راولپنڈی:پاکستان کے اسٹار بیٹر بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک ایسا ریکارڈ اپنے نام کرلیا ہے جسے کوئی بھی بیٹر حاصل کرنا پسند نہیں کرتا۔ سہ ملکی سیریز کے آخری لیگ میچ میں سری لنکا کے خلاف بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو جانے کے ساتھ ہی بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے والے پاکستانی کھلاڑیوں میں شامل ہوگئے۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس اہم میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو 6 رنز سے شکست دی۔ سری لنکا کے 185 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے آغاز تو ٹھیک کیا، مگر چوتھے اوور میں 29 کے مجموعی اسکور پر پہلی وکٹ کھو بیٹھا۔ ایسے موقع پر بابر اعظم کریز پر آئے، لیکن وہ اپنی دوسری ہی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے اور کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے۔
یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بابر اعظم کا 10واں صفر تھا۔ اس سے قبل وہ اسی سیریز کے پہلے میچ میں زمبابوے کے خلاف بھی بغیر رن بنائے آؤٹ ہوئے تھے۔
اس کے ساتھ ہی بابر نے عمر اکمل اور صائم ایوب کا ریکارڈ برابر کر دیا ہے، جو اب تینوں کھلاڑی 10 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کے ساتھ مشترکہ طور پر ایسے پاکستانی بیٹرز بن گئے ہیں جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ ’ڈک‘ کا شکار ہوئے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق:
صائم ایوب 55 میچز میں 10 بار صفر پر آؤٹ ہوئے
عمر اکمل 84 میچز میں 10 بار صفر پر آؤٹ ہوئے
بابر اعظم 135 میچز میں 10 بار صفر پر آؤٹ ہوئے
بابر اعظم کے طویل کیریئر کو دیکھتے ہوئے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اگرچہ وہ صفر پر آؤٹ ہونے میں ان دونوں کے برابر جا کھڑے ہوئے ہیں، لیکن مجموعی میچز کی تعداد ظاہر کرتی ہے کہ ان کے صفر نسبتاً کم اوسط پر آئے ہیں۔
دوسری جانب مجموعی عالمی ریکارڈ کی بات کی جائے تو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے کا ریکارڈ سری لنکا کے ڈَسن شناکا کے پاس ہے جو اب تک 15 مرتبہ صفر کا شکار ہوچکے ہیں۔
بابر اعظم کا یہ ناپسندیدہ ریکارڈ یقینی طور پر اُن کے چاہنے والوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ مسلسل صفر پر آؤٹ ہونا ان کی فارم میں عدم تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان کو بڑے مقابلوں اور فائنل کی تیاری کرنی ہے۔
اگرچہ بابر کا مجموعی اسٹرائیک ریٹ، اوسط اور رنز انہیں پاکستان کا بہترین ٹی ٹوئنٹی بیٹر ثابت کرتے ہیں، تاہم اہم مواقع پر ناکامی ان پر اضافی دباؤ ڈال دیتی ہے۔ موجودہ سیریز میں بھی آغاز اچھا نہ ہونے کے بعد بابر پر میڈیا اور شائقین دونوں کی جانب سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دوسری طرف یہ بات دلچسپ ہے کہ عمر اکمل اور صائم ایوب نے کم میچز میں ہی اتنے صفر حاصل کیے ہیں، جبکہ بابر نے یہ ریکارڈ بہت زیادہ میچز کے بعد برابر کیا—جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ بابر کے صفر دراصل اُن کے لمبے کیریئر کا ایک حصہ ہیں۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ بابر اپنی فارم اور اعتماد بحال کریں، خاص طور پر عالمی ایونٹس اور بڑے میچز کے تناظر میں۔ ٹیم کے لیے ان کا کردار بیحد اہم ہے۔
عوامی رائے
کچھ شائقین نے کہا کہ “بابر اعظم ایک کلاس پلیئر ہیں، صفر ہونا کھیل کا حصہ ہے۔”
جبکہ بعض مداحوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بابر بڑے میچز میں اکثر جلدی وکٹ گنوا دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے اس ریکارڈ کو ’’غیر متوقع‘‘ قرار دیا، جب کہ کچھ نے اعدادوشمار کو بابر کے حق میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اتنے میچز میں 10 صفر کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔
چند افراد نے ٹیم منجمنٹ سے مطالبہ کیا کہ بابر سے کھل کر بات کی جائے تاکہ وہ اپنی فارم ٹھیک کر سکیں۔
مجموعی طور پر شائقین بابر اعظم کے لیے سپورٹ اور تشویش کا ملا جلا ردعمل رکھتے ہیں۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا بابر اعظم کا بار بار صفر پر آؤٹ ہونا ان کی فارم کے لیے خطرہ ہے، یا یہ کھیل کا معمولی حصہ ہے؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔





















