اسلام آباد:امریکا میں مبینہ طور پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیے گئے نوجوان لقمان خان سے متعلق پاکستانی دفترِ خارجہ کا باضابطہ ردِعمل بھی سامنے آگیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں اسے ”پاکستانی نژاد امریکی“ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم دفتر خارجہ نے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملزم پاکستانی نہیں بلکہ افغان شہری ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے مطابق لقمان خان کا تعلق افغانستان سے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم بطور مہاجر پاکستان میں کچھ عرصہ رہا تھا لیکن اس نے اپنی زیادہ تر زندگی امریکا میں ہی گزاری۔
ترجمان نے واضح کیا کہ اس کیس کا پاکستان یا کسی پاکستانی شہری سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔
یہ وضاحت اُس وقت سامنے آئی جب امریکی میڈیا نے ابتدا میں لقمان خان کو ”پاکستانی نژاد امریکی“ قرار دیا تھا، جس کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں۔
واقعے کی تفصیلات
امریکی شہر ڈیلاویئر میں 25 سالہ لقمان خان کو 24 نومبر کی رات اس وقت گرفتار کیا گیا جب پولیس نے ایک ٹرک کو روکنے کے بعد ملزم کو گاڑی سے باہر آنے کا حکم دیا، جس پر اس نے مزاحمت کی اور تعاون نہ کیا۔ پولیس نے اسے تحویل میں لے لیا۔
تلاشی کے دوران ٹرک سے:
پستول
میگزین
اور مبینہ حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق دستاویزات
برآمد ہوئیں۔
حکام کے مطابق دستاویزات میں یونیورسٹی آف ڈیلاویئر پولیس اسٹیشن کا نقشہ، داخلی و خارجی دروازوں کے مارکس، نگرانی کے پوائنٹس اور ایک پولیس افسر کا نام موجود تھا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ملزم ممکنہ طور پر کسی منظم کارروائی کی منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔
ایف بی آئی نے اگلے روز 25 نومبر کو لقمان کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے مزید اسلحہ بھی ملا۔ امریکی حکام کے مطابق لقمان خان یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کا طالب علم ہے اور اس کے خلاف غیر قانونی مشین گن رکھنے اور حملہ پلان کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
دفتر خارجہ کی وضاحت کیوں ضروری تھی؟
پاکستانی دفتر خارجہ کی وضاحت اس لیے ضروری بن گئی کہ ابتدائی رپورٹس نے پاکستان کے نام کو غیر ضروری طور پر اس کیس سے جوڑ دیا تھا۔
گذشتہ چند برسوں میں عالمی میڈیا میں پاکستانی کمیونٹی کو مختلف معاملات میں غلط طور پر ملوث کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں، اس لیے موجودہ ردعمل نہ صرف پالیسی وضاحت ہے بلکہ سفارتی ذمہ داری بھی۔
ترجمان کے بیان نے نہ صرف حقائق واضح کیے بلکہ اس غلط فہمی کو بھی دور کر دیا کہ پاکستان کا اس کیس میں کوئی کردار یا تعلق ہے۔
لقمان خان کی گرفتاری امریکا میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور تعلیمی اداروں پر ممکنہ حملوں کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ واقعہ عالمی میڈیا میں شناخت کی درست رپورٹنگ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
ابتدائی غلط رپورٹنگ نے پاکستانی شہریوں میں تشویش پیدا کی، جسے دفتر خارجہ کی فوری وضاحت نے کم کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ حساس نوعیت کے سیکیورٹی کیسز میں قومیت کی تصدیق انتہائی اہم ہوتی ہے۔پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی امیج بہتر رکھنے کے لیے ایسے معاملات میں بروقت وضاحت جاری کرتے رہنا ہوگا۔اس واقعے نے اس مسئلے کو بھی نمایاں کیا کہ مغربی میڈیا "ریجنل شناخت” کو اکثر الجھا دیتا ہے، جس کا اثر قوموں کی ساکھ پر پڑتا ہے۔
عوامی ردعمل میں بھی یہی دیکھا گیا کہ لوگ خوش ہیں کہ معاملہ جلد واضح ہوگیا، جبکہ کچھ افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ عالمی میڈیا ایسے حساس معاملات میں تصدیق کے بغیر رپورٹنگ کیوں کرتا ہے۔
آپ کی رائے؟
لقمان خان کی گرفتاری اور دفتر خارجہ کی اس وضاحت کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔





















