ایشیائی ممالک طوفان، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہکاریوں سے لرز گئے،ایک ہفتے میں اموات 1100 سے تجاوز

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، تباہی کا سب سے زیادہ نقصان انڈونیشیا میں ہوا

ایشیائی ممالک اس وقت بدترین قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہیں، جہاں سمندری طوفان، شدید بارشوں، تباہ کن سیلاب اور خطرناک لینڈ سلائیڈنگ نے ایک ہفتے کے دوران 1100 سے زائد انسانی جانیں نگل لی ہیں۔ لاکھوں افراد متاثر جبکہ ہزاروں اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، تباہی کا سب سے زیادہ نقصان انڈونیشیا میں ہوا جہاں 604 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ سری لنکا میں 366 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ سری لنکا کے صدر انورا کمارا نے اس تباہی کو 2004 کے خوفناک سونامی سے بھی زیادہ نقصان دہ قرار دیا ہے، جو اس آفت کی شدت کا واضح ثبوت ہے۔

اسی طرح تھائی لینڈ میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 176 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ ملائیشیا میں 3 افراد ہلاک ہوئے۔ ان ممالک میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں تاہم مسلسل بارشوں نے امدادی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

اسکول تباہ، ہزاروں بچے تعلیم سے محروم

عالمی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں ہزاروں بچے اسکول جانے سے محروم ہو چکے ہیں۔

جنوبی تھائی لینڈ میں 76 ہزار سے زائد بچے تعلیمی سرگرمیوں سے دور ہو گئے ہیں۔

انڈونیشیا میں 1000 سے زائد اسکول یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں ایمرجنسی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

تنظیم کے مطابق متاثرہ بچوں کو صرف تعلیم کی نہیں بلکہ نفسیاتی، طبی اور حفاظتی امداد کی فوری ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات چھوڑ رہی ہے۔

بھارت بھی طوفان کی لپیٹ میں

ادھر بھارت کی ریاست تامل ناڈو بھی سمندری طوفان “دتوا” سے شدید متاثر ہوئی ہے۔
چنائی میں موسلا دھار بارشوں کے باعث فلائٹ آپریشن مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔

موجودہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ عملی طور پر کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ایک ہفتے میں ایک ہزار سے زائد ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایشیائی ممالک قدرتی آفات کے لیے نہ صرف خطرے کا مرکز ہیں بلکہ وہاں انفراسٹرکچر اور حفاظتی نظام بھی انتہائی کمزور ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، انڈونیشیا اور سری لنکا جیسے ممالک بار بار آنے والی آفات کے باوجود ابھی تک ایسے مضبوط نظام قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں جو جانی و مالی نقصان کو کم کرسکیں۔ بچوں کی تعلیم پر پڑنے والے اثرات آنے والے برسوں میں سماجی اور معاشی ترقی کو بھی متاثر کریں گے۔

عوامی سطح پر بھی اس تباہی پر شدید افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ متاثرہ خاندانوں کے لیے دعائیں کر رہے ہیں اور حکومتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تباہ کاریوں کے لیے ہنگامی حکمتِ عملی تیار کی جائے۔

آپ کی رائے؟

ایشیائی ممالک میں ہونے والی اس تباہ کن قدرتی آفت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین