بلوچستان: کالعدم تنظیم کے کمانڈر سمیت 100 ساتھیوں نے ہتھیار ڈال دئیے، پاکستان کا جھنڈا تھام لیا

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کمانڈر اور تمام رہنماؤں کو قومی دھارے میں شمولیت پر مبارکباد دی

بلوچستان کے علاقے سوئی میں ایک خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کالعدم تنظیم کے کمانڈر سمیت ایک سو سے زائد افراد نے ہتھیار ڈال کر پاکستان کا جھنڈا تھام لیا اور ریاست سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔ یہ اقدام امن اور قومی اتحاد کی جانب ایک مضبوط پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وڈیرہ نور علی چاکرانی اور ان کے ساتھیوں نے اپنے اسلحہ حکام کے حوالے کر دیے اور قومی دھارے میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کمانڈر اور تمام رہنماؤں کو قومی دھارے میں شمولیت پر مبارکباد دی اور اس فیصلے کو انتہائی قابلِ ستائش قرار دیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوئی ڈیرہ بگٹی میں وڈیرہ نور علی چاکرانی اور سو سے زائد ساتھیوں کا قومی دھارے میں شامل ہونا امن کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہتھیار ڈال کر پاکستان کا پرچم تھامنے والے افراد نے امن کے سفر کا آغاز کیا ہے اور یہ واضح پیغام ہے کہ ریاست نے بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان میں ریاست مخالف عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں، لیکن جو لوگ ہتھیار ڈال کر آئینِ پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں، انہیں گلے لگانے کا عمل بھی جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے انتباہ کیا کہ ریاست کی نرمی کو کمزوری سمجھنے والوں کا آخری دم تک تعاقب کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام اور قومی اتحاد کے فروغ کے لیے ایک روشن مثال ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ بات چیت اور سمجھوتہ ہر چیلنج پر غالب آ سکتا ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی عبدالحفیظ چودھری نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے علاقے سوئی میں ایک خوش آئند پیش رفت نے نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے لیے امن اور قومی اتحاد کے امکانات کو روشن کیا ہے۔ کالعدم تنظیم کے کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی اور ان کے ایک سو سے زائد ساتھیوں نے ہتھیار ڈال کر پاکستان کے جھنڈے کو تھاما اور ریاست کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا۔ یہ اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ عسکری قوت کے بغیر بھی مسائل کا حل ممکن ہے اور امن کی راہ میں بات چیت اور سمجھوتہ سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس پیش رفت کو انتہائی قابلِ ستائش قرار دیا اور کہا کہ قومی دھارے میں شامل ہونے والے افراد نے امن کے سفر کا آغاز کیا ہے۔ اس اعلان سے نہ صرف مقامی عوام میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے بلکہ یہ دیگر ریاست مخالف عناصر کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ تشدد اور ہتھیاروں کے ذریعے کسی مقصد کو حاصل کرنا کامیابی نہیں۔

تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد سازی کی کوششیں جاری ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے افراد کو گلے لگانا اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا صرف ایک رسمی اقدام نہیں بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست عوامی فلاح و بہبود، قانون کی حکمرانی اور پائیدار امن کے لیے سنجیدہ ہے۔ اس عمل سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ ریاست کی نرمی کمزوری نہیں، بلکہ حکمت عملی ہے جو تشدد کی راہ چھوڑ کر بات چیت اور مفاہمت کی ترغیب دیتی ہے۔

یہ اقدام بلوچستان میں دیرپا امن کی راہ ہموار کرنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری ملے گی بلکہ یہاں کی مقامی حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان اعتماد بھی بڑھے گا۔ علاوہ ازیں، یہ پیش رفت نوجوان نسل کے لیے ایک مثبت مثال ہے کہ وہ ریاست کی جانب آئیں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

مزید یہ کہ، اس واقعے سے یہ بات بھی اجاگر ہوتی ہے کہ ریاست مخالف عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہنا ضروری ہیں تاکہ تشدد اور انتہا پسندی کے دوبارہ ابھرنے کا خطرہ کم سے کم کیا جا سکے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ، انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوششیں بھی جاری رہیں تو یہ حکمت عملی زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔

مختصراً، سوئی میں یہ پیش رفت بلوچستان میں امن کے قیام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ یہ واضح کرتی ہے کہ بات چیت، اعتماد سازی اور حکمت عملی کے ذریعے کشیدہ صورتحال کو پرامن انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔ ریاست کی طرف سے تشدد ترک کرنے والوں کو قبول کرنے کا عمل اور آئین کی پاسداری پر زور دینا مستقبل میں صوبے کی ترقی اور ملک کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین