ایک تازہ تحقیق نے اس بڑھتے ہوئے خدشے کو تقویت دے دی ہے کہ سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر رہا ہے، جبکہ حیران کن بات یہ ہے کہ صرف ایک ہفتے کا وقفہ بھی ذہنی سکون اور طرزِ زندگی میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔
یہ تحقیق نہ صرف نوجوانوں کے لیے سبق رکھتی ہے بلکہ ڈیجیٹل دور میں ہر عمر کے فرد کے لیے ایک اہم رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔
تحقیق جرنل جاما نیٹ ورک میں شائع ہوئی، جسے ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے 18 سے 24 برس کے 295 نوجوانوں پر تین ہفتوں تک جاری رکھا۔مطالعے کے پہلے دو ہفتوں میں شرکا نے حسبِ معمول فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، ایکس اور اسنیپ چیٹ جیسی ایپس استعمال کیں، مگر تیسرے ہفتے میں سب کو ہدایت دی گئی کہ وہ پورے سات دن سوشل میڈیا سے مکمل وقفہ لیں۔
نتائج غیر معمولی تھے۔ تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا سے صرف ایک ہفتے کی دوری نے نوجوانوں میں:
اینگزائٹی میں 16 فی صد کمی
ڈپریشن میں تقریباً 25 فی صد کمی
اور بے خوابی میں 14 فی صد کمی
واضح طور پر دیکھی گئی۔یہ بہتری خاص طور پر اُن نوجوانوں میں زیادہ نمایاں تھی جو تحقیق کے آغاز میں ہی شدید ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کا شکار تھے۔
تحقیق سے کیا ثابت ہوا؟
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر لامتناہی اسکرولنگ، دوسروں کی زندگیوں سے خود کا موازنہ، لائکس اور کمنٹس کی ذہنی دوڑ، فومو (FOMO) اور نیند میں خلل یہ تمام عوامل دماغ کو مسلسل دباؤ میں رکھتے ہیں۔
وقفہ لینے سے دماغ کو فوراً ری سیٹ ہونے کا موقع ملتا ہے، جس کے مثبت اثرات ایک ہفتے کے اندر سامنے آ جاتے ہیں۔
محققین نے اس تحقیق کو نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتے ذہنی مسائل کا ممکنہ حل قرار دیا ہے اور تجویز کیا ہے کہ ہر شخص کو ماہ میں کم از کم ایک ہفتہ ڈیجیٹل ڈیٹوکس ضرور کرنا چاہیے۔
اس تحقیق کے نتائج اس حقیقت کو یاد دلاتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اگرچہ ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے، مگر اس کے استعمال میں حد سے تجاوز ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
خصوصاً نوجوان نسل، جو سوشل میڈیا کے سب سے بڑے صارف ہیں، خود کو ذہنی دباؤ، مقابلہ بازی اور نیند کی خرابی جیسے مسائل میں الجھا بیٹھی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس حد تک طاقتور ہیں کہ حکومتوں، تعلیمی اداروں اور صحت کے ماہرین کو نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل ویلفیئر پالیسیز مرتب کرنی چاہئیں۔
مزید یہ کہ والدین اور اساتذہ بھی نوجوانوں کی ذہنی صحت پر توجہ دیں اور انہیں سوشل میڈیا ہائجین سکھائیں، یعنی ایپس کے استعمال میں نظم اور وقفے۔
عوامی رائے بھی دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔
کئی نوجوان سوشل میڈیا وقفہ کو ’’زندگی بدل دینے والا تجربہ‘‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ عملی زندگی میں ایک ہفتہ دور رہنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ تعلیم، کام اور رابطے بھی اب انہی پلیٹ فارمز سے جڑے ہیں۔
تاہم اچھی تعداد ایسے صارفین کی بھی ہے جو کہہ رہے ہیں کہ تحقیق کے نتائج انہیں وقفہ لینے پر سنجیدگی سے مجبور کر رہے ہیں۔
آپ کی رائے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا سے ہفتہ وار وقفہ لینا واقعی ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔





















