پاکستان میں مہنگائی 2.3 سے بڑھ کر9.8 تک جانے کا خدشہ

آئندہ مالی سال میں معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ 16.3 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، جب کہ مالی سال 2025 میں یہ شرح 15.9 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی حالیہ معاشی صورتحال کا جائزہ جاری کرتے ہوئے آئندہ برسوں میں مہنگائی میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ادارے کی جانب سے گزشتہ دو برس کی کارکردگی اور رواں مالی سال کی معاشی پیشگوئیاں بھی پیش کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح، جو جون 2025 میں 3.2 فیصد تھی، آئندہ مہینوں میں بڑھ کر 4.5 فیصد سے 6.3 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، جب کہ جون 2026 تک یہ شرح 8.9 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے بتایا کہ رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح 3.2 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ بیروزگاری کی شرح میں بھی معمولی بہتری کے آثار ظاہر کیے گئے ہیں، جو 8 فیصد سے کم ہو کر 7.5 فیصد تک آنے کا امکان ہے۔

ادارے کے مطابق آئندہ مالی سال میں معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ 16.3 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، جب کہ مالی سال 2025 میں یہ شرح 15.9 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ مالیاتی خسارہ بھی 2026 میں کم ہو کر 4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ سال 5.4 فیصد تھا۔

قرضوں کے حوالے سے آئی ایم ایف نے بتایا کہ مالی سال 2026 میں مجموعی قرضوں کا بوجھ جی ڈی پی کے 69.6 فیصد تک محدود رہنے کی توقع ہے، جب کہ 2025 میں یہ شرح 70.6 فیصد تھی۔ اسی طرح غیر ملکی قرضے بھی 2026 میں معیشت کے 22.5 فیصد کے برابر رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو مالی سال 2025 میں بھی یہی سطح برقرار رکھے ہوئے تھے۔

سرمایہ کاری کے میدان میں معمولی کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جہاں 2026 میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 0.5 فیصد تک آنے کا خدشہ ہے، جب کہ 2025 میں یہ 0.6 فیصد تھی۔

زرمبادلہ کے ذخائر کے بارے میں آئی ایم ایف نے نسبتاً مثبت پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی سال 2026 میں ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جو 2025 میں 14.5 ارب ڈالر تھے۔

یہ رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ جہاں کچھ شعبوں میں بہتری کا امکان موجود ہے، وہیں مہنگائی اور سرمایہ کاری جیسے حساس شعبوں میں مؤثر پالیسی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین