امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی تیزی سے ایک نئے فوجی تصادم کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اخبار کے مطابق خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی محاذ آرائی نے سکیورٹی معاملات کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد اور الزام تراشیوں کا سلسلہ خطرناک سطح تک جا پہنچا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے طالبان حکومت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اور سفارتی سرگرمیوں نے اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق نئی دہلی اور طالبان کے بڑھتے رابطوں کو خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف طاقت کا نیا محور تشکیل پا رہا ہے بلکہ پاکستان کے تحفظات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایشیائی خطے کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ حالات دونوں ممالک کو ایک بار پھر براہِ راست محاذ آرائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اس تناؤ کا تازہ پس منظر مشرقی افغانستان میں منگل کے روز ہونے والا وہ فضائی حملہ ہے، جس میں 9 معصوم بچوں سمیت کئی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق اس دلخراش واقعے نے سرحدی صورتحال کو مزید بھڑکا دیا ہے، اور سوگوار خاندان اپنے پیاروں کی قبروں پر مٹی ڈالتے دکھائی دیے، جس نے خطے کی تلخ حقیقت کو ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر نمایاں کر دیا ہے۔
خطے میں تیزی سے بدلتی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں نے نہ صرف افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی سکیورٹی کے مسائل کو بڑھا دیا ہے بلکہ علاقے میں موجود بڑی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی نئی جنگ کو بھی آشکار کر دیا ہے۔ علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتحال، غیر مستحکم سرحدیں اور پراکسی قوتوں کی سرگرمیاں اس تنازعے کو مزید خطرناک بنا رہی ہیں۔
موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کا فقدان، طالبان حکومت کی بدلتی پالیسیوں اور بھارت کے ساتھ بڑھتے روابط نے خطے میں ایک نیا سفارتی بحران جنم دیا ہے۔ سرحدی واقعات میں اضافہ، شہری ہلاکتیں اور سفارتی کشیدگی اس بات کا اشارہ ہیں کہ اگر فوری طور پر مضبوط اور بامعنی مذاکرات کا آغاز نہ کیا گیا تو صورتحال کسی بھی لمحے خوفناک حد تک بگڑ سکتی ہے۔
عوامی رائے بھی اس صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں جانب کے شہری خطے میں امن کے خواہاں ہیں، مگر وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بوجھ ہمیشہ عوام ہی اٹھاتے ہیں۔ عام لوگوں کا ماننا ہے کہ طاقت کے کھیل میں انسانی جانوں کی قیمت کبھی کسی کو نظر نہیں آتی، اور سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ معصوم شہریوں کا ہوتا ہے۔
آپ کی رائے؟
اس سنگین صورتحال کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں۔





















