بالی ووڈ کی تاریخ میں اپنی الگ پہچان رکھنے والی شاہکار فلم تھری ایڈیٹس ایک بار پھر پردۂ اسکرین پر دھوم مچانے کو تیار ہے۔ 15 برس بعد اس فلم کا سیکوئل شروع ہونے جا رہا ہے، جس کی خبر نے نہ صرف شائقین میں بے حد جوش پیدا کیا ہے بلکہ فلم انڈسٹری میں بھی نئی اُمنگ جگا دی ہے۔ سنہ 2009 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی تھی اور وقت کے ساتھ ایک کلٹ کلاسک بن کر آج بھی لوگوں کے دلوں پر راج کر رہی ہے۔ اب وہی اسٹیج، وہی کردار اور وہی جذبات ایک نئی شدت کے ساتھ واپسی اختیار کرنے والے ہیں۔
پرانے کرداروں کی شان دار واپسی
بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کے سیکوئل کا اسکرپٹ مکمل کر لیا گیا ہے اور اس کا پلاٹ نہایت سوچ سمجھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فلم کی مرکزی کاسٹ عامر خان، کرینہ کپور، آر۔ مادھون اور شرمان جوشی—دوبارہ وہی یادگار کردار نبھاتے ہوئے نظر آئیں گے
رانچھو، پیا، فرحان اور راجو۔چاروں کی اسکرین کیمسٹری ویسے ہی برقرار رہے گی، البتہ اس بار کہانی میں ان کی عمر، تجربات اور زندگی کے نئے زاویے بھی شامل کیے گئے ہیں جو ماحول کو مزید حقیقت پسندانہ اور دل کو چھونے والا بنائیں گے۔
کہانی وہیں سے آگے، مگر رنگ اور بھی گہرا
سیکوئل کی کہانی وہیں سے شروع ہوگی جہاں 2009 کی فلم ختم ہوئی تھی۔ تقریباً ڈیڑھ دہائی بعد چاروں ایک نئی مہم، نئے چیلنجز اور زندگی کے بدلتے اصولوں کے ساتھ دوبارہ سامنے آئیں گے۔ اس بار فلم میں ان کرداروں کی ’’بزرگی‘‘ کی زندگی کو دکھایا جائے گا۔دوستی کے نئے مزاج، ذاتی جدوجہد کے نئے مرحلے، اور عمر کے ساتھ بدلتے نظریات کہانی کا اہم حصہ ہوں گے۔
مزاح بھی اسی تبدیلی کے مطابق نئے پیرائے میں پیش کیا جائے گا تاکہ نئی نسل اور پرانے شائقین دونوں اس سے یکساں محظوظ ہوسکیں۔
کئی سال کا انتظار
باوثوق ذرائع کے مطابق ہدایتکار راج کمار ہیرانی برسوں سے اس سیکوئل کے بارے میں سوچ رہے تھے مگر انہیں بہترین اسکرپٹ کا انتظار تھا۔ دادا صاحب پھالکے کی بایوپک مؤخر ہونے کے بعد انہوں نے اپنی تمام توجہ تھری ایڈیٹس 2 پر مرکوز کر دی۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ پہلی فلم کے معیار اور اثر کو کوئی کمی نہ آنے دیں، بلکہ اس بار کہانی کو اس قدر مضبوط بنائیں کہ ناظرین اسے بھی ایک تاریخی فلم کے طور پر یاد رکھیں۔
ایک انقلاب جسے آج بھی لوگ نہیں بھولے
اصل فلم نے نہ صرف باکس آفس پر کامیابی حاصل کی بلکہ بھارتی تعلیمی نظام اور اس کے دباؤ پر کھلی بحث بھی چھیڑ دی۔ ’’گریڈ‘‘ کی دوڑ، والدین کی توقعات اور طلبہ کی جدوجہد کو جس طرح پیش کیا گیا، وہ آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ فلم کے کئی ڈائیلاگز اب بھی مقبول ہیں جبکہ ’’آل از ویل‘‘ آج بھی لوگوں کے ہونٹوں پر رہنے والا ایک بے مثال جملہ ہے۔
مداحوں میں بے چینی
فلم کی مکمل کاسٹ کی واپسی کے اعلان کے بعد شائقین اسے آنے والے سالوں کی سب سے زیادہ انتظار کی جانے والی فلم قرار دے رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری بھی اس پروجیکٹ کو ایک بڑے سینما ایونٹ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک عامر خان پروڈکشن اور راج کمار ہیرانی کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، لیکن ایڈوانس رپورٹوں نے مداحوں کی اُمیدوں کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
تھری ایڈیٹس وہ فلم تھی جس نے نہ صرف دل جیتے بلکہ معاشرتی سوچ کو بھی بدل ڈالا۔ 15 سال بعد اس کا سیکوئل بننا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اچھا سینما کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ وہ فلم آج بھی نئی نسل کو متاثر کرتی ہے، اور سیکوئل کا آنا اس کے کرداروں اور پیغام کی دائمی قوت کو ثابت کرتا ہے۔ اگر اس بار بھی کہانی میں وہی گہرائی، وہی جذبات اور وہی دانش موجود ہوئی تو یہ فلم ایک بار پھر باکس آفس کے ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔
عوامی رائے
شائقین کا کہنا ہے کہ اگر اصل کاسٹ وہی ہے تو سیکوئل ضرور کامیاب ہوگا۔
کچھ افراد کو خدشہ ہے کہ پہلی فلم کا معیار بہت اونچا تھا، اس لیے دوسری فلم پر دباؤ زیادہ ہوگا۔
مداح پرجوش ہیں کہ ان کرداروں کو بڑھتی عمر اور نئی زندگی کی حقیقتوں کے ساتھ دیکھنا مزید دلکش تجربہ ہوگا۔
میری رائے
میرے نزدیک تھری ایڈیٹس جیسی کلاسک فلم کا سیکوئل بنانا ایک بہادری بھرا فیصلہ ہے۔ اگر راج کمار ہیرانی اور پوری ٹیم پہلے جیسی محنت اور سنجیدگی دکھائے تو یہ پروجیکٹ ایک عظیم سینمائی واپسی ثابت ہوسکتا ہے۔ اصل فلم نے دلوں پر جو نقش چھوڑا، سیکوئل اس کو مزید گہرا کرسکتا ہے۔بشرطیکہ مزاح، جذبات اور پیغام میں وہی صداقت برقرار رکھی جائے۔





















