لاہور(خصوصی رپورٹ: اورنگزیب خان)پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر فکر مندی بجا مگر پیداوار بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے۔ چین اور بھارت اپنی بڑی آبادی کو خوراک مہیا کررہے ہیں پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ آبادی کنٹرول پروگرام ضرور موثر ہونا چاہیے مگر کروڑوں ایکڑ غیر آباد زرعی زمینوں کو آبادکرنے اور زرعی پیداوار بڑھانے پر بھی فکر مندی کا اظہار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ رب العزت نے یہ زمین ایک خاص میزان اور پیمانے کے ساتھ تخلیق کی ہے، اس کے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے بھی توازن اور میزان ناگزیر ہے۔ ریاست ذرائع پیداوار بڑھائے، پانی کے نئے ذخائر بنائے، زیادہ پیداوار کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے، زراعت میں جدت لائے۔ اس کے ساتھ ساتھ برتھ کنٹرول پر بھی توجہ دی جائے، یہ دونوں کام ایک ساتھ ہونگے تو مسئلہ حل ہو گا۔ یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ کھانے والے منہ کم کرنا ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن ملکوں نے برتھ کنٹرول کے حوالے سے 100فیصد نتائج حاصل کیے انہیں بھی دیکھ لیں کہ آج وہ کس حال میں ہیں؟
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی اورنگزیب خان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آبادی کا مسئلہ ایک قدیم اور پیچیدہ چیلنج ہے، جو نہ صرف وسائل کی تقسیم بلکہ معیشت، تعلیم اور معیاری زندگی پر بھی گہرا اثر ڈال رہا ہے۔آبادی بڑھ رہی ہے جبکہ اس شرح سے ہسپتال، تعلیمی ادارے، کھیل کے میدان اور انسانی سہولیات نہیں بڑھ رہیں جس کی وجہ سے ایک بحران کا سماں ہے۔ ہسپتالوں میں جائیں تو وہاں پر بے پناہ رش نظر آتا ہے، ڈاکٹرز بھی اس انداز سے مریضوں پر توجہ نہیں دے پاتے جو مریض کا ایک بنیادی حق ہے۔ تعلیمی اداروں کے اندر بھی یہی صورتحال ہے۔ اس سارے تناظر کا سب سے سماجی المیہ پرائیویٹ سیکٹر کے کردار کا بڑھنا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں توجہ نہ ملنے کی وجہ سے لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے پر مجبور ہیں، اسی طرح سرکاری تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم میسر نہ آنے پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا رخ کیا جاتا ہے۔ اس ساری صورتحال کا حل یہی ہے کہ آبادی کو بھی کنٹرول کیا جائے اور انسانی وسائل اور پیداوار میں بھی اضافہ کیا جائے۔ ان دونوں شعبوں میں ایک ساتھ کام ہو گا تو بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
خرم نواز گنڈاپور کا سوال بالکل منطقی ہے کہ اگر چین اور بھارت اپنی بڑی آبادی کو خوراک مہیا کرنے میں کامیاب ہیں تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ دراصل مسئلہ محض آبادی کنٹرول تک محدود نہیں بلکہ یہ زمین، پانی، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور پیداوار کے موثر انتظام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں ایکڑ زمین غیر آباد اور غیر مستعمل پڑی ہے، جبکہ زرعی پیداوار میں جدت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال محدود ہے۔ اگر ریاست ان وسائل کو منظم اور جدید طریقوں سے استعمال کرے، تو نہ صرف غذائی قلت کم ہو سکتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں، جس سے سماجی دباؤ میں کمی آئے گی۔
مزید یہ کہ برتھ کنٹرول کے پروگرام پاکستان میں ابھی تک مکمل طور پر موثر نہیں ہو سکے۔ دیگر ممالک کی مثالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ صرف خاندان کی تعداد کم کرنے کے اقدامات کافی نہیں، بلکہ سماجی شعور، تعلیم، صحت عامہ اور معاشرتی سہولیات کے ساتھ یہ پروگرام کامیاب ہو سکتے ہیں۔ جن ملکوں نے برتھ کنٹرول میں 100 فیصد کامیابی حاصل کی، وہاں کے حالات بھی ایک سبق ہیں کہ معاشرتی ترقی اور معیشتی استحکام کے بغیر یہ کامیابیاں دیرپا نہیں رہتی۔
خرم نواز گنڈاپور نے بالکل درست فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور وسائل کو ایک خاص میزان کے ساتھ تخلیق کیا ہے، اور انسانی فلاح و بہبود کے لیے توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ آبادی کے توازن کے ساتھ پیداوار میں اضافہ، پانی کے نئے ذخائر، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور برتھ کنٹرول کے اقدامات اگر ایک ساتھ کیے جائیں تو یہ ایک جامع حل کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ تجزیہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ مسئلہ کا حل صرف منہ کم کرنے یا آبادی کم کرنے کی حد تک محدود نہیں، بلکہ معاشرتی، اقتصادی اور زرعی اقدامات کی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔ اگر پاکستان اس جانب سنجیدگی سے قدم اٹھائے تو نہ صرف خوراک کی قلت ختم ہو سکتی ہے بلکہ ملک کی معیشت اور عوام کی معیار زندگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آبادی اور پیداوار کا مسئلہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جس طرح زمین کو پیداوار کے لیے بروئے کار لانا ضروری ہے، اسی طرح خاندان کی منصوبہ بندی اور جدید زرعی جدت بھی ناگزیر ہے۔ یہ دونوں اقدامات اگر ہم آہنگی کے ساتھ کیے جائیں تو پاکستان ایک مضبوط، خودکفیل اور خوشحال ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے۔





















