اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ناصر بٹ) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے حکومت کو اربوں روپے بچانے کا طریقہ بتا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ملکی سطح پر زیتون کی پیداوار کو بڑھا لے تو خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں روپے بچائے جا سکتے ہیں۔ وہ جمعہ کے روز ساتویں نیشنل اولیو گالا میں بطورِ مہمانِ خصوصی شریک تھے، جہاں ملک بھر سے زرعی ماہرین، کسان، تحقیقاتی اداروں کے نمائندگان اور نجی شعبے کے سینکڑوں شراکت دار موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا موسم اعلیٰ معیار کی زیتون کاشت کے لیے نہایت موزوں ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ زیتون اب محض تجرباتی فصل نہیں رہا بلکہ ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے نے نہ صرف ہزاروں کسانوں کو منافع بخش روزگار فراہم کیا ہے بلکہ یہ ذریعہ معاش موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں بھی زیادہ محفوظ ثابت ہو رہا ہے۔
رانا تنویر حسین نے اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان خطے میں زیتون کی کاشت، پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کا نمایاں مرکز بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیتون کی فروغ سے خوردنی تیل کی درآمد میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ دیہی معیشت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسان ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور حکومت انہیں معیاری پودوں، جدید تحقیق اور آئل ایکسٹریکشن سہولیات کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں چھوڑے گی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ زیتون پاکستان کی ایک اسٹریٹجک فصل بن چکا ہے، جو پانی کی کمی والے علاقوں کے لیے بہترین انتخاب ہے اور موسمیاتی چیلنجز کے مقابلے میں پائیدار حل پیش کرتا ہے۔ ان کے مطابق زیتون کی ویلیو چین میں نوجوانوں اور خواتین کے لیے بے شمار کاروباری مواقع جنم لے رہے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والا زیتون کا تیل صحت بخش، معیاری اور بہترین متبادل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا "اولیو ہب” بننے کا سفر کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اور حکومت اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی ناصر بٹ نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں زیتون کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کاشت نہ صرف زرعی ترقی کا ایک نیا باب ہے بلکہ معاشی خود کفالت کی طرف ایک مضبوط قدم بھی ہے۔ عالمی سطح پر خوردنی تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور درآمدات پر بڑھتے ہوئے انحصار نے پاکستان کے لیے زیتون کو ایک اسٹریٹجک فصل بنا دیا ہے۔ رانا تنویر حسین کے مطابق ملک کا موسم، جغرافیہ اور مٹی کی ساخت زیتون کی کاشت کے لیے غیر معمولی طور پر موزوں ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان آنے والے برسوں میں خطے میں زیتون کی سب سے بڑی پیداوار اور پروسیسنگ کا مرکز بن سکتا ہے۔
زیتون کی کاشت کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ پانی کی کمی والے علاقوں میں بھی بہتر اگتا ہے، یوں یہ فصل موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کے مقابلے میں ایک مضبوط اور دیرپا حل فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ زیتون کے شعبے نے دیہی معیشت میں نئی روح پھونک دی ہے، جس سے ہزاروں کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کے لیے ویلیو چین کے مختلف مراحل میں روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت جدید تحقیق، معیاری پودوں، اور تیل نکالنے کی جدید سہولیات کی فراہمی کو جاری رکھے تو پاکستان نہ صرف اپنی خوردنی تیل کی درآمدات میں خاطر خواہ کمی لا سکتا ہے بلکہ زیتون کے تیل کی برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ اس شعبے میں موجود بے پناہ امکانات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اسے ایک باقاعدہ زرعی صنعت کے طور پر ترقی دی جائے تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں "اولیو ہب” بننے کے خواب کو حقیقت میں بدل سکے۔
زرعی اور معاشی ماہرین پاکستان میں زیتون کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ایک "گیم چینجر” قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق زیتون نہ صرف ایک نقد آور فصل ہے بلکہ ملکی معیشت کو درآمدی انحصار سے نکالنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا موسمی تنوع، خصوصاً پوٹھوہار ریجن، خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع اور بلوچستان کے کئی علاقے زیتون کی کاشت کے لیے عالمی معیار کے مطابق موزوں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر موجودہ رفتار سے پودے لگانے، تحقیق کو فروغ دینے اور ویلیو چین کو وسعت دینے کا عمل جاری رہا تو آنے والے چند برسوں میں پاکستان میں زیتون پیداوار کا حجم خطے کے بڑے ممالک کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ زیتون کی فصل پانی کی شدید قلت والے علاقوں میں بھی کامیابی سے اگتی ہے، جس کے باعث یہ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے بہترین متبادل فصل ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق زیتون کی کاشت نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گی بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث متاثر ہونے والی زمینوں کو دوبارہ قابل کاشت بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سالانہ اربوں روپے کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے، اور زیتون اس مالی دباؤ کو کم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت پروسیسنگ یونٹس، برانڈنگ، مارکیٹنگ اور ایکسپورٹ میکانزم کو مضبوط بنائے تو پاکستان نہ صرف مقامی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ یورپ اور خلیجی ممالک کو اعلیٰ معیار کا زیتون تیل بھی برآمد کر سکتا ہے۔
بالآخر، ماہرین متفق ہیں کہ زیتون کی صنعت پاکستان میں دیہی ترقی، زرعی جدیدیت، نوجوانوں کے لیے روزگار، اور قومی معیشت کی مضبوطی میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس شعبے کو ایک منظم پالیسی، مستقل سرپرستی اور عالمی معیار کی تحقیق کے ساتھ آگے بڑھایا جائے، تاکہ پاکستان جلد ہی خطے کا حقیقی “اولیو ہب” بن سکے۔





















