بھارت کی اشتعال انگیزی کا خمیازہ خود اسے بھگتنا پڑ گیا، آئی پی ایل کو اربوں ڈالر کا تاریخی نقصان

فرنچائز سطح پر بھی 10 میں سے 9 ٹیموں کی برانڈ ویلیو میں شدید کمی ریکارڈ ہوئی

دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ کہی جانے والی آئی پی ایل 2025 میں شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی ہے اور بھارت کی علاقائی کشیدگی نے خود اس کی اہم ترین کھیلوں کی پراپرٹی کی ویلیو کو تباہ کر دیا ہے۔ عالمی مالیاتی تجزیاتی اداروں برانڈ فنانس اور دی اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آئی پی ایل کی مجموعی قیمت 12 ارب ڈالر سے کم ہو کر صرف 9.6 ارب ڈالر رہ گئی جو کہ 20 فیصد کی غیر معمولی گراوٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بھارت کی اندرونی سیکیورٹی صورتحال نے آئی پی ایل کے پورے نظام کو شدید متاثر کیا کیونکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث لیگ کے دوران تقریباً ایک ہفتے تک 16 میچز معطل رہے جن میں ناک آؤٹ مرحلے کے اہم مقابلے بھی شامل تھے۔

اس اچانک رکاوٹ نے نشریاتی اداروں، اشتہاری کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو زبردست نقصان پہنچایا اور لیگ کی رفتار مکمل طور پر ٹوٹ گئی جس سے نہ صرف اشتہارات کی نمائش کم ہوئی بلکہ ٹی وی ریٹنگز اور مارکیٹ انگیجمنٹ بھی شدید متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ آن لائن حقیقی رقم والے گیمنگ اشتہارات پر حکومتی پابندی نے آئی پی ایل کو ایک اور بڑا دھچکا پہنچایا کیونکہ یہ کیٹیگری پہلے لیگ کے بڑے اسپانسرز میں شمار ہوتی تھی اور اس کے باہر ہونے سے آمدن کا اہم ذریعہ ختم ہوگیا۔ مزید یہ کہ کرپٹو کرنسی سے منسلک اسپانسرز کے انخلاء اور میڈیا انڈسٹری میں تبدیلیوں نے بھی آئی پی ایل کے کمرشل ماڈل پر دباؤ بڑھایا۔

2025 میں پہلی بار پاکستان سپر لیگ کے ساتھ میچز کی تاریخیں ٹکرانے سے بھی آئی پی ایل کے ناظرین، ریٹنگز اور اشتہاری دلچسپی پر منفی فرق پڑا کیونکہ ایشیائی مارکیٹ میں ناظرین کی توجہ دو بڑے ٹورنامنٹس میں تقسیم ہوگئی۔ اسی کے ساتھ آنے والی میگا نیلامی سے جڑی غیر یقینی صورتحال نے فرنچائز مالکان اور اسپانسرز میں بے چینی بڑھائی جس سے لیگ کی کمرشل ترقی مزید سست ہوگئی۔

فرنچائز سطح پر بھی 10 میں سے 9 ٹیموں کی برانڈ ویلیو میں شدید کمی ریکارڈ ہوئی۔ ممبئی انڈینز کی قیمت 108 ملین ڈالر رہی مگر اس میں بھی 9 فیصد کمی ہوئی، رائل چیلنجرز بنگلورو کی ویلیو 105 ملین ڈالر تک رہی مگر 10 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، چنئی سپر کنگز کی قدر 24 فیصد کمی کے ساتھ 93 ملین ڈالر رہ گئی جبکہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی ویلیو 33 فیصد کم ہو کر 73 ملین ڈالر پر آ گئی۔ سن رائزرز حیدرآباد اور راجستھان رائلز میں بالترتیب 34 اور 35 فیصد کمی ہوئی۔ حیران کن طور پر گجرات ٹائٹنز واحد فرنچائز ثابت ہوئی جس کی برانڈ ویلیو میں 2 فیصد اضافہ ہوا اور 70 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق چنئی سپر کنگز برانڈ اسٹرینتھ میں سب سے آگے رہی جبکہ مالیاتی قدر کے لحاظ سے ممبئی انڈینز پہلی پوزیشن پر رہی۔

مجموعی طور پر یہ مالیاتی گراوٹ ثابت کرتی ہے کہ علاقائی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات، میچز کا تعطل، اشتہاری پابندیاں اور نیلامی سے جڑی بے یقینی نے آئی پی ایل کے مالیاتی ڈھانچے کو براہ راست متاثر کیا اور ساختی مسائل نے اس کی طویل مدتی کمرشل رفتار سست کر دی۔

آئی پی ایل کی حالیہ مالیاتی گراوٹ ایک واضح پیغام ہے کہ کھیل جتنا بھی مضبوط یا عالمی سطح پر مقبول کیوں نہ ہو، سیاسی عدم استحکام، سیکیورٹی خدشات اور علاقائی تناؤ سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا۔ بھارت کی اشتعال انگیزی اور خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ نے خود اس کی اپنی سب سے منافع بخش لیگ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر بھارت کرکٹ کی عالمی برتری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے کھیل کو سیاست سے الگ رکھتے ہوئے سیکیورٹی ماحول بہتر بنانا ہوگا ورنہ ایسی گراوٹ آئندہ برسوں میں اور زیادہ بڑھ سکتی ہے۔

عوامی رائے

کئی شائقین کہتے ہیں کہ بھارت نے اپنے ہی اقدامات سے کھیل کا نقصان کیا ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل اب پہلے جیسی ناقابل شکست لیگ نہیں رہی، بہت سے ماہرین کے مطابق یہ خسارہ بھارت کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ اسے کھیل کو سیاسی کھینچا تانی سے الگ رکھنا ہوگا جبکہ کچھ حلقے اسے کھیل کے کاروبار میں اصلاحات لانے کا موقع بھی سمجھتے ہیں۔

میری رائے

میرے خیال میں آئی پی ایل کی گرتی ویلیو ثابت کرتی ہے کہ کھیل کے کاروبار کو سیاسی تنازعات اور سیکیورٹی بحرانوں سے الگ رکھنا ناگزیر ہے۔ بھارت نے اگر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو آئی پی ایل کی مالیاتی برتری مستقل خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لیگ کو بچانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین