زہریلا دودھ فروخت کرنے والا بڑا مافیا پکڑا گیا، ملک گیر نیٹ ورک بے نقاب

کارروائی کے دوران فیکٹری کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ تین افراد کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا

ہری پور کے حطار انڈسٹریل زون میں خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی نے رات گئے ایک بڑی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے مصنوعی اور انتہائی مضر صحت دودھ تیار کرنے والے ملک گیر نیٹ ورک کو پکڑ کر بے نقاب کر دیا۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پنجاب، اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی زہریلا دودھ سپلائی کر رہا تھا۔

کارروائی کے دوران فیکٹری کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ تین افراد کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔ فیکٹری سے بھاری مقدار میں خطرناک کیمیکلز، خام مال، دودھ تیاری کے لیے استعمال ہونے والی مشینری اور مصنوعی دودھ سے بھرے ٹینکرز بھی سرکاری تحویل میں لے لیے گئے۔ تمام ٹینکرز میں موجود مضر صحت دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کا تعلق پنجاب کے ضلع بہاول نگر سے ہے، اور یہ گروہ وہاں کی فوڈ اتھارٹی کی سخت کارروائیوں کے بعد خیبر پختونخوا منتقل ہو کر ایک بار پھر اپنا مکروہ کاروبار جاری رکھے ہوئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل نگرانی اور مخصوص معلومات کے بعد ادارے نے اس نیٹ ورک کو ہری پور میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

ڈی جی کے مطابق یہ فیکٹری روزانہ ایک لاکھ لیٹر تک مصنوعی دودھ تیار کر کے مختلف شہروں کو بھیجتی تھی۔ یہ دودھ ایسے کیمیکلز کے ذریعے تیار کیا جاتا تھا جو انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ اور کئی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فیکٹری میں موجود خام مال، کیمیکلز اور مشینری کے نمونے بھی لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں جبکہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانون کے مطابق کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

واصف سعید نے اس معاملے میں غفلت برتنے پر ہری پور فوڈ اتھارٹی کی ضلعی ٹیم کو بھی معطل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: “غذائی دہشت گردوں‘‘ کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح کے کاروبار عوام کی صحت پر حملے کے مترادف ہیں، اس لیے صوبے بھر میں انہی عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔”

یہ کارروائی ملک میں جاری ملاوٹ مافیا کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ مصنوعی دودھ کا استعمال بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا تھا۔

مصنوعی دودھ کا کاروبار پاکستان میں عرصے سے ایک خاموش مگر مہلک خطرہ بنا ہوا ہے۔ روزانہ ایک لاکھ لیٹر کے قریب زہریلا دودھ مختلف شہروں میں پہنچایا جا رہا تھا، جو نہ صرف عوام کی صحت بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر رہا تھا۔ یہ نیٹ ورک اس وقت مزید خوفناک ہو جاتا ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ فیکٹری جدید مشینری کے ذریعے صنعتی پیمانے پر یہ جعلی دودھ بنا رہی تھی۔

فوڈ اتھارٹی کی یہ کارروائی قابلِ تحسین ضرور ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اس قدر بڑا نیٹ ورک اتنے عرصے تک فعال کیسے رہا؟ فیکٹری کی موجودگی، روزانہ بڑی مقدار میں دودھ کی سپلائی اور کیمیکلز کی خریداری کسی نہ کسی سطح پر نگرانی کے نظام کی کمزوری کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ واقعہ اس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ ملک گیر سطح پر فوڈ اتھارٹیز کی استعداد کار بڑھائی جائے، تاکہ ملاوٹ مافیا کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ کیونکہ جب تک مستقل اور سخت نگرانی کا نظام موجود نہیں ہوگا، ایسے گروہ صرف مقام بدل کر دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔

عوامی رائے

 شہریوں نے فوڈ اتھارٹی کی کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے ’’بروقت اور ضروری‘‘ قرار دیا۔
 کچھ صارفین نے کہا کہ “ملک میں دودھ کے نام پر زہر بیچا جا رہا ہے، حکومت کو اس کے اصل سرغنوں تک پہنچنا چاہیے۔”
 کئی والدین نے مصنوعی دودھ کے استعمال سے متعلق شدید تشویش ظاہر کی اور سخت قوانین کا مطالبہ کیا۔
 بعض صارفین نے ضلعی ٹیم کی معطلی کو درست قدم قرار دیا اور کہا کہ ذمہ داروں سے سخت بازپرس ہونی چاہیے۔

عوامی ردعمل بتاتا ہے کہ لوگ اس معاملے پر نہایت حساس ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف ایسی کارروائیاں مستقل بنیادوں پر جاری رہیں۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں ملاوٹ مافیا کو روکنے کے لیے کافی ہیں، یا مزید سخت اقدامات ضروری ہیں؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین