سوشل میڈیا گروپس سے غیرملکیوں کو نکالنے کی ہدایت؟ پی ٹی اے نے حقیقت واضح کر دی

ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی

پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کے درمیان ایک نوٹیفکیشن تیزی سے وائرل ہوا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے گروپ ایڈمنز کو غیر ملکی افراد کو ہر قسم کے پاکستانی سوشل میڈیا گروپس سے نکالنے کا حکم جاری کیا ہے۔ وائرل پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن کی متن کے مطابق ملک کی حالیہ سیکیورٹی صورتحال اور آن لائن صارفین کے ڈیٹا تحفظ کے پیش نظر غیرملکی افراد کا پاکستانی گروپس میں شامل ہونا “خطرناک“ قرار دیا گیا، اور گروپ ایڈمنز کو فوری طور پر کارروائی کی ہدایات دینے کا دعویٰ کیا گیا۔

یہ پوسٹ چند ہی گھنٹوں میں مختلف پلیٹ فارمز، واٹس ایپ گروپس اور فیس بک کمیونٹیز میں گردش کرنے لگی، جس نے نہ صرف صارفین کو پریشان کیا بلکہ بہت سے گروپ ایڈمنز کو بھی کنفیوژن میں مبتلا کر دیا۔

پی ٹی اے کا واضح اور سخت ردعمل

پی ٹی اے نے اس وائرل نوٹیفکیشن کو مکمل طور پر جعلی قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کر دی۔
اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری بیان میں کہا گیا

پی ٹی اے نے کسی بھی گروپ ایڈمن کو غیر ملکی ممبرز نکالنے کی ہدایت جاری نہیں کی۔

وائرل ہونے والا نوٹیفکیشن بے بنیاد، جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔

عوام سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ مواد پر یقین نہ کریں۔

اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف پی ٹی اے کے آفیشل ذرائع سے جاری کردہ اعلان پر ہی بھروسہ کریں اور ایسے جعلی نوٹیفکیشنز کی رپورٹ کریں۔

پی ٹی اے نے اس بات پر زور دیا کہ غلط معلومات کو شیئر کرنے کا عمل نہ صرف عوام میں بے چینی پھیلاتا ہے بلکہ قومی اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کس تیزی سے پھیلتی ہیں اور عوامی ذہنوں کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہیں۔ ایک جعلی نوٹیفکیشن نے چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں صارفین کو پریشان کر دیا، جبکہ اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں فیک نیوز کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ چند لائنوں پر مشتمل جعلسازی نہ صرف عوام کو گمراہ کرتی ہے بلکہ اداروں کے درمیان غلط فہمیاں اور بداعتمادی بھی پیدا کر سکتی ہے۔
پی ٹی اے کی فوری وضاحت قابلِ تحسین ہے، تاہم یہ واقعہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ صارفین میں ڈیجیٹل لٹریسی ابھی بھی ناکافی ہے۔

عوامی رائے اس موضوع پر واضح ہے:
بہت سے صارفین نے پی ٹی اے کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بروقت وضاحت کر کے خوف و تشویش کم کی۔
جبکہ کئی شہریوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے ایسی گمراہ کن پوسٹس کیوں وائرل کر دی جاتی ہیں۔
کچھ افراد نے مطالبہ کیا کہ جعلی نوٹیفکیشن بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

آپ کی رائے؟

آپ کے خیال میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین