چین کا جدید ’’جیو تیان‘‘ ڈرون کیریئر،100 خودکش ڈرون لے جانے کی صلاحیت، دنیا بھر کے دفاعی ماہرین حیران

ہتھیاروں سے لیس فضائی سوارم ٹیکنالوجی کا نیا دور شروع؟

چین نے عالمی دفاعی توازن میں ایک بڑی تکنیکی چھلانگ لگاتے ہوئے ’’جیو تیان‘‘ (Jiu Tian) نامی دیوہیکل فضائی ڈرون کیریئر کی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی۔ یہ واحد ڈرون نہیں بلکہ ڈرون لانچ کرنے والا پلیٹ فارم ہے، جو جدید ترین خودکش ڈرونز کے سوارم حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے—اور یہی خصوصیت اسے عالمی سطح پر دفاعی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا رہی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق جیو تیان نے شمال مغربی صوبے شانشی میں اپنی آزمائشی پرواز مکمل کی۔ چینی حکام نے اس پرواز کی درست تاریخ ظاہر نہیں کی، تاہم بتایا کہ آزمائش تمام تکنیکی معیارات پر پوری اتری ہے۔

جدید ترین ٹیکنالوجی کا شاہکار

یہ ڈرون کیریئر ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا (AVIC) کے ماتحت فرسٹ ایئرکرافٹ انسٹیٹیوٹ نے تیار کیا ہے۔ جیو تیان کو مکمل طور پر خودکار، مربوط اور جدید اسٹرل ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں درج ذیل نمایاں خصوصیات شامل ہیں:

 زیادہ وزن اٹھانے کی بھرپور صلاحیت
 انتہائی طویل پرواز
 وسیع رینج
 مختصر رن وے میں ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت
ہتھیار بردار مشنز اور الیکٹرانک وارفیئر میں استعمال

100 خودکش ڈرونز لے جانے کی زبردست صلاحیت

جیو تیان کو پہلی بار 2024 میں ژوہائی ایئر شو میں پیش کیا گیا، جہاں اس کی سب سے حیران کن خصوصیت سامنے آئی—
یہ پلیٹ فارم 100 چھوٹے ’لوئٹرنگ منیشنز‘ یا خودکش ڈرونز لے جا سکتا ہے، جنہیں اس کے دونوں جانب موجود لانچ پوائنٹس سے چھوڑا جا سکتا ہے۔

یہ صلاحیت کسی بھی روایتی فضائی دفاع کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ سو ڈرونز کا بیک وقت حملہ جدید ترین دفاعی نظاموں کو بھی غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔

ہتھیاروں اور آلات کی وسیع رینج

جیو تیان میں 8 ہارڈ پوائنٹس موجود ہیں جن پر:
 مختلف قسم کے میزائل
سرویلنس آلات
الیکٹرانک جنگی سسٹمز
ریکانائسنس ٹیکنالوجی

لگائی جا سکتی ہے۔ اس طرح یہ پلیٹ فارم محض ایک ڈرون نہیں بلکہ بہ یک وقت سرویلنس، اسٹرائیک، دفاعی اور الیکٹرانک وارفیئر کا مجموعہ بن جاتا ہے۔

فوجی ماہرین کا ردعمل

چینی فوجی تجزیہ کار سونگ ژونگ پِنگ نے جیو تیان کو ’’اصل ڈرون کیریئر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم مستقبل کی جنگوں میں بڑے پیمانے پر سوارم حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان کے مطابق:“اس طرح کے حملوں کا دفاع کرنا مخالف کے فضائی دفاعی نظام کے لیے نہایت مشکل ہوگا، کیونکہ سینکڑوں خودمختار ڈرونز ایک ساتھ مختلف زاویوں سے حملے کر سکتے ہیں۔”

اہم تکنیکی خصوصیات (Specifications)

شنہوا کے مطابق جیو تیان کی تکنیکی خصوصیات کچھ یوں ہیں:

  • لمبائی: 16.35 میٹر

  • ونگ اسپین: 25 میٹر

  • زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن: 16 ٹن

  • پے لوڈ صلاحیت: 6,000 کلوگرام

  • مسلسل پرواز کی مدت: 12 گھنٹے

  • زیادہ سے زیادہ فیری رینج: 7,000 کلومیٹر

یہ اعداد و شمار اسے دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور ڈرون پلیٹ فارمز میں شامل کرتے ہیں۔

جیو تیان کا منظر عام پر آنا صرف ایک نیا ہتھیار متعارف کروانا نہیں، بلکہ عسکری حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
سوارم ٹیکنالوجی (Swarm Warfare) جنگ کے مستقبل کا اہم عنصر بنتی جا رہی ہے، اور چین نے اس پلیٹ فارم کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس میدان میں کسی بھی ملک سے پیچھے نہیں۔

یہ نظام امریکہ کے MQ-9 Reaper جیسے پلیٹ فارمز کے مقابلے میں زیادہ سوارم کیپسٹی رکھتا ہے،
 اپنے دفاعی حریفوں کو پریشان کرنے کے لیے کافی ہے،
 اور جنگی ماحول میں فیصلہ کن برتری فراہم کر سکتا ہے۔

خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اس کا گہرا اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ بڑے پیمانے پر خودکش ڈرون حملوں کے خلاف کسی بھی ملک کے پاس ابھی مناسب دفاعی ڈھال موجود نہیں۔

عوامی رائے

کئی دفاعی تجزیہ کار اسے ’’ڈرون جنگوں کا نیا دور‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
کچھ افراد چین کی تیزی سے بڑھتی دفاعی صلاحیتوں کو خطرہ سمجھ رہے ہیں، خصوصاً انڈو پیسیفک خطے کے ممالک۔
بہت سے لوگ سوارم ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو عالمی سکیورٹی کے لیے چیلنج قرار دیتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے شوقین افراد اسے مستقبل کی جنگی حکمت عملی کی سب سے جدید مثال کہہ رہے ہیں۔

میری رائے

میرے نزدیک جیو تیان نہ صرف ایک ڈرون ہے بلکہ جنگی ٹیکنالوجی میں ایک بڑی چھلانگ ہے۔
100 خودکش ڈرونز کی سواری، 7 ہزار کلومیٹر رینج، الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیت اور 12 گھنٹے مسلسل پرواز… یہ سب مل کر اسے ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیتے ہیں جو مستقبل کی جنگوں کے انداز کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ آنے والا دور روایتی جنگوں کا نہیں، مصنوعی ذہانت، خودکار ہتھیاروں اور سوارم ڈرونز کا ہوگا۔

اس نئی دفاعی ٹیکنالوجی پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین