امریکا میں پناہ گزینوں کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟ ٹرمپ نے مدت بتانے سے صاف انکار کر دیا

ہم ایسے لوگوں کو ملک میں نہیں لینا چاہتے جو ہمارے مسائل میں اضافہ کریں

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکا میں پناہ گزینوں کی درخواستوں پر عائد پابندی جلد ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پناہ گزین درخواستوں کے فیصلوں کی معطلی کے خاتمے کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی، اور یہ پابندی طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت مزید مہاجرین قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ان کے بقول، "ہمارے پاس پہلے ہی بہت سے مسائل موجود ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کو ملک میں نہیں لینا چاہتے جو ہمارے مسائل میں اضافہ کریں۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو ایسے شہریوں کی ضرورت نہیں جو اپنے ممالک میں بھی حکومتوں کے لیے بوجھ سمجھے جاتے ہیں۔

اسی دوران ٹرمپ نے کچھ ترقی پذیر ممالک پر تنقید بھی کی اور انہیں جرائم سے بھرے ہوئے ممالک قرار دیا، جو اپنے عوام کی دیکھ بھال تک نہیں کر سکتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو ایسے افراد قبول کرنے کی ضرورت نہیں جو یہاں آکر مزید مسائل پیدا کریں۔

گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ الہان عمر امریکا کی پہلی صومالی نژاد خاتون رکنِ کانگریس ہیں، جو تقریباً دو دہائیاں قبل پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا پہنچی تھیں۔ ٹرمپ پہلے بھی متعدد مواقع پر الہان عمر کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں، اور ان کے اس تازہ بیان نے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

حالیہ تنازع کی بنیاد اس حکومتی اعلان نے رکھی ہے جس کے مطابق امریکا نے دو روز قبل پناہ گزین درخواستوں سے متعلق تمام فیصلے عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام سکیورٹی اور نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہے، تاہم انسانی حقوق کے اداروں اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ٹرمپ کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ امریکا میں مہاجرین سے متعلق پالیسی آنے والے دنوں میں مزید سخت ہوسکتی ہے۔ انتظامیہ کے سخت بیانات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ امیگریشن قوانین میں مزید پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کی پالیسی کا بڑا مقصد اپنے سیاسی بیس کو مضبوط رکھنا اور انتخابی ماحول میں سخت امیگریشن مؤقف کو فروغ دینا ہے۔

عوامی رائے اس حوالے سے منقسم ہے۔
کچھ امریکی اس اقدام کو سکیورٹی اور معاشی تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ امریکا کی تاریخ پناہ گزینوں کو گلے لگانے پر قائم ہے اور ایسی سخت پالیسی ملک کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو خود یا ان کے خاندان پناہ گزین پس منظر رکھتے ہیں، اس حکومتی رویے کو غیر انسانی اور امتیازی سمجھتے ہیں۔

آپ کی رائے؟

امریکا کی اس سخت پناہ گزین پالیسی کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین