دنیا بھر میں موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے مضر اثرات پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سائنس دانوں نے ایک نئی امید افزا پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ محققین کے مطابق انہوں نے ایک ایسا نیا مرکب تیار کیا ہے جو نہ صرف میٹابولزم کو تیز کرتا ہے بلکہ بلڈ شوگر کی سطح کو بھی مؤثر طریقے سے بہتر بناتا ہے۔اور سب سے اہم بات یہ کہ اس کے وہ مضر اثرات نہیں پائے گئے جو عام طور پر وزن کم کرنے والی جی ایل پی-1 ادویات سے منسلک ہوتے ہیں۔
وزن کم کرنے کی دنیا میں ممکنہ انقلاب
اوزیمپک (Ozempic) اور ویگووی (Wegovy) جیسی جی ایل پی-1 کلاس کی ادویات نے دنیا بھر میں موٹاپے کے خلاف غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ دوائیں ہفتہ وار انجیکشن کی صورت میں دی جاتی ہیں اور دماغ و معدے کے درمیان رابطے کو تبدیل کرکے بھوک میں کمی لاتی ہیں۔
تاہم ان ادویات کے نمایاں سائیڈ ایفیکٹس بھی موجود ہیں، جن میں شامل ہیں
-
بھوک کا شدید کم ہو جانا
-
مسل ماس میں کمی
-
معدے اور پیٹ کی تکلیف
یہ عوامل بعض مریضوں کے لیے وزن کم کرنے کے باوجود صحت کے دیگر مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کا نیا نقطۂ نظر
محققین کا کہنا ہے کہ ان کا نیا تیار کردہ مرکب وزن کم کرنے کے لیے بھوک پر اثر انداز ہونے کے روایتی طریقے کے بجائے جسم کے پٹھوں میں میٹابولک سرگرمی کو براہ راست بڑھاتا ہے۔ یعنی وزن کم کرنے کا عمل بھوک دبانے سے نہیں بلکہ جسم میں توانائی کے استعمال اور جلنے کو تیز کرنے سے ہوتا ہے، جو زیادہ صحت مند اور قدرتی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
جانوروں پر تجربات
ابتدائی آزمائش جانوروں پر کی گئی جس کے نتائج انتہائی امید افزا رہے۔ محققین نے بتایا کہ
-
بلڈ شوگر میں بہتری دیکھی گئی
-
وزن میں کمی آئی
-
کوئی بڑا یا خطرناک مضر اثر سامنے نہیں آیا
سب سے اہم بات یہ کہ یہ مرکب اُن سائیڈ ایفیکٹس سے پاک نظر آتا ہے جو جی ایل پی-1 ادویات کے استعمال کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔
محققین کے مطابق اگر انسانی آزمائشیں بھی کامیاب رہیں تو یہ مرکب مستقبل میں ایسی گولیاں بنانے میں مدد دے سکتا ہے جو وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کو کمزوری، بھوک میں غیرمعمولی کمی یا مسلز کے نقصان جیسے مسائل سے محفوظ رکھیں گی۔
وزن کم کرنے کی ادویات کے میدان میں یہ پیش رفت بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں موٹاپا نہ صرف طبی مسئلہ ہے بلکہ معاشرتی اور معاشی چیلنج بھی ہے۔ اگر یہ نیا مرکب واقعی مؤثر ثابت ہوتا ہے تو یہ وزن کم کرنے کی صنعت میں ایک انقلاب برپا کر سکتا ہے۔
اس وقت دستیاب جی ایل پی-1 ادویات انتہائی مؤثر ضرور ہیں مگر ان کے مضر اثرات علاج اور مریضوں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ نئی دوا کا فائدہ یہ ہوگا کہ لوگ وزن کم کرتے ہوئے مسل ماس یا خوراک کی شدید کمی کے مسائل سے محفوظ رہ سکیں گے۔
اگر یہ مرکب انسانی آزمائشوں میں بھی کامیاب ہوتا ہے تو اس کی دستیابی دنیا بھر کے صحت عامہ کے نظام کو بدل سکتی ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو وزن کم کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں جیسے ذیابیطس کے خطرات کا بھی سامنا کرتے ہیں۔
عوامی رائے
بہت سے لوگ اسے وزن کم کرنے کے خواب کی تعبیر قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جنہیں اوزیمپک جیسے انجیکشنز کے سائیڈ ایفیکٹس نے پریشان کر رکھا تھا۔
کچھ افراد محتاط امید رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انسانی آزمائشوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی اس پر مکمل بھروسہ کیا جائے۔
موٹاپے سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر واقعی یہ دوا بغیر مضر اثرات کے ہے تو یہ ان کی زندگی بدل سکتی ہے۔
میری رائے
میرے نزدیک یہ پیش رفت انتہائی اہم ہے۔ موٹاپا آج کی دنیا کا بڑا طبی مسئلہ ہے اور اگر کوئی دوا وزن کم کرنے کے ساتھ صحت کو بھی محفوظ رکھ سکے تو یہ ایک نعمت سے کم نہیں۔ تاہم، اصل امتحان انسانی آزمائشیں ہوں گی۔ اگر یہ دوا وہاں بھی محفوظ اور مؤثر ثابت ہوتی ہے تو یقیناً طبّی دنیا میں یہ ایک تاریخی سنگِ میل بنے گی۔





















