکھتے تھے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام 2025 کے سیاسی منظرنامے میں ٹرمپ کی بنیادی ووٹر بیس کو متحرک کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کا اثر امریکا کے عالمی تشخص اور سفارتی تعلقات پر بھی پڑے گا۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے
کچھ امریکی شہریوں نے اسے ’’سیکیورٹی کے لیے ضروری‘‘ قرار دیا۔
بڑی تعداد نے کہا کہ ایک شخص کی غلطی کی سزا پوری قوم کو دینا غیر اخلاقی ہے۔
 ترقی پزیر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ’’تعصب پر مبنی فیصلہ‘‘ ہے۔
 انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے تاریخ کا سب سے امتیازی اقدام قرار دیتے ہوئے عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مجموعی طور پر عوامی فضا میں بے چینی، سیاسی کشیدگی اور مستقبل کے خدشات نمایاں ہیں۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا ٹرمپ کا یہ فیصلہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر تھا یا یہ ایک سیاسی اقدام ہے؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین