پنجاب حکومت کا لاہور میں 2بار بسنت منانے کا فیصلہ

فروری کے مرحلے کی کامیابی کے بعد مارچ کے آخری ہفتے میں دوسرا بسنت جشن منعقد ہوگا

لاہور: پنجاب حکومت نے شہر لاہور میں بسنت کے تہوار کو دو مرحلوں میں منانے کا جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت نہ صرف فروری میں روایتی انداز میں بسنت منائی جائے گی بلکہ مارچ میں دوسرا بڑا جشن بھی شہر کی فضاؤں کو رنگین کرے گا۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق پہلا بسنت فیسٹیول 6، 7 اور 8 فروری کو بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منعقد کیا جائے گا، جبکہ فروری کے مرحلے کی کامیابی کے بعد مارچ کے آخری ہفتے میں دوسرا بسنت جشن منعقد ہوگا۔

حکام کے مطابق اس مرتبہ بسنت کا تہوار چند مخصوص مقامات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے لاہور میں سرکاری سرپرستی میں منایا جائے گا۔ اس حوالے سے تمام انتظامات اور منصوبہ بندی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں تمام اداروں کو ان کے فرائض اور ذمہ داریاں تفویض کی گئیں تاکہ بسنت کے دوران شہریوں کو نہ صرف بھرپور تفریح فراہم کی جائے بلکہ حفاظتی اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بسنت کے لیے قانونی مسودہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں پتنگ بازی کے قواعدوضوابط، اجازت ناموں کا طریقۂ کار، ڈور اور پتنگ کی منظوری کے معیارات اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی شامل ہے۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پتنگ اور ڈور کی فروخت صرف حکومت کے نامزد کردہ مقامات پر اور طے شدہ شرائط کے تحت ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد خطرناک ڈور، غیر قانونی کاروبار اور حادثات کا مؤثر خاتمہ ہے۔

اسے بھی پڑھیں: پاکستان میں مہنگائی 2.3 سے بڑھ کر9.8 تک جانے کا خدشہ

مزید بتایا گیا ہے کہ تین روزہ بسنت سرگرمیوں کے مختلف پروگرامز کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے، جن میں اسپورٹس، میوزک ایونٹس، فیملی فیسٹیولز، فوڈ اسٹریٹس اور تاریخی مقامات پر خصوصی ایونٹس سمیت مختلف تقریبات شامل ہوں گی، تاکہ شہر میں رنگوں، ثقافت اور روایتی تفریح کا ماحول پیدا کیا جاسکے۔

سکیورٹی پلان کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ پولیس، ریسکیو 1122، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ سکیورٹی یونٹ تشکیل دیا گیا ہے جو تینوں دن شہر بھر میں الرٹ رہے گا۔ چھتوں پر نگرانی، حساس علاقوں میں گشت، ٹریفک مینجمنٹ، ایمبولینس ڈیوٹیز اور ایمرجنسی ریسپانس پلان کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بسنت صرف اس صورت میں کامیاب اور محفوظ ہو سکتی ہے جب شہری بھی قواعد کی پاسداری میں اپنا کردار ادا کریں۔

پنجاب حکومت کے مطابق بسنت لاہور کی ثقافت، ورثے اور تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے، جسے محفوظ اور منظم انداز میں واپس لانا ضروری تھا۔ اس کے لیے تمام ادارے مل کر ایک ایسا فریم ورک تیار کر رہے ہیں جس کے تحت بسنت کو بین الاقوامی معیار کا تہوار بنایا جاسکے۔

شہریوں کی جانب سے بسنت کے اعلان کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ فروری اور مارچ کی یہ دو تقاریب لاہور میں نہ صرف رنگوں کا اضافہ کریں گی بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیں گی، جس سے سیاحت اور مقامی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین