نومبر 2025ءمیں آئی ایم ایف کی طرف سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ہر سال جی ڈی پی کے 6.5فیصد کے مساوی رقم کرپشن کی نظر ہو جاتی ہے۔ ایک فیصدایک ہزار ارب روپے کے برابرہوتا ہے۔ اس شرح سے یہ کرپشن 6 ہزار ارب سے زائد ہے۔ اسی رپورٹ میں ایک اور ہوشربا عدد دیکھنے کو ملتا ہے کہ ہر سال پاکستان کو قدرتی آفات، بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے جی ڈی پی کے 9.5فیصد کے برابر مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یعنی کہ 9 ہزار ارب سے زائد۔
ان دو مدات میں پاکستان ہر سال لگ بھگ16 ہزار ارب کے نقصانات کا سامنا کررہا ہے ۔ یہ بات باعث حیرت ہے کہ پاکستان تعلیم پر جی ڈی پی کا 1.9 فیصد اور صحت پر جی ڈی پی کا 0.9 فیصد خرچ کرتا ہے۔ پاکستان اس وقت شدید مالی بحران سے دو چارہے ۔ عام آدمی کی قوت خرید نہ ہونے کے برابر ہے ۔25 کروڑ آبادی والے اس ملک میں 50 فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے ہے مگر کرپشن اور بیڈگورننس کو دیکھیں کہ 16 ہزار ارب ہمارا یہ فرسودہ نظام اور اس سے جڑے ہوئے بابو ہڑپ کر جاتے ہیں ۔
گزشتہ چند سالوں میں ہم نے دیکھا کہ جواب دہی کاکلچر بھی تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔ اربوں ڈالر کے بلاضرورت فینسی منصوبے بنائےجاتے ہیں یا ناقص منصوبے تعمیر کئے جاتے ہیں ، ان منصوبوں کے ناقص ہونے کی رپورٹیں بھی مرتب ہوتی ہیں مگر ہمارے مالیاتی نظام میں آڈٹ پیروں کا بننا ایک معمول کی کارروائی سمجھی جاتی ہے۔ بظاہر پارلیمنٹ اور اسمبلیاں تو قائم ہیں مگر چیک اینڈ بیلنس نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ ہم بدترین ’’پارلیمانی آمریت ‘‘ سے دو چار ہیں۔ ایک شخص اپنی خواہش کو قومی مفاد کا لبادہ پہنا کر قومی خزانے سے جب چاہے کھیل سکتا ہے مگر اس فرسودہ نظام میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ اُس ایک شخص سے کوئی سوال کر سکے یا منصوبہ جات کی ناکامی کی صورت میں اُس کا محاسبہ یا مواخذہ کر سکے۔
اسے بھی پڑھیں: سیلابوں نے ترقی کرتی پاکستانی معیشت کو گہرے زخم دیے ہیں:ورلڈ بینک
اگر ہمارے بااختیار طبقات توانائی سستی نہیں کر سکتے، نئے آبی ذخائر تعمیر نہیں کر سکتے ،زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں کر سکتے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے مضمرات سے نبردآزما نہیں ہو سکتے ،آبادی کے بم کو ڈی فیوز نہیں کر سکتے تو کم از کم کرپشن اور قدرتی آفات کی وجہ سے ہونے والے جی ڈی پی کے ان 16 فیصد مالی نقصانات کو تو بتدریج کم کر سکتے ہیں؟۔ اگر کرپشن اور بیڈگورننس کی نظر ہونے والے 50 فیصد وسائل کو ہی بچا لیا جائے تو ہمیں مزید قرضے لینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
2022ء میں سیلاب آیا، 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، لاکھوں ایکڑ زمینوں پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، کرپشن کی رپورٹس بھی بنیں کہ تباہ کاریوں کی بڑی وجہ ناقص میٹریل کا استعمال تھا اور کاغذوں میں کچھ ایسے بند اور پشتے بھی موجود تھے جن کا زمین پر وجود نہیں تھااور سیلاب کی اس آفت کو قدرتی آفت قرار دے کر مخیر حضرات کی جیبوں پر الگ سے ڈاکے ڈالے گئے۔ ہر سال بند اور حفاظتی پشتے بنتے ہیں مگر اُن میں ناقص میٹریل استعمال ہوتا ہے ،اس ناقص میٹریل کے استعمال کے پیچھے کک بیکس اور کرپشن کی لمبی کہانیاں ہوتی ہیں اور پھر سیلاب کا ایک ریلا ان سارے حفاظتی پشتوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے اور یہ سیلاب آڈٹ کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیتے ہیں۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو جو بیرونی دنیا سے فنڈز اور امداد ملتی ہے اس کا40 فیصد بھی کرپشن کی نظر ہو جاتا ہے۔ اب پھر آئندہ سال جولائی، اگست آئے گا بارشیں بھی آئیں گی ،سیلاب بھی آئیں گے، کسان اپنی فصلوں سمیت پانی میں بہیں گے اور پھرپاکستان نقصانات کا ڈھنڈورا پیٹ کر مزید قرضے لے گا اور مزید سود کے بوجھ تلے آئے گا،۔پچھلی دو دہائیوں کا چلن بتاتا ہے کہ نہ کچھ بدلا ہے اور نہ بدلنے کی کوئی امید ہے۔
یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے کرپشن پر ہوشربا رپورٹ پیش کی مگر اس رپورٹ کے مندرجات کا جائزہ لینے اور کرپشن کی روک تھام کے لئے تاحال کوئی سنجیدہ اقدامات بروئے کار نہیں لائے گئے جس سے واضح ہوتا ہے کہ کچھ نہیں بدلے گا۔ہر سانحہ کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کرنے کی روش جاری رہے گی اور یہ بدقسمت قوم اسی طرح غربت کی چکی میں پستی رہے گی۔ گورننس کا یہ آدم خور ماڈل بتدریج ریاست خوری کی طرف بڑھ رہا ہے۔





















