حکومت نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے پر غور شروع کر دیا

وزیراعلیٰ کے خاندان کے بعض افراد منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں اور انہیں سرپرستی حاصل ہے،اختیار ولی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کا موقف ہے کہ حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں رہا، اور پی ٹی آئی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے اپنے ایجنڈے پر گامزن ہے۔ احتجاج کے نام پر فتنہ اور انتشار پھیلانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس سلسلے میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے کہا کہ حکومت اس بات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے کہ قیدی کو اڈیالہ جیل سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔

اختیار ولی نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا منشیات اسمگلروں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے اور ان کی کارکردگی نہ صرف ناکافی بلکہ منفی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے خاندان کے بعض افراد منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں اور انہیں سرپرستی حاصل ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر ان کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا تھا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی عبدالحفیظ چودھری نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی مہینوں سے کشیدہ ہیں۔ عمران خان کے حامی احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے ملک کی سیاسی اور سماجی فضا پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم کی بہنوں کا اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا اور پولیس کے ساتھ ٹکراؤ اس کشیدگی کی واضح علامت ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے واضح کیا کہ حکومت اس بات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی محفوظ اور مناسب مقام پر منتقل کیا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف ملکی سلامتی اور عوامی تحفظ کے تناظر میں لیا جا رہا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامہ آرائی سے بچا جا سکے۔

اختیار ولی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر منشیات اسمگلرز کے ساتھ تعلقات کے الزامات عائد کیے ہیں اور ان کی کارکردگی کو “منفی” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے خاندان کے بعض افراد منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں اور انہیں سرپرستی حاصل ہے۔ یہ الزامات حکومت اور صوبائی قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی تنازع کی عکاسی کرتے ہیں۔

گزشتہ روز عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر ان کی بہنوں نے جیل کے باہر دھرنا دیا، جس پر پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اس دوران پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی ہوا، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہ واقعہ اس بات کا عندیہ ہے کہ سیاسی کشیدگی کا اثر عام عوام اور مظاہرین پر بھی پڑ رہا ہے، اور مستقبل میں کسی بھی بڑے احتجاج یا ہنگامہ آرائی کے امکانات موجود ہیں۔

سیاسی اثرات: اگر عمران خان کو منتقل کیا جاتا ہے تو یہ اقدام سیاسی سطح پر مختلف ردعمل پیدا کر سکتا ہے، جس میں پی ٹی آئی کے حامی اور دیگر سیاسی جماعتیں اپنی رائے کا اظہار کر سکتی ہیں۔

سیکورٹی اور استحکام: منتقلی سے ممکنہ ہنگاموں کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور جیل میں ہونے والے ممکنہ تشدد یا کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔

قانونی اور انسانی حقوق: قیدی کے تحفظ اور انسانی حقوق کے مدنظر بھی یہ اقدام اہم ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی زیادتی یا نقصان سے بچا جا سکے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حکومت کا اقدام نہ صرف سیاسی اور سکیورٹی کے تناظر میں اہم ہے بلکہ یہ ملکی استحکام کے لیے بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ عمران خان کی جیل منتقلی کے حوالے سے فیصلہ آئندہ چند دنوں میں سامنے آ سکتا ہے، اور یہ ملک کی سیاسی فضا پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین