لاہور/فیصل آباد/بہاولپور:پنجاب ایک بڑی تباہی کے منصوبے سے اس وقت محفوظ ہوگیا جب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پنجاب نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلق رکھنے والے بارہ دہشتگردوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، بارودی مواد، ڈیٹونیٹر، آئی ای ڈیز اور نقد رقم برآمد کرلی۔ سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ملزمان کے پاس سے حساس اداروں، اہم تنصیبات، ایک مدرسے اور ایک میلے کی تصاویر، ویڈیوز اور جیولوکیشن بھی ملی ہیں جو کسی بڑے سانحے کی واضح منصوبہ بندی کا ثبوت ہیں۔
سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی ان کارروائیوں نے ممکنہ تباہی کے خطرے کو موقعے پر ہی ناکام بنا دیا۔ ترجمان کے مطابق فیصل آباد سے گرفتار کیے گئے دہشتگرد پنجاب میں خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے تھے۔
لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور سے گرفتار دہشتگردوں کی تفصیلات
سی ٹی ڈی کے مطابق لاہور میں گرفتار ہونے والے مشتبہ دہشتگردوں میں سکھ دیپ سنگھ، عظمت، فیضان، نبیل، ابرار، عثمان اور سرفراز شامل ہیں، جبکہ فیصل آباد سے دانش کو حراست میں لیا گیا۔ اسی طرح بہاولپور سے پکڑے گئے ’فتنہ الہندوستان‘ گروہ کے دہشتگردوں میں رجب، ہاشم، ثاقب اور عارف شامل ہیں۔
ترجمان نے انکشاف کیا کہ گرفتار دہشتگرد ایک فیس بک آئی ڈی "عادل” کے ذریعے رابطے میں تھے جو بھارت میں بیٹھ کر ’را‘ کے اہلکار استعمال کر رہے تھے۔ اسی آئی ڈی کی ٹریسنگ کے ذریعے ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی۔ مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ سکھ دیپ سنگھ، جو اس گروہ کا اہم رکن تھا، پیدائشی طور پر مسیحی تھا لیکن کچھ عرصہ قبل اس نے مذہب تبدیل کیا تھا۔
بھاری فنڈنگ اور اسلحے کی فراہمی کا انکشاف
سی ٹی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے گرفتار دہشتگردوں کو بھارتی ایجنسی را کی جانب سے نہ صرف بھاری فنڈنگ فراہم کی جاتی رہی بلکہ انہیں مختلف ٹارگٹس اور حساس مقامات کی رییکی کے احکامات بھی دیے جاتے تھے۔ برآمد شدہ اسلحے میں آئی ای ڈی بم، سات ڈیٹونیٹر، دو حفاظتی فیوز، 102 فٹ لمبی وائر، موبائل فونز، نقد رقم اور جدید ہتھیار شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق ملزمان کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جبکہ ان سے مزید اہم معلومات کے حصول کے لیے تفتیش جاری ہے۔
سی ٹی ڈی کی تازہ کارروائیاں نہ صرف قابل تحسین ہیں بلکہ یہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ پاکستان دشمن عناصر داخلی امن اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔ پنجاب جیسے گنجان آباد صوبے میں اگر یہ نیٹ ورک بروقت پکڑا نہ جاتا تو نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے تھے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی کی فنڈنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے رابطوں کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگردی کے طریقۂ کار وقت کے ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں اور اداروں کو بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی منصوبہ بندی پر مزید سخت نظر رکھنی ہوگی۔
عوامی رائے
اس واقعے کے بعد عوامی سطح پر ملی جلی آراء سامنے آئی ہیں
بہت سے شہری سی ٹی ڈی کی بروقت کارروائی کو ملک کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔کچھ لوگ اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ دشمن عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو بھرتی کر رہے ہیں، جس پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔کئی شہری حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس نیٹ ورک کے سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا سدباب کیا جا سکے۔
میری رائے
میرے نزدیک یہ کارروائی پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور چوکسی کا ثبوت ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دشمن کے نیٹ ورک مسلسل نئے انداز میں سرگرم ہیں، اس لیے ریاست کو اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مزید جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اس نوعیت کا نیٹ ورک پکڑا جانا واضح کرتا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں، بلکہ مزید ہوشیاری کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا۔





















