لاہور(خصوصی رپورٹ: محمد اورنگزیب خان)منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے گزشتہ روز کنگ حمد گلوبل سنٹر فار پیس بحرین کے نائب چیئرمین ڈاکٹر علی الاعرادی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ڈاکٹر علی الاعرادی نے چیئرمین سپریم کونسل کا اپنے آفس میں پرتپاک استقبال کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس موقع پر منہاج القرآن کی امن اور فروغ علم کے حوالے سے قومی و بین الاقوامی خدمات پر بریفنگ دی، انہوں نے بتایا منہاج القرآن انٹرنیشنل بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سرپرستی اور فکری راہنمائی میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے ،اتحاد اُمت، بین المذاہب رواداری و بین المسالک ہم آہنگی کے لئے تحریری و تقریری سطح پر فعال کردار ادا کررہی ہے اور اس ضمن میں سینکڑوں کتب تصنیف کی جا چکی ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس موقع پر شیخ الاسلام کے تصنیف کردہ دہشت گردی کیخلاف مبسوط فتویٰ اور فروغ امن پر لکھی جانے والی کتب پیش کیں۔

چیئرمین سپریم کونسل نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’دستور مدینہ اور فلاحی ریاست کا تصور‘‘ بھی دی جسے ڈاکٹر علی الاعرادی نے ایک شاندار تاریخی تحقیق قرار دیا۔ کنگ حمد گلوبل سنٹر فار پیس بحرین کے نائب چیئرمین نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کی علم و امن اور انتہا پسندی خاتمے کے ضمن میں بروئے کار لائی جانے والی خدمات کو سراہا اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس موقع پر شاہِ بحرین ولی عہد ووزیراعظم کی ویژنری قیادت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ بحرین کو امن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلتے ہوئے ایک مثالی ریاست بنایا گیا ہے اور آج بحرین اعتدال و رواداری کی مضبوط اقدار کی وجہ سے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی محمد اورنگزیب خان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے وفود اور عالمی اداروں کے مابین ہونے والی ملاقاتیں ہمیشہ علمی، فکری اور امن و سلامتی کے فروغ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوئی ہیں۔ اسی تسلسل میں چیئرمین سپریم کونسل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی کنگ حمد گلوبل سنٹر فار پیس بحرین کے نائب چیئرمین ڈاکٹر علی الاعرادی سے ملاقات نہ صرف دونوں اداروں کے درمیان فکری قربت کا ثبوت ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے ایجنڈے کو مضبوط بنیادیں فراہم کرتی ہے۔
اس ملاقات کا سب سے اہم پہلو وہ جامع بریفنگ ہے جو پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے منہاج القرآن کی دہائیوں پر محیط خدمات کے حوالے سے پیش کی۔ یہ حقیقت قابلِ تحسین ہے کہ منہاج القرآن نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی وژنری رہنمائی میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف عالمی سطح پر فکری جنگ لڑی ہے۔ ایسی جنگ جس کا ہتھیار بندوق نہیں بلکہ علم، تحقیق اور دلائل ہیں۔
شیخ الاسلام کا دہشت گردی کے خلاف مبسوط فتویٰ دنیا بھر میں امن کے علَم برداروں کے لیے ایک حوالہ بن چکا ہے۔ یہ واحد فتویٰ ہے جو دہشت گردی کے ہر تصور کو غیر اسلامی قرار دے کر نوجوان نسل کو گمراہی سے بچانے کا مضبوط فکری حصار فراہم کرتا ہے۔
ملاقات کے دوران پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی جانب سے امن، رواداری اور ریاستی فلاح کے موضوعات پر لکھی گئی کتب کا تحفہ پیش کیا جانا محض ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ علمی ورثہ معاشروں کو بدلنے کی اصل قوت رکھتا ہے۔

’’دستور مدینہ اور فلاحی ریاست کا تصور‘‘ جیسی شہرہ آفاق کتاب کو ڈاکٹر علی الاعرادی کی جانب سے تاریخی تحقیق قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ منہاج القرآن کا علمی ذخیرہ نہ صرف مسلم دنیا بلکہ عالمی اداروں کے لیے بھی قابلِ اعتماد حوالہ بن چکا ہے۔
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی جانب سے شاہِ بحرین، ولی عہد اور وزیراعظم کی ویژنری قیادت کو خراج تحسین پیش کرنا علاقائی امن کے تناظر میں نہایت اہم ہے۔ بحرین نے بقائے باہمی، اعتدال اور مذہبی ہم آہنگی کو ریاستی پالیسیوں کا حصہ بنا کر پوری دنیا کے لیے ایک نمونہ پیش کیا ہے۔
بحرین کا امن ماڈل اس بات کی عملی مثال ہے کہ مضبوط قیادت، سماجی رواداری اور انسانی حقوق کا احترام کسی بھی ملک کو ترقی اور استحکام کی جانب لے جاتا ہے۔
ڈاکٹر علی الاعرادی کی جانب سے منہاج القرآن اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی خدمات کو عالمی طور پر سراہنا نہ صرف ایک اعزاز ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ پاکستان سے اٹھنے والی یہ تحریک دنیا بھر میں فلسفۂ امن و اعتدال کی ترجمان بن چکی ہے۔
اس موقع پر یادگاری شیلڈ کا تحفہ دو اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، احترام اور تعاون کی علامت ہے۔





















